بلوچستان میں900گھوسٹ سکول

بلوچستان میں900گھوسٹ سکول
 بلوچستان میں900گھوسٹ سکول

  

بلوچستان اب بھی بد قسمت صوبہ ہے کہ جہاں بدترین کرپشن ایک طویل عرصے سے موجودرہی ہے اوراس پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ کسی کا صحیح احتساب بھی نہیں ہو رہا اس لئے صوبے کے وسائل کو لوٹنے والے آزاد پھر رہے ہیں ان میں کئی تو اسمبلی میں موجود ہوں گے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک نئی کرپشن متعارف ہوئی اور وہ ہے اسمبلی میں پہنچنے کے لئے جعلی ڈگری کا رواج۔ اس نے علماء کو رسوا کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس منصوبے میں جہاں علماء اس کے دام فریب میں آئے، وہاں ان پڑھ سیاست دان بھی اس کی گرفت میں آگئے۔ علماء حق نے بی اے کی جعلی ڈگریاں حاصل کیں تو دوسری طرف میٹرک پاس سیاست دانوں نے بھی اس سیاسی حمام میں بی اے کی جعلی ڈگریاں کوڑیوں کے مول خریدیں، جنرل پرویز مشرف کے دباؤ میں جعلی ڈگریاں قانونی بنا دی گئیں، جمعیت علماء کے ایک شخص نے پہلے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور ایف اے کی سند ایک سال کے بعد حاصل کی، یہ ایک شرمناک عمل تھا۔

بلوچستان میں 900 گھوسٹ سکولوں کا انکشاف وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے یونیسف کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ بلوچستان میں 900 گھوسٹ سکول اور تین لاکھ بچوں کا گھوسٹ اندراج ہے، اس کا بھی انکشاف کیا کہ صوبے میں تین ہزار اساتذہ ڈیوٹی دیئے بغیر تنخواہیں لے رہے ہیں اور کہا کہ آج بھی پیسے دے کر نوکریاں دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ تین ہزار اساتذہ کہاں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں، معلوم نہیں، لیکن تنخواہ برابر وصول کررہے ہیں،لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان اساتذہ کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور وہ کون سے آفیسر تھے، جنہوں نے 900 گھوسٹ سکول کھولے، ہم سب جانتے ہیں کہ 900گھوسٹ سکولوں میں ایک بڑی تعداد سکول اساتذہ کی ہو گی، ان کی عمارتیں ہوں گی، ان کا عملہ ہو گا، بجلی کا بل آتا ہو گا، فرنیچر ہو گا، ان کی تنخواہیں ہوں گی، عمارتوں کا سالانہ رنگ وروغن ہوتا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر سال ان سکولوں کے بچوں کو مفت کتب فراہم کی جاتی ہوں گی اور لاکھوں کی تعداد میں کتابوں پر لاکھوں روپے خرچ کئے گئے ہوں گے۔

عبدالمالک کو یہ بھی بتانا چاہئے تھا کہ صوبہ بلوچستان میں یہ گھوسٹ سکول کب سے قائم کئے گئے تھے؟ یہ تو انہوں نے بتلا دیا کہ تین لاکھ بچوں کا بوگس اندراج تھا، ہر بچے کو ہر سال کتابوں کا سیٹ مفت فراہم کیا جاتا ہے، مگریہ سیٹ پانچ کتابوں کا ہو تو ہرسال 15 لاکھ کتابیں دی گئی ہوں گی، یہ بھی جعلی اندراج ہو گا ، یوں ان سکولوں کے ذریعے بلوچستان کو کروڑوں روپوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہوگاان اسکولوں میں اساتذہ کو کس نے بھرتی کیا اور جن اساتذہ نے یہ کالا دھندہ کیا ان پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا گیا، ان کو تو گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔ یہ صوبہ بلوچستان کے عوام کے مجرم تھے، ان کو جتنی تنخواہیں دی گئیں، ان سے واپس لی جانی چاہئے تھیں یہ تو بہت بڑے تاریخی جرم کا سکینڈل تھا، عبدالمالک اتنے بڑے سکینڈل پر خاموش کیوں رہے؟ اینٹی کرپشن کیس تھا، ان کے حوالے کیاجانا چاہئے تھا، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نیب کے حکام اتنے بڑے سکینڈل پرکہاں ہیں، سیاسی پارٹیاں کیوں خاموش ہیں، اسمبلی کیوں خاموش ہے؟

مزید :

کالم -