سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کے مجموعہ نعت میرے حضورﷺ پر ایک نظر

سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کے مجموعہ نعت میرے حضورﷺ پر ایک نظر
سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کے مجموعہ نعت میرے حضورﷺ پر ایک نظر

  

سیّد محمد وجیہ السیّما عرفانی ؒ کثیر الجہات شخصیت تھے ان کی زندگی کا بڑا حصہ دین کی تبلیغ اور تصوف کے احوال و مسائل اور معاملات ومشاہدات کی تعبیرو تشریخ میں گزرا انہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا اور مودات و حکالمات بھی جاری رکھا۔ میرے حضور ﷺ ،سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کا نعتیہ مجموعہ ہے اردو نعت نے گذشتہ ربع صدی میں مقدار اور معیار دونوں حوالوں سے بہت ترقی کی ہے۔ نعت کی اس روز افزوں ترقی اور وسعت کے سبب جہاں مطالعہ نعت کی نئی نئی صورتیں سامنے آتی ہیں وہاں مختلف اصناف شاعری میں نعت کی صنف کے از سر نو مقام و مرتبہ کے تعین کا سوال بھی پیدا ہوا ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ اردو کی دوسری اصناف سخن کی طرح نعت کا آغاز بھی ابتدائے شعر اردو سے ہو گیا تھا ۔دکنی دور کی مثنویوں سے اس کا سراغ ملنا شروع ہوجاتا ہے۔مثنوی کے ساتھ غزل ،رباعی ،مسدس، قصیدہ اور دوسری اصنافِ شاعری میں بھی یہ موضوع اظہار پذیر ہوا ۔عصر حاضر میں اس کا ہےئتی دائرہ اور پھیلاؤ اور طویل یک کتابی نظموں جیسے مصرا نظم،آزاد نظم ،مسدس،قطعہ،نثری نظم تک کی اصناف میں نعت گوئی ہوتی اور ہو رہی ہے اور اس کا ہےئتی دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے ۔

صنفی اور ہےئتی پھیلاؤ کے ساتھ موضوعاتی طور پر بھی نعت رسول اکرمﷺ میں تنوع پیدا ہوا ہے خصوصاً شعرائے کرام کے علاوہ صوفیائے کرام نے اپنی نعتیہ شاعری میں حیرت و تاثیر کے نئے راستے کھولے ہیں ۔’’میرے حضور ﷺ ‘‘ 54نعتوں پر مشتمل کتا ب ہے جو اپنی خصوصیت اور مضامین کے تنوع کے اعتبار سے ایک قابل قدر مجموعہ ہے ۔ذکر رسول ﷺ و سیرت کے بیان ،درود کی تلقین اور رسول پاک ؐ کی ذات مبارکہ سے محبت سے مزین یہ اشعار سید محمد وجیہ السیما عرفانی کے عشق رسول ؐ کا منہ بولتا ثبوت ہیں مجموعہ کی پہلی نعت درود کی تلقین اور ترغیب سے شروع ہوتی ہے اور اس کا اختتام بھی درود پاک کے حوالے سے ہوتا ہے ۔اس نعت کا مقطع دیکھئے۔

الٰہی صلِ و بارک علیٰ رسول اللہ

وعلیٰ آلہ و سلام علیہ، بسم اللہ

مروجہ بحروں میں لکھی گئی یہ نعتیں ترنم اور موسیقیت کے وصف سے بھرپور ہیں ۔شریعت اور احکام شریعت پر کار بند رہتے ہوئے عرفانی ؒ صاحب نے ایک خوبصورت اور موثر پیرائے میں نعت کے مضامین بیان کیے ہیں ۔مضبوط مذہبی بنیادوں پر تعمیر شدہ نعت کی یہ عمارت نعت گو کے پختہ عقائد کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

درود ذات نبی ؐ پر ، یہ ا لتزام سلام

جہاں جہاں کوئی لیتا ہے ان کا نام سلام

ان کی نعتوں کی ردیفیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جو قاری کو ایک خاص قسم کی کیفیت میں لے جاتی ہیں ۔ان کی نعتوں کی چند ردیفیں ملاحظہ کیجئے۔ السلام علیک ،رسول کریم ہیں،رسول اللہ ،رسول پاک کی ذات، صل اللہ علیہ والہ وسلم،ان کو ہر دم سلام۔ زیادہ تر نعتیں غزل کی ہےئت میں لکھی گئی ہیں لیکن کچھ نعتیں نظم کی ہےئت میں بھی لکھی گئی ہیں ۔عرفانی صاحب کی نعتیہ نظمیں بھی اپنی تاثیر او ر مضامین کے تنوع کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں ۔ عرفانی صاحب کی نعت گوئی میں نعت کے وہ تمام مضامین و موضوعات پائے جاتے ہیں ۔جن کا تعلق ذات رسالت مآب ؐ ،آپ ؐ سے محبت،آپ ؐ کے شہر اور دوسرے متعلقات سے محبت،آپ ؐ کی نسبت کے حوالے سے آپ ؐ کے اصحابؓ ،اہل بیت عظام سے محبت ، مدینے سے دوری کی کیفیات ،حاضری کی تمنا اور آپ ؐ کی ذات مبارکہ سے شیفتگی کا بیان ۔ عرفانی صاحب کی نعت گوئی اردو میں صوفیائے کرام کی نعت گوئی کے حوالے سے ایک منفرد رنگ رکھتی ہے ۔اس کا مطالعہ دلوں کیلئے روشنی اور حصول برکت کا سبب ہے ۔

گرجدا بینی زحق تو خواجہ را

تن ہم گم کر دی ہم دیبا چہ را

تصوف کے سلاسل میں شیخ سلسلہ اور خواجہ طریقت کو خدا تعالیٰ اور رسول پاک ؐ کی نیابت کے درجہ پر تصور کیا جاتا ہے ۔تصوف کے تمام سلاسل میں شیخ کی ذات میں فنا ہو کر ہی عرفان و ولائیت کی تما م منزلیں طے کی جاتی ہیں ۔فنا فی الشیخ ، فنا فی الرسول ، فنا فی اللہ ،سبھی مراحل میں اتباع شیخ ایک لازمہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔عرفانی صاحب کے مناقب کا یہ مجموعہ ،خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی شخصیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ان کے اوصاف حمیدہ ،محاسن جلیلہ اور ذات بابرکت سے لے کر پیغام اور منصب تک۔۔۔مضامین و موضوعات کا ایک نورانی سلسلہ ہے جس کے اظہار میں عرفانی صاحب کی محبت اور عقیدت کا دریا موجیں مار رہا ہے ۔ اردو شاعری کی تاریخ میں مناقب اولیاء کی تالیف کا ایک طویل سلسلہ ہے ۔معاصر اردو منقبت نگاری ،’’ خواجہ ؒ ہی خواجہ ؒ ‘‘ اس حوالے سے ممتاز حیثیت کی حامل ہے کہ ان کاخالق خود صاحبِ سلسلہ اور تصوف سے وابستہ ایک اہم صاحبِ دل ہے ۔ خواجہ ؒ ہی خواجہ ؒ میں عربی ، اردو اور انگریزی زبان میں پینتالیس تخلیقات ہیں ۔جو بحو ر،آہنگ اور اسلوب کے تنوع اور موضوعاتی رنگا رنگی کے سبب پڑھنے کے لائق ہیں ۔اس کتاب کی اشاعت سے عرفانی صاحب کی منقبت نگاری کا صرف تخلیقی رُخ ہی سامنے نہیں آیا بلکہ اردو زبان کو بھی ایک اہم مجموعہ منقبت مل گیا ہے ۔وابستگان سلسلہ کے علاوہ دوسرے سلاسل سے جڑے ہوئے لوگوں کے لئے بھی اس مجموعہ مناقبت میں دلوں کو گرمانے اور دماغوں کو روشنی بخشنے کا مبارک سامان موجود ہے ۔اپنے جملہ فنی اور فکری محاسن کے سبب یہ کتاب ذوق و شوق سے پڑھی جائے گی۔

مزید : کالم