لاہور کا ایک عظیم تدریسی ادارہ گورنمنٹ ایم اے او کالج

لاہور کا ایک عظیم تدریسی ادارہ گورنمنٹ ایم اے او کالج

گورنمنٹ ایم اے او کالج ، لاہور چوبرجی ریوازگارڈن ، ہیلی کالج آف کامرس ، گورنمنٹ کالج ، لاہور ، لیڈی میکلیگن کالج ، گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز، یونیورسٹی کالج آف ایجوکیشن ، پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس اور نیشنل کالج آف آرٹس جیسے اعلیٰ معیار کے اداروں کے جھرمٹ میں اپنی مخصوص اور منفرد روایات کے باعث برصغیر پاک و ہند کی اعلیٰ درسگاہوں میں ایک ممتا زمقام کا حامل ہے۔

قیام پاکستان سے قبل یہ ادارہ لاہور میں سناتن دھرم کالج کے نام سے قائم تھا ۔ 1946 ء میں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک جلوس سناتن دھرم کالج کے سامنے سے گزرا تو کالج کے اندر سے فائرنگ کی گئی ۔ جس کے نتیجے میں ایک مسلمان طالب علم عبدالمالک شہید ہو گیا۔ اس پر لاہور کے مسلمانوں میں شدید ردعمل ہوا اور حضرت قائد اعظم ؒ اپنی لاہور آمد کے بعد بطور خاص شہید طالب علم کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لئے گئے جو ایک منفرد واقعہ اور منفرد اعزاز ہے۔

انجمن اسلامیہ امرتسر جو سرسید احمد خاں کی تحریک علی گڑھ کو آگے بڑھا رہی تھی اور جس کی ایک شاخ لاہور میں تھی۔ اس انجمن نے لاہور کے سناتن دھرم کالج کو ایم اے او کالج کا نام دے کر یہاں مسلمان پرنسپل اور اساتذہ کا تقرر کیا اور سناتن دھرم کالج امرتسر منتقل ہو گیا ۔ گورنمنٹ ایم اے او کالج کے ہال کے اوپر ایک کتبے پر سناتن دھرم کالج کا پورا احوال درج ہے۔

گورنمنٹ ایم اے او کالج میں

تدریسی سہولیات

گزشتہ سات سالوں سے گورنمنٹ ایم اے او کالج میں دس مختلف مضامین میں بی ایس (آنرز) اور آٹھ مضامین میں ایم اے ، ایم ایس سی کی کلاسز جاری ہیں۔ جب بی ایس آنرز کی کلاسوں کا اجراء کیا گیا تو تجربہ کار اساتذہ اور لائبریری و لیبارٹریز کی سہولیات کا فقدان تھا لیکن کالج اساتذہ اور متعلقہ پرنسپل صاحبان نے ان کورسز کو کامیاب بنانے کے لئے کوششیں کیں۔ جن کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔

کالج کے نامور اساتذہ

مختلف ادوار میں ڈاکٹر امداد حسین ، ڈاکٹر دلاور حسین، کرامت حسین جعفری، پروفیسر احمد سعید ، عطاء الحق قاسمی، امجد اسلام امجد ، طفیل دارا، عارف عبدالمتین ، پروفیسر ارشد بھٹی، رانا فیاض حسین ، حفیظ صدیقی، خواجہ منصور سرور، ڈاکٹر نسیم ریاض بٹ، پروفیسر حیات محمد خان، چوہدری محمد صدیق، پروفیسر خورشید احمد، انور شاہ ارشد، پروفیسر حیدر ، ارشد خان بھٹی، شیخ منظور علی، خالد محمود ہاشمی، عابدتہامی، احمد علیم، مجید ملک، شاہد چوہدری، ڈاکٹر ناصر رانا ، حسن سلطان کاظمی، شہباز علی ، جواز جعفری، امجد طفیل، ظفر جمال، سعیدالحق ، جلیل حسن نقوی، بشیر احمد قادری اور سینکڑوں ایسے نابغہٗ روزگاراور معتبر اساتذہ اس کالج کے سٹاف سے وابستہ رہے ہیں۔ اس وقت بھی تمام مضامین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بیرون واندرون ملک سے کوالیفائیڈ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد تدریسی فرائض سرانجام دے رہی ہے۔

سربراہان ادارہ

قیامِ پاکستان سے قبل ہی یہاں اعلیٰ درجے کے منتظم پرنسپل صاحبان موجود رہے ۔ جنہوں نے اس ادارے کو عظمت کی بلندیوں سے آشنا کیا۔ ان میں ڈاکٹر امداد حسین ، کرامت حسین جعفری، احمد حسین تاج، میاں بشیر احمد ، ایس اے حامد، مسعودالحق صدیقی، ظفر اقبال چیمہ، مقصودالحسن بخاری، ظفرالمحسن پیرزادہ، ڈاکٹر فرحان عبادت یار خان، راشد نجیب اور موجودہ پرنسپل پروفیسر طاہر یوسف بخاری شامل ہیں۔

کالج میگزین ’’اقرا‘‘

کالج میگزین "اقرا" کا قائد اعظم نمبر پروفیسر ایس اے حامد پرنسپل کے دور میں شائع ہوا ۔ جس کے حصہ اردو کے نگرانی پروفیسر احمد سعید تھے۔ اقرا ایک اعلیٰ معیار کا علمی و ادبی مجلہ ہے۔ جس کی مجلس ادارت میں احمد علیم جیسے معروف اساتذہ شامل ہیں۔ جبکہ کالج میگزین " اقرا" کی مجلس ادارت (اردو)میں ڈاکٹر جوازجعفری اور ڈاکٹر امجد طفیل شامل ہیں۔

پوسٹ گریجویٹ بلاک

کالج میں ایک نوتعمیر شدہ خوبصورت پوسٹ گریجویٹ بلاک شامل ہے ۔ جہاں تمام پوسٹ گریجویٹ شعبہ جات اور ان کے سٹاف روم موجود ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ بلاک کے باہر کیفے ٹیریا ہے جبکہ کالج کی لائبریری میں جدید و قدیم کتابوں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔

ایم اے او کالج کی نیشنلائزیشن

1972 ء میں دیگر کالجوں کے ساتھ ایم اے او کالج کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ۔ جس کے بعد اساتذہ کرام کو سہولیات حاصل ہوئیں اور ان کا سماجی معیار بلند ہوا۔

اقامتی سہولیات

آج کل کالج میں طلباء و طالبات کے لئے اقامتی سہولیات نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے دیگر شہروں سے آنے والے طلباء و طالبات کو پرائیویٹ ہوسٹلز میں رہنا پڑتاہے۔

قدیم دور کے نامور اساتذہ

انجمن اسلامیہ امرتسر کے قدیم دور کے نامور اساتذہ میں فیض احمد فیض ، صاحبزادہ محمودالظفر، پروفیسر امداد حسین، صغیر حسین، دلدار خان مقبل، ایم ڈی تاثیراور قاضی محمد فرید قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ فزکس میں نصیر احمد پال ، کیمسٹری میں ڈاکٹر ایم اے عظیم جیسے معروف اساتذہ بھی اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2


loading...