فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز، قسط نمبر88

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز، قسط نمبر88
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز، قسط نمبر88

  

کمال کے بارے میں ایک بات کا ہمیں یقین رہا ہے وہ یہ کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی سے عشق نہیں کیا۔ وقت گزاری کے لیے فلرٹ یا ہلکے پھلکے رومانس کی بات علیحدہ ہے۔ ایک عمر ہوتی ہے جب نوجوانوں کو خود بخود ایسے کام کرنے کی امنگ ہوتی ہے۔ پھر وہ تو جس ماحول میں تھے وہاں رہ کر ایسا نہ کرتے تو حیرت کی بات ہوتی لیکن ان کا کردار ہمیشہ صاف ستھرا رہا۔ انہوں نے کبھی گناہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ ترغیبات کے باوجود اس سے بچے رہے، ان کی طبیعت میں سنجیدگی کا عنصر بہت کم ہے۔ بہت کم چیزوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ فلمی رومانوں کے معاملے میں بھی وہ کبھی واقعی سنجیدہ نہیں ہوئے۔ یہ اور بات ہے کہ فریق مخالف سنجیدہ ہوگیا۔ حساب کتاب کرنے میں وہ بہت ماہر ہیں۔ نفع نقصان کا حساب کیے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔ تو پھر شادی جیسا اہم کام حساب کتاب کیے بغیر کیسے کرلیتے؟ جہاں تک ہم انہیں جانتے ہیں وہ رومانس اور شادی کے معاملے میں بھی ہمیشہ حساب کتاب کرتے رہے۔ مثلاً اگر مھسوس کیا کہ ’’دل لگی‘‘ حد سے بڑھنے لگی ہے اور فریقِ مخالف بالکل سنجیدہ ہوگیا ہے تو کمال قلم کاغذ لے کر حساب کرنے بیٹھ گئے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز، قسط نمبر87 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اگر یہ شادی ہوگئی تو کیا ہوگا؟ فائدہ کیا ہے؟ اور اگر یہاں شادی نہ کی تو نقصان کیا ہوگا؟

مثال کے طور پر ایک زمانے میں جب وہ ایک ہیروئن کے ساتھ رومانس میں بہت آگے نکل گئے گویا سنجیدہ ہونے لگے تھے تو انہوں نے فوراً حساب کتاب شروع کردیا۔ یہاں تک کہ ایک بار ہم سے بھی مشورہ لیا۔

’’سوفی۔ کیا خیال ہے تمہارا۔ اگر اس لڑکی سے میں نے شادی کرلی تو کیا ہوگا؟‘‘

’’شادی ہوجائے گی اور کیا ہوگا۔ تم دونوں باقاعدہ میاں بیوی بن جاؤ گے‘‘۔

’’مگر اس کے بعد؟‘‘

’’اس کے بعد بچے ہوں گے‘‘۔

’’بس یہی تو مصیبت ہے۔ تم خود ہی سوچو۔ کیا لوگ ان بچوں کو عزت دیں گے۔ انہیں ایکٹریس کے بچے کہیں گے۔ سوسائٹی میں ان کا کیا مقام ہوگا۔ خاندان والے ان کے بارے میں کیا سوچیں گے؟‘‘

ہم چپ رہے۔

بولے ’’ان بچوں کو اچھے خاندانوں میں رشتے کیسے ملیں گے؟ ان میں احساسِ کمتری پیدا ہوجائے گا اور پھر ہماری تو آئندہ نسل ہی خراب ہوجائے گی۔ رومانس اور چیز ہے مگر شادی۔۔۔‘‘

وہ سگریٹ سلگا کر سوچ میں پڑ گئے۔

پھر پوچھنے لگے ’’تم بولو۔ تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’وہی جو تمہارا خیال ہے کہ یہ باتیں تو سوچنی پڑیں گی۔ شادی تو ساری زندگی کا معاملہ ہوتا ہے بلکہ نسلاً بعد نسلاً یہ سلسلہ چلتا ہے‘‘۔

وہ سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ اس موضوع پر ان سے دوبارہ بات نہیں ہوئی۔ کمال برابر والے بیڈ پر پریشان حال بیٹھے ہیں۔ بال بکھرے ہوئے ہیں۔ آنکھیں لال ہو رہی ہیں۔ چہرے پر پریشان کے آثار ہیں۔

اقبال یوسف نے گھبرا کر پوچھا ’’خیریت تو ہے۔ کیا بات ہے؟‘‘

انہوں نے کہا ’’اقبال۔ اس کم بۃت نے ہم سے فراڈ کیا ہے‘‘۔

’’کس نے؟‘‘

’’ماچس والے نے۔ ہر ڈبیا میں چار تیلیاں کم ہیں‘‘۔

’’اچھا۔۔۔ مگر تمہیں کیسے معلوم ہوا؟‘‘

’’یار میں چھ سات بار گن چکا ہوں‘‘۔

اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو شخص ماچس کی تیلیوں کے معاملے میں اس قدر باریکی سے حساب کتاب کرتا ہوگا وہ ذاتی زندگی اور شادی کے بارے میں کتنا غور و خوض کرتا ہوگا۔

فلمی ہیرو بننے کے بعد کمال کو بہت تیزی سے فلمی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہوگئے۔ ان میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ فلم کا ہیرو نہ صرف فلم بینوں کا بلکہ فلمی اداکاروں کا بھی محبوب نظر بن جاتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے صنف نازک کی توجہ اور عنایات کا مرکز بننا پڑتا ہے اور ان حالات میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ ماحول اور حالات سے متاثر نہ ہو۔ چنانچہ کمال کے ساتھ بھی یہی ماجرا پیش آیا۔ ابتدائی دنوں میں وہ اپنی ساتھی فنکاراؤں سے متاثر ہوا کرتے تھے مگر جب ہیرو بن گئے الٹا ہوگیا۔ ایک چلبلی رقاصہ ہیروئن کے ساتھ ان کی دلچسپی اتنی بڑھی کہ موضوع سخن بن گئی۔ لیکن اسے محض وقتی رومانس کہا جاسکتا ہے۔

کمال کے ساتھ دوسرا نام شمیم آراء کا منسوب ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ بعض امور پر اختلاف بھی تھا لیکن اس کے باوجود ان کی باہمی دلچسپی اور وابستگی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی۔ کمال نے اس موضوع پر ہم سے کبھی کھل کر بات نہیں کی، نہ ہی ہم نے انہیں کریدا حالانکہ اس رومان کی خبریں لوگوں کی زبانوں سے گزر کر اخبارات کے کالموں تک پہنچ گئی تھیں۔ البتہ ایک بار انہوں نے ہم سے یہ تذکرہ ضرور کیا تھا کہ یار سوفی اگر میں کسی فلمی ایکٹریس سے شادی کرلوں تو میرے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ خاندان والے اور معاشرہ انہیں کیا مقام دے گا؟ ہم نے حسب مقدور انہیں مشورہ دیا اور اس کے مختلف پلو دکھائے۔ اس وقت بھی کئی اصحاب نے فلم ایکٹریسوں سے شادی کرلی تھی اور معاشرے میں وہ پہلے والی ناپسندیدگی بھی نہیں تھی۔ لوگ کچھ زیادہ وسیع الخیال ہوگئے تھے۔ پوزیشن، شہرت اور دولت حاصلہو تو ان چیزوں سے چشم پوشی کرلی جاتی تھی۔ لیکن اگر کوئی زیادہ حساس ہو تو اس کے لیے یہ مسئلہ سوہان روح بھی بن جایا کرتا تھا۔ کمال اس معاملے میں کتنے ان کے دل میں کیا ہے؟ یہ صرف وہی جانتے ہیں یا اللہ میاں۔ ہمارے خیال میں کمال ذہنی طور پر سو فیصد شمیم آرا سے شادی کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کرسکے تھے، ادھر شمیم آرا پر اس زمانے میں نانی اماں اور خاندان کی بندشیں بہت زیادہ تھیں جن سے مقابلہ ان کے بس کی بات نہ تھی۔ ہمارا اندازہ ہے کہ اگر شمیم آرا کو اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل ہوتی (جیسی کہ بعد میں ہوئی) تو شاید ان کی اور کمال کی شادی ہوجاتی۔ ایک بار کمال نے شمیم آرا کو رات کے وقت ان کے گھر سے لے جانے کے لیے وقت بھی دیا تھا مگر وہ حسبِ وعدہ نہ پہنچے اور وہ ساری رات انتظار ہی کرتی رہیں۔ اس بات نے بھی شمیم آرا کو کمال سے بدظن کردیا۔ بہر حال، یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -