ایبٹ آباد آپریشن ، پاکستانی حکام نے انٹیلی جنس افسرکی غداری کا اعتراف کرلیا؟خبررساں ادارے کا تہلکہ خیزدعویٰ

ایبٹ آباد آپریشن ، پاکستانی حکام نے انٹیلی جنس افسرکی غداری کا اعتراف ...
ایبٹ آباد آپریشن ، پاکستانی حکام نے انٹیلی جنس افسرکی غداری کا اعتراف کرلیا؟خبررساں ادارے کا تہلکہ خیزدعویٰ

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوٰی کیا ہے کہ دو سینئر پاکستانی افسران نے ایجنسی کو بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی معاونت پاکستانی انٹیلی جنس کے ایک باغی اہلکار نے کی تاہم دونوں افسران نے اس بات کی تردید کی کہ اس معاملے میں دونوں ملکوں نے مل کر کام کیا تھا۔

 اسی دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت سیمور ہرش کی رپورٹ کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے اور جلد اپنے رد عمل کا اظہار کرے گی۔ دونوں افسران کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صحافی سیمور ہرش نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان خفیہ معاہدہ تھا جس کے نتیجے میں القاعدہ چیف اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی۔

 وائٹ ہاﺅس نے دوٹوک انداز میں ہرش کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے کہ آپریشن کے حوالے سے پاکستان کو پیشگی اطلاع دیدی گئی تھی۔ منگل کو نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے ایک ذریعے، جو اسامہ کے خلاف کارروائی کے وقت ایک حاضر سروس فوجی افسر تھا، نے بتایا کہ پاکستانی انٹیلی جنس کے اس باغی کے پاس بہت وسائل تھے اور وہ زیادہ متحرک بھی تھا اور وہ درمیان درجے کا انٹیلی جنس افسر تھا جس کی کوششیں اس آپریشن میں اہم ثابت ہوئیں۔ یہ ذریعہ اس مددگار انٹیلی جنس کا حوالہ دے رہا تھا جس کا ذکر سیمور ہرش نے اپنی رپورٹ میں بھی کیا ہے۔ تاہم، اس ذریعے نے بتایا کہ اس باغی افسر کو یہ علم نہیں تھا کہ اس کا ہدف اسامہ بن لادن ہے بلکہ اسے ایک ایسا ہدف ملا تھا جس سے القاعدہ سربراہ کی شناخت کی تصدیق میں مدد مل جاتی۔ تاہم، اس ذریعے نے ہدف کی وضاحت نہیں کی۔ تاہم، پاکستانی تفتیش سے معلوم ہوا تھا کہ امریکی سی آئی اے نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مدد سے ایک جعلی پولیو ویکسین مہم شروع کی تھی جس کے ذریعے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے تھے۔

 باغی کے کردار کے حوالے سے ذریعے کا کہنا تھا کہ اس شخص کو کافی عرصہ بعد میں کام میں شامل کیا گیا تاکہ صرف زمینی سطح پر تصدیق کا کام کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس باغی کا تعلق آئی ایس آئی سے نہیں تھا اور اب وہ امریکا میں مقیم ہے۔ ایک اور ذریعے، سابق آئی ایس آئی چیف حمید گل، کا تھا کہا انہیں اس باغی کا علم تھا، انعام بہت بڑا تھا اسلئے وہ ایجنٹ بن گیا اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ واضح رہے کہ امریکا نے اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد دینے والے کو 25 ملین ڈالرز انعام دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔ تاہم دونوں سابق پاکستانی عہدیداروں نے اس بات کی تردید کی کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اس سلسلے میں کوئی معاہدہ تھا۔ آپریشن کے وقت حاضر سروس سینئر فوجی افسر کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد ملک میں مجموعی سطح پر موڈ بہت خراب تھا حتیٰ کہ اعلیٰ سطح پر بھی پریشانی پائی جاتی تھی، اگر سینئر سطح پر افسران اس منصوبے کا حصہ ہوتے تو وہ شدید متاثر ہوتے۔ ان پر تقریباً مستعفی ہونے کا دباﺅ تھا۔

مزید : اسلام آباد