’’ہمیں ایسی حالت میں سونے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ۔۔۔‘‘بڑے ملک میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کہ سن کر کوئی بھی کانپ جائے

’’ہمیں ایسی حالت میں سونے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ۔۔۔‘‘بڑے ملک میں کام کرنے ...
’’ہمیں ایسی حالت میں سونے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ۔۔۔‘‘بڑے ملک میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کہ سن کر کوئی بھی کانپ جائے

  

وکٹوریہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا بھر میں گھروں میں کام کرنے والی رہائشی خواتین کے لئے مالکان نے سرونٹ کوارٹر تعمیر کئے ہوتے ہیں جہاں گھریلو ملازمین کام کاج کے بعد تنہا یا پھر اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں ،گھریلو ملازمین کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کی خبریں اکثر و بیشتر منظر عام پر آتی رہتی ہیں ،لیکن حال ہی میں ہانگ کانگ میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے حوالے سے انتہائی خوفناک انکشاف سامنے آیا ہے ، ہانگ کانگ میں لاکھوں گھریلوخادماؤں کی حالت کافی خستہ ہے اور انہیں بیت الخلاء، باورچی خانے، چھوٹے کمروں اور بالکنی میں سونے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہانگ کانگ میں کام کاج کی تلاش میں اپنا دیس چھوڑ کر دوسرے ملکوں سے آنے والی خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم’’مشن فار مائیگرینٹ‘‘ (ایم ایف ایم ڈبلیو)نے مہاجر خواتین کے حوالے سے کئے جانے والے ایک سروے میں انکشاف کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین ملازماؤں کی حالت انتہائی خستہ اور انکے رہن سہن کی حالت کافی تشویش ناک ہے ۔انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنے سروے میں کہا ہے کہ ہانگ کانگ میں گھریلو خواتین ملازماؤں کی تعداد 3لاکھ 50ہزار تک ہے ،جو زیادہ تر فلپائن اور انڈونیشیا کی رہنے والی ہیں اور روٹی روزی کی تلاش میں اپنے وطن سے دور ہانگ کانگ میں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ہانگ کانگ میں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرنے والی خواتین ملازماؤں کو بیت الخلاؤں (غسل خانوں )کچن (باروچی خانوں)چھوٹے چھوٹے کمروں اور گھروں میں موجود بالکونیوں (ٹیرس )میں سونا پڑتا ہے ،جبکہ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہانگ کانگ میں گھروں میں کام کرنے والی 5خواتین میں سے ہر 3عورتیں بدترین زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جبکہ کئی بار ان کی صحت اور سیکیورٹی کو  بھی شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

ایم ایف ایم ڈبلیو کی طرف سے 3ہزار گھریلو خواتین ملازماؤں پر کئے گئے سروے میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ 43فیصد خواتین کے پاس رہائش کے لئے اپنا کمرہ تک نہیں اور انہیں مالکان کی طرف سے سٹور روم، باورچی خانہ، بیت الخلاء ، تہہ خانوں اور بالکنی میں سونے کے لئے کہا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ خوفناک ہے کہ ہم مالکان کو گھریلو خواتین ملازماؤں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، یہ جدید دور کی انتہائی بدترین غلامی ہے،ان خواتین ملازماؤں کو رہنے کے لئے مناسب جگہ دی جانی چاہئے اور انہیں بھی انسان سمجھا جانا چاہئے۔اس سروے میں گھریلو خواتین ملازماؤں کا کہنا تھا کہ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی مالکان کا حکم ماننا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ،اگر ہم مالکان کی مرضی سے متفق نہ ہوں تو ہمیں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں یا پھر ملازمت فراہم کرنے والی ایجنسی میں واپس بھیج دیا جاتا ہے ،ایسے میں مالکان کی بات ماننے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’’ایم ایف ایم ڈبلیو‘‘نے ہانگ کانگ حکومت پر زور دیا کہ گھریلو خادماؤں کو نامناسب رہائش فراہم کرنے کے خلاف قانون بنایا جائے اور ایسے قوانین کو ختم کیا جائے جس سے انہیں اپنے آجروں کے ساتھ جانوروں کی طرح رہنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔دوسری طرف اس سروے رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہانگ کانگ کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے گھروں میں کام کرنے والی خواتین ملازماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مالکان کے بارے میں محکمہ میں شکایت درج کرائیں جو ان کے لئے رہائش کا مناسب انتظام نہیں کرتے ،حکومت خواتین ملازماؤں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والے مالکان کے خلاف کارروائی کے لئے تیار ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -