کراچی بس حملہ ، زخمی خاتون نے پولیس کو ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا

کراچی بس حملہ ، زخمی خاتون نے پولیس کو ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا
کراچی بس حملہ ، زخمی خاتون نے پولیس کو ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) صفورہ گوٹھ کی حدودمیں مسافربس پر فائرنگ سے خواتین سمیت 45افرادمارے گئے ہیں اوراِن کے ساتھ کچھ خوش قسمت لوگ بھی تھے جن کی جانیں بچ گئیں ۔

جائے وقوعہ سے پانچ سے سات کلومیٹردورواقع میمن ہسپتال میں زیرعلاج زخمی خاتون نے بتایاکہ قریبی فلیٹوں سے روانگی کے چند ہی منٹ بعد گاڑی رک گئی جس کے بعد باہر فائرنگ ہوئی اور پچھلے دروازے سے تین افراد بس کے اندر گھس آئے جس پر ابتدائی طورپر اُنہوں نے سمجھاکہ ڈاکو آگئے ہیں ۔ملزمان نے اندر داخل ہوتے ہی ڈرائیور کو زدوکوب کیا اور بس میں موجود دوبچوں کو الگ کیا جس کے بعد سب کو سر نیچے کا حکم دیدیاگیا۔ وہ نیچے ہی دیکھ رہی تھیں کہ اسی دوران بس میں موجود ایک شخص نے ’شوٹ آﺅٹ‘ کی آوازدی اور پھر بس کے اندر فائرنگ شروع ہوگئی جس سے چیخ و پکار شروع ہوگئی، بس وہیں رک گئے جبکہ حملہ آور کچھ لیے بغیر نیچے اتر گئے اورباہر شدید فائرنگ شروع ہوگئی ۔ ملزموں کے نیچے اترنے کے بعد کچھ لوگوں نے مدد کی اور بس چلناشروع ہوگئی، اس کے بعد کچھ معلوم نہیں ۔

بس پر حملے کی تفصیلی خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔

پولیس کے سوال کے جواب میں خاتون نے بتایاکہ ملزموں کی درست تعداد معلوم نہیں کیونکہ وہ پچھلے درواز ے آئے اور بس کے اندر آتے ہی ہلچل مچادی جس کی وجہ سے باہر دھیان نہیں دیا، علیحدہ کیے جانیوالے بچوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئے ؟ بس میں تھے یا ملزم اپنے ساتھ لے گئے ۔

پولیس کا کہناتھاکہ خاتون کا یہ ابتدائی بیان تھا ، حالت بہترہونے پر دوبارہ بیان لیاجائے گا، خاتون کو نہایت سخت سیکیورٹی میں رکھاگیاہے ۔ ہسپتال ذرائع کاکہناہے کہ خاتون کوبھی گولی لگی ہے لیکن اس کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔

مزید : قومی