مدارس کی مخالفت آخر کیوں؟

مدارس کی مخالفت آخر کیوں؟

دینی مدارس اسلام اور مسلمان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں،مگر ان کے بارے میں کئی قسم کے شکوک و شبہات پیدا کئے گئے اور ان کی حیثیت کو معاشرے میں مشتبہ اور متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔اس کے باوجود ان اداروں نے ہر قسم کے بحرانوں،ہنگاموں،مصائب و مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی وجود سے امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا اور ان کے دلوں کے اندر اسلام کا ولولہ تازہ پیدا کیا۔ان کی وجہ سے چاردانگ عالم میں اسلامی تعلیمات کوفروغ ملا اور عالم اسلام کی عہد ساز شخصیات یہاں پروان چڑھیں۔

یہ مدارس جو امت مسلمہ کے غمخوار و خیر خواہ ہیں،مسلمانوں کی اکثریت ان میں اپنے بچوں کی داخل کروانا پسند نہیں کرتی،بلکہ انکا رجحان دن بدن انگلش میڈیم سکولز اور عصری تعلیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔نتیجتاً مدارس کے ساتھ تعاون،دینی تعلیم کے حصول کی رغبت میں کمی اورطلبہ کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے،جس کی بنیادی وجہ مغربی و یورپی ممالک،این جی اوز،مدارس سے نابلدنام نہاد سکالرز،دنیا کے حریص ذرائع ابلاغ نے مدارس کی خدمات اور اسلامی معاشرہ کے لئے مدارس اور ان سے منسلک اشخاص و معاونین کے خلاف بھرپور مہم شروع کر رکھی ہے اور اس کی کامیابی کے لئے دولت کا بے شمار تحاشا استعمال کیا جا رہا ے،مگر افسوس اس بات پر ہے کہ مدارس کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے میں بعض مسلمان بھی مہم جو نظر آتے ہیں۔

ان مدارس میں داخل ہونے والے بچے اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔یہیں پلے بڑھے ہیں،مڈل یا میٹرک تک صرف عصری علوم کے اداروں میں تعلیم حاصل کی،اس لئے معاشرے سے روشن خیالی اور جدت پسندی کے نام سے ملنے والے اثرات بد بعض اوقات ان میں موجود ہوتے ہیں۔انٹرنیٹ،کیبل کی وجہ سے کافی حد تک اخلاقی لحاظ سے کمزور ہوسکتے ہیں اور ابتدائی طلبہ ممکن ہے،بعض ناپسندیدہ امور ملوث ہوجائیں،مگر حقیقت یہ ہے کچھ عرصہ مدرسہ میں گزارنے کے بعد یہی طلبہ پابند صووصلوٰۃ ،باکردار،مصلح،شریف النفس،بڑوں اور اساتذہ کا اکرام کرنے والے اور ایک آئیڈیل مسلمان دکھائی دیتے ہیں۔ملک میں ہونے والے جرائم ودیکھیں تو کرپٹ،سمگلر ،چور،ڈکیت،زانی،شرابی،جواری وغیرہ افراد کا تعلق مدارس اور ان سے منسلک افراد سے نہیں ہوگا۔بلکہ امن کیمیٹیوں،فلاحی،رفاہی ،خیراتی اداروں،امر بالمعروف ونہی عن المنکر وغیرہ میں مدارس اور ان سے وابستہ اصحاب خیر نظر آئیں گے۔زلزلہ،سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے وقت خدمتِ انسانیت کے لئے دینی مدارس کے فیض یافتگان صف اول میں دکھائی دیں گے۔

خوشی و غمی کے موقع پر حکومتی عہدیداروں نمائندگان فوٹو سیشن کے لئے تو نظر آئیں گے۔مگر نکاح،غمخواری،خیر خواہی،میت کی تجہیزو تکفین اور تدفین اہل مدارس کے ہاتھوں ہوتی ہے۔اس کے باوجود مدارس کو دہشت گردی کے مراکزاور ان سے متعلقہ اشخاص کو وطن دشمن،دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

چور مچائے شور اور الٹا چور کو توال کو ڈانٹے کے مترادف مدارس کے آڈٹ کی بات وہ کرتا ہے جو ایک برس چند ہزار روپے ٹیکس ادا کرتا ہے تو اگلے چند برسوں میں کتئی ملوں کا مالک ہوتا ہے،لیکن اس سے کوئی بھی اس کا ذریعہ آمدن نہیں پوچھتا۔اہل مدارس کی پگڑی وہ اچھا لتا ہے،جس کی راتیں کلبوں میں گزرتی ہیں۔مدارس کے نصابِ تعلیم پر بحث وہ کرتا ہے،جسیے سورۂ اخلاص یاد نہیں۔مدارس کو دہشت گردی کے مراکز وہ کہتا ہے،جس کے دفاتر سے غیر ملکی اسلحہ برآمد ہوتا ہے۔مدارس سے متعلقہ تنکے کو شہیتر اور رائی کو پہاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔اگر مدارس دینیہ اور عصری علوم کے اداروں کاموازنہ کیا جائے تو حقیقت حال واضح ہوجائے۔

ذرائع ابلاغ کا تویہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اتنی کثرت سے جھوٹ بولا جائے کے سچ کا شا ئبہ ہونے لگے۔مدارس کے خلاف زہراگلنے والوں کو دکھائی نہیں دیتاکہ دھرنے ریلیاں،حکومت مخالف جلسے،جلوس،کبھی مدارس کی طرف سے نہیں ہوئے۔حکومتی معیشت کا پہیہ کبھی مدارس نے جام نہیں کیا،بلکہ مدارس نے ہمیشہ امن وآشتی کا پیغام دیا،ملکی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے کوشش کی۔

اب المیہ یہ ہے کہ اعتراف جرم کے باوجود سیاسی پنڈتوں سے تعلق رکھنے والے شخص کو سیاسی ہیرو اور بے گناہ علمائے کرام اور اسباب مدارس کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہمارے عوام بھی اتنے بھولے بھالے ہیں کہ جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر بلا سوچے سمجھے مدارس کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے دکھائی دیتی ہیں۔

لارڈ میکالے 2)فروری(1895لکھتا ہے:’’میں نے پورے برصغیر کا سفر کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تب تک برصغیر پاک وہند فتح نہیں کر پائیں گے،جب تک ہم یہاں کے لوگوں کو ان کے کلچر،ان کے اجداد کے کارناموں اور ان کی تاریخ سے دور نہ کردیں۔اس سب کے لئے ان کا تعلیمی نظام بدلنا ہوگا اور ان سب کو یہ باورکرانا ہوگا کہ یہ لوگ کم ترہیں اور ہم برتر۔‘‘

مغرب کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے دینی تشخص کو بحال رکھنے اور یورپ میں اسلام کے فروغ پانے اور بڑھتے ہوئے دینی رجحان کی وجہ یہ مدارس ہیں۔اس لئے لادین قوتیں کسی صورت بھی مدارس کے وجود کر برداشت نہیں کر پا رہیں،لہٰذا ان حالات میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا دیں،مدارس کی تعمیرو ترقی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کر یں اور ایک ذمہ دار مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...