الیکشن 2018ء :پرانی سوچ کے ساتھ نیا تجربہ

الیکشن 2018ء :پرانی سوچ کے ساتھ نیا تجربہ
الیکشن 2018ء :پرانی سوچ کے ساتھ نیا تجربہ

  

عوامی رائے کیا ہے اور کون سی جماعت مقبول ہے یہ سب غیر جانبدارتجزئیے اپنی جگہ، لیکن پاکستان کے الیکٹورل نظام سے گہری واقفیت رکھنے والوں کا تجزیہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام آباد کی لیبارٹریوں میں زرخیز و ذہین تخلیق کار اگلے پانچ سال کے لئے کون سانیاتجربہ کرنے جار ہے ہیں اس کے لئے عوامی رائے کیا بنائی جائے ،کون سی جماعت کو مقبول قرار دیا جائے ،کس کے حق میں سروے کرا کر اسے عوامی پذیرائی ملنے کی توقع ظاہر کی جائے ،کون سے لیڈر کو گنگا دھلا پیش کیا جائے اور کسے کرپٹ ،کس جماعت کی حکومت بنے گی اور کون زیادہ ووٹ لے گا اس کے خدوخال الیکشن سے پہلے واضح ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

الیکٹورل نظام کے چوردروازوں کو جاننے والے انتہائی غور سے یہ سب عمل دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کیا تجربہ ہونے جا رہا ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ برسراقتدار حکومت سے اسٹیبلشمنٹ خوش ہے یا نالاں اس کے لئے اگلے الیکشن میں پلے گراؤنڈ دوسری جماعتوں کی طرح میسر ہے یا اسے باہر سے بیٹھ کر سارا کھیل تماشائی کی حیثیت سے دیکھنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور حریفوں کو اس پر واک اوور مل رہا ہے ۔

الیکٹ ایبل کے گروہ کو کس طرف دھکیلا جارہا ہے ۔

کس جماعت پر دست شفقت رکھا جارہا ہے۔اقتدار میں رہنے والی جماعت کی کرپشن کی خیالی اور نیم خیالی داستانیں کس خفیہ مقام پر بیٹھ کر تیار کی جارہی ہیں اور انہیں مشتہر کرایا جارہا ہے ۔ نت نئے سیکنڈل پیش کرکے عوام کے سامنے ان کی بھیانک تصویر پیش کی جارہی ہے۔

بد قسمتی سے ہماری ہر منتخب حکومت کے تعلقات اسٹیبلشمنٹ سے خراب رہتے ہیں۔ہر منتخب وزیراعظم کو ہم نے آخر کار یہی کہتے سنا ہے کہ ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔

منتخب وزیراعظم اپنی مرضی سے فیصلے کرے گا۔ اسے یہی شکائت ہوتی ہے کہ اسے آزادانہ کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے۔کوئی بھی وزیراعظم جب اس قسم کے بیانات دینے شروع کردیتا ہے تو جہاندیدہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب اگلے انتخابات میں اس کی پارٹی کی حکومت بننا مشکل ہے۔

فصلی بٹیرے،روائتی لوٹے اور سیاسی پارٹیاں بدل کر ہر حکومت کا حصہ بننے والے ابن الوقت چھلانگیں مار کر نئی پارٹی میں جانے لگتے ہیں۔کچھ ہوا کا رخ دیکھ کر جاتے ہیں تو کچھ کو خود ہوا اٹھا کر لے جاتی ہے اور یہی چالیس پچاس لوگ دوسری پارٹی میں جاکر جیتنے کا ماحول بنا دیتے ہیں۔

اچانک اس پارٹی کا پلڑا بھاری نظر آنے لگتا ہے ۔

ہمارے ہاں مقبولیت کی یہی ہوا چلتی ہے کہ الیکٹ ایبل کس طرف جا رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے کس پارٹی سے تعلقات بہتر ہیں۔حلقوں کے دھڑے بھی یہی دیکھتے ہیں اور وہ بھی پینترا بدل لیتے ہیں۔ہمارے ہاں ہر سیاسی پارٹی ،حلقوں میں دھڑے یا کوئی ادارہ اس کا نظریہ ایک ہی ہے وہ ہے ’’نظریہ ضرورت ‘‘۔

مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کے بھی مقتدر حلقوں سے ساتھ تعلقات کوئی اتنے خوشگوار نہیں رہے ۔دھرنا سیاست کے پیچھے انہیں انہی خلائی قوتوں کا ہاتھ نظر آتارہا۔ڈان لیکس پر بھی بہت غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

بھارت سے تعلقات میں بھی سوچ کا واضح فرق محسوس کیا گیا۔اب تو میاں نواز شریف کے بیانات سے کھل کر یہ صورتحال واضح ہورہی ہے کہ انہیں اپنے نکالے جانے کے پیچھے سازش کا یقین ہے وہ جلسوں میں اس کا کھل کا اظہار کر رہے ہیں۔

میاں صاحب ایک مزاحمتی لیڈر کے طور پر خود کو پیش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے کوئی بھی وزیراعظم صرف ایک فقرے کی حد تک مزاحمت کرتا تھا کہ ’’ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘‘ جب کہ ہم یہ مزاحمت اور احتجاج سڑکوں اور عوامی اجتماعات میں نہیں دیکھتے تھے۔

موجودہ صورتحال میں جب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے سیاسی جماعتوں اور خصوصاً مسلم لیگ( ن) پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ اس نے انتخابات شفاف بنانے کے لئے کوئی کام نہیں کیا ۔

انہوں نے کوئی ایسا شفاف عمل واضح نہیں کیا جس سے راتوں رات نتائچ بدلنے،آر اوزکے اثر انداز ہونے یا خلائی مخلوق عوامی مینڈیٹ تبدیل نہ کرسکے۔ میاں صاحب انتخابات کے شفاف عمل کو یقینی بنا جاتے تو یہ ان کا اس ملک پر بہت بڑا احسان ہوتا۔

الیکشن کمیشن کا آزادانہ و خود مختار ادارہ قائم کرنا بھی ان کا اس ملک و قوم پراحسان ہوتا اور جمہوریت کی مضبوطی لئے بھی مثبت عمل ثابت ہوتا،میاں صاحب کا اپنا بھی اس میں فائدہ تھا ،لیکن میاں صاحب کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا بھی وقت آسکتا ہے کہ پنجاب کے اقتدار اور جی ٹی روڈ بیلٹ کے لوگوں کو ہانک کر ان سے دور کر دیا جائے گا۔وہ شائد یہ تصور کئے بیٹھے تھے کہ اور کچھ نہیں تو پنجاب تو آئندہ کئی برسوں تک ان کی راجدھانی کا حصہ رہے گا ۔

میاں صاحب کے جارحانہ بیانات اور کھل کر خلائی مخلوق پر تنقید سے بھی یہ بات ظاہر ہونے لگی ہے کہ میاں صاحب طاقتور حلقوں سے بہت مایوس نظر آتے ہیں۔

اقامہ پر نااہلی تو عدالتی فیصلہ ہے ،لیکن حقیقت میں میاں صاحب کی سب سے بڑی نااہلی الیکشن کمیشن کے ادارے کو آزاد و خود مختار نہ بننے دینا ہے۔

عدالتی آر اوز اور ماسٹروں کے قبضہ سے اسے آزاد کرانا بے حد ضروری تھا۔جو صورتحال کھل کر سامنے آرہی ہے اس کے مطابق تو مقتدار حلقے اگلی باری کے لئے ن لیگ کو اپوزیشن میں دیکھنے کے خواہاں ہیں۔اگر ہم اس سارے کھیل کا جائزہ لیں اور حالیہ چند واقعات کو اس کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں کہ جس میں میاں صاحب پر جوتا پھینکنے، خواجہ آصف پر سیاہی پھیکنے اور احسن اقبال پر فائرنگ کرنے تو یہ تصویر واضح ہونے لگتی ہے کہ اگلے انتخابات میں ن لیگ کو کمپین کی آزادی نہیں ہوگی جیسے 2013 میں پی پی پی کو خوفزدہ کر دیا گیا تھا اس بار یہی حربہ ن لیگ پر استعمال ہو رہا ہے جس کا اثر ہمیں جہلم کے جلسہ میں دیکھنے کو ملا، تحریک لبیک کو ایک خوف پھیلانے والے گروپ کے طور پر استعمال کیا جائے گا جو لوگوں کے مذہبی جذبات ابھارے گا اور ن لیگ کے آزادانہ کمپین کے رستے میں کھڑانظر آئے گا۔

اسلام آباد کی تجربہ گاہ میں نیا تجربہ جس کے خدوخال واضح ہور ہے ہیں وہ کچھ یوں دکھائی دے رہا ہے اور پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کرے گی۔روشن خیالی کی پالیسی جاری رکھی جائے گی اور ملا ازم کو مکمل آوٹ کرنے کا پلان نظر آتا ہے۔

مولویوں کے حصے میں ایک دو سیٹ ہی نظر آتی ہے۔اسلامی جماعتوں میں سب سے بڑا ووٹ بینک بریلوی مکتب فکر ہے جس کو متحدہ مجلس عمل سے دور رکھنے کا بندوبست بھی کر لیا گیا ہے اور مولوی خادم رضوی موجود ہے اب دینی جماعتوں کو آہستہ آہستہ سیاست و اقتدارسے دوبارہ حجروں کی طرف اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف بھیجنے کا بندوبست کیا جارہا ہے۔مولوی خادم رضوی سے صرف 2018ء کے انتخابات میں کام لیا جائے گا اس کے بعد اُن کے کردار پر پردہ گرجائیگا۔

مزید : رائے /کالم