تاریخ کی کروٹ

تاریخ کی کروٹ
تاریخ کی کروٹ

  

2مئی کے روزنامہ ”پاکستان“ کی خبر پڑھ کر مجھے ہر گز حیرت نہیں ہوئی۔ اس کی سرخی کچھ یوں ہے ”امریکہ میں ہر پانچواں بچہ غربت کی زندگی بسر کر رہا ہے“ اور پھر خبر میں تفصیل کچھ یوں دی گئی ہے کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے بچوں کی اکثریت سیاہ نام ہے۔ یہ پڑھ کر مجھے دس برس پیشتر کی وہ رات یاد آ گئی، جب مونٹریال جاتے ہوئے مجھے نیو یارک کے ایک ہوٹل میں قیام کرنا پڑا تھا۔ اس کی پانچویں منزل پر مجھے کمرہ ملا تھا۔ عقبی بالکونی سے سامنے عمارات کا ایک دلکش جال بچھا نظر آتا تھا۔ رات کے کھانے کے بعد مَیں نے وہاں کھڑے ہو کر اردگرد کے ماحول کو غور سے دیکھا۔ ہوٹل کے پچھواڑے سڑک کے فٹ پاتھ پر درجنوں لوگ کمبلوں میں لپٹے سو رہے تھے۔ ساتھ والی سڑک پر اِکا دُکا گاڑی گزرتی تھی، جانبی سڑکوں پر بھی ٹریفک اژدہام نہیں تھا، مَیں واپس کمرے میں آ گیا۔

مونٹریال کے لئے میری پرواز اگلے دن سہ پہر چار بجے تھی، اس لئے سونے کی جلدی نہیں تھی، ٹیلیویژن لگا لیا عالمی بکھیڑے تھے۔ اناﺅنسر بڑی گرمجوشی سے کانگو اور روانڈا میں برپا خانہ جنگی پر تبصرے کر رہے تھے۔ ایتھوپیا کے قحط کی باتیں تھیں، افغانستان میں امریکی اور ناٹو کی افواج کے بڑھتے قدموں کی ستائش تھی۔ عراقی صورت حال کے تجزیے تھے۔ خبریں ابھی جاری تھیں کہ ہوٹل کے عقب سے شور اُٹھا۔مَیں بالکونی میں پہنچا۔ نیچے نظر دوڑائی۔ عجب متحیر کن منظر تھا۔ ہوٹل کے پچھلے دروازوں سے رات کا بچا کھچا کھانا ملازم سامنے فٹ پاتھ پر رکھے نصف درجن کے قریب میونسپلٹی کے ڈرموں میں پھینک رہے تھے اور اردگرد کچھ وقت پہلے فٹ پاتھوں پر کمبلوں میں لپٹے محو ِ خواب بدن جھمگٹا کیے تھے۔ ڈرموں کے اندر پھینکے گئے ہوٹل کے گاہکوں کے بچے کھچے کھانے پر جھپٹ رہے تھے تھے۔

ایک دوسرے کو پیچھے دھکیل رہے تھے۔ نیم تاریکی میں ان کے ہاتھ ڈرموں کی گہرائی ناپ رہے تھے اور خوردنی اشیاءاکٹھی کر رہے تھے۔ جب باقی کچھ نہ رہا تو وہ درجنوں پلٹے اور فٹ پاتھ پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ اپنی جمع کردہ متاعِ عزیز سے پیٹ بھرنے لگے۔ مَیں کھڑا رہا۔ کوئی پندرہ، بیس منٹ کے بعد وہ فارغ ہوئے اور کمبل لپیٹ کر وہیں فٹ پاتھ پر پڑ رہے۔ ان میں بوڑھے بھی تھے اور جوان بھی۔ عورتوں اور بچوں کی بھی خاصی تعداد تھی، درجنوں تھے۔ عجب منظر تھا۔ میرے عقب میں سے ٹی وی کی آواز آ رہی تھی۔ عراق میں قیام جمہوریت کے لئے کی گئی امریکی مساعی اور فوج کی کامیابیوں کا ذکر تھا۔ افریقہ کو تاراج کرنے والے قحط کی تفصیل تھی۔ایران کو ملیا میٹ کرنے کے ارادے تھے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عظمت کے گیت تھے اور میرے سامنے پانچ منزل نیچے اسی عظیم امریکہ کے بے گھر شہری ہوٹل کی پھینکی خوراک سے دوزخ شکم کی آگ سرد کرتے جانوروں کی طرح لڑتے فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرتے تھے۔ نیو یارک کی چکا چوند میں تاریکیوں کا راج تھا۔

آج لاکھوں کی تعداد میں بے گھر شہری چوراہوں اور پارکوں میں شب بسری کرتے ہیں۔ ادارہ برائے شہری ترقی کے اعداد و شمار کے مطابق آج پانچ لاکھ53ہزار امریکی بے گھر ہیں۔ ان میں سے65 فیصد حکومت کی تعمیر کردہ پناہ گاہوں میں قیام پذیر ہیں، جبکہ باقی35فیصد اپنا زادِ زیست شانوں پر سنبھالے جہاں رات پڑے قیام کر لیتے تھے۔

2018ءمیں ہر دس ہزار شہریوں میں سے217 بے گھر تھے۔ یوں تو امریکہ کے ہر کونے میں بے خانماں اور مفلس شہریوں کا وجود ہے،لیکن5بڑے شہروں میں ان کا اژدہام ناقابل ِ برداشت ہو چکا ہے۔ کیلیفورنیا میں ان کی تعداد ایک لاکھ30ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ نیو یارک میں92ہزار کے لگ بھگ کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرتے ہیں۔ فلوریڈا میں جہاں سے امریکی عظمت و نخوت نے پرواز کر کے اپنا قدم چاند پر جا رکھا تھا ان کی تعداد31ہزار ہے اور ٹیکساس میں 25ہزار300 کے قریب امریکی رات فٹ پاتھوں اور پارکوں میں گزارتے ہیں۔واشنگٹن ڈی سی میں جہاں سے کرہِ ارض کو زیر نگیں رکھا جاتا ہے ساڑھے22ہزار شہری بے گھر ہیں۔المیہ یہ ہے کہ ان خانہ بدوشوں میں ایک بہت بڑی تعداد بچوں کی ہے،جن کا مستقبل در یوزہ گری کی نذر ہو رہا ہے۔

تاریخ کروٹ بدل رہی ہے۔اس نے حالیہ صدیوں میں اپنے کچھ اصول مرتب کر لئے ہیں۔ 18 ویں صدی کے وسط سے تاریخ نے کسی بھی سپر پاور یا استعمار کو آٹھ دہائیوں سے زیادہ کے لئے برداشت نہیں کیا اور اس کا تختہ اُلٹ دیتی رہی ہے اور یہ تبدیلی واقعات یا کسی نئی عروج پذیر قوت کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوتی رہی ہے۔ برطانوی تاجدار الیگزینڈرینا وکٹوریا کی پیدائش26مئی1819ءکو ہوئی۔ تاجپوشی20جون1837ءکے دن تھی، اور پھر اس سورج کے طلوع کا آغاز ہوا، جس نے نصف النہار پر پہنچ کر کرہ¿ ارض پر سے کبھی غروب نہ ہونا تھا۔اس کا عہد مورخین کے لئے ایک سنہری موضوع تھا،لیکن پھر تاریخ کے بھی کچھ ضوابط ہوتے ہیں۔

63 برس اور سات ماہ کی حکومت کے بعد جب وہ تخت سے دستبردار ہوئی تو برطانیہ کی عظمت زوال پذیر ہو گئی۔اس کے عہد میں برطانیہ عظمیٰ میں ہونے والی صنعتی، ثقافتی، سیاسی، سائنسی اور عسکری پیشرفت مدہم پڑ گئی۔ پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہوا اور روس کے بالشویک انقلاب نے دستک دے دی۔ پھر آٹھ دہائیاں کرہ¿ ارض پر سوشلزم نے اپنی تباہ کن قوت کا مظاہرہ کیا۔1980ءآیا اور اگلے دس برس میں کابل نے اس غلبے کا خاتمہ کر دیا اور اس کی جگہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اکلوتی سپر پاور بن کر اُبھرا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ہی واشنگٹن نے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا اور آج آٹھ دہائیاں بیت چکیں۔

تاریخ کو اپنا اصول قائم رکھنا ہے۔ نیا صفحہ پلٹنا ہے۔ اکلوتی سپر پاور اربوں ڈالر کی مقروض ہے۔بے گھروں کی تعداد روز افزوں ہے۔ کرہ¿ ارض پر سے اس کے قدم سمٹ رہے ہیں۔افغانستان اس کا قبرستان بننے کو ہے،نئی طاقت اُٹھ چکی ہے۔ چین براعظموں پر اپنے پَر پھیلا رہا ہے۔سی پیک، ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ، تاریخ کے نئے باب کا آغاز ہے۔ سپرپاور ایک ہی رہے گی اس کا مرکز بیجنگ ہو گا۔ اقبال انتہائی دور اندیش تھا:

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے

ہمالہ سے چشمے اُبلنے لگے

مزید : رائے /کالم