سرسبز پاکستان، مجھے میرا لاہور لوٹا دو

سرسبز پاکستان، مجھے میرا لاہور لوٹا دو
 سرسبز پاکستان، مجھے میرا لاہور لوٹا دو

  

آج تو پاسبان عقل کو تنہا ہی چھوڑنے کو دِل چاہتا ہے،صبح صبح باہر نظر ڈالی تو جھکڑ سے واسطہ پڑا، گلی میں دھول اُڑ رہی اور فضا میں مٹی گھلی ہوئی تھی، آنکھ کھولنا مشکل تو سانس لینے میں بھی دشواری تھی، بہرحال یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ موسمی مہینے بیساکھ کے بالکل آخری دن ہیں، دو تین دن میں جیٹھ کا مہینہ شروع ہو گا،جس کے بعد اساڑھ(ہاڑ) نے آنا ہے، جب موسم اعتدال پر تھا تو جاری مہینے میں گندم کی کٹائی ہوتی اور جھکڑ چلتے،قدرتی طور پر چلنے والی اس ہوا کی بدولت کسان گندم سے بھوسہ الگ کر لیتے تھے، اب تو حالات ہی مختلف ہیں، جدید ٹیکنالوجی کی بدولت تھریشر نے کام آسان کر دیا کہ کٹائی بھی آسان اور صفائی میں بھی دِقت نہیں، سب کام مشین ہی کر دیتی ہے۔اگرچہ کم رقبہ والے کسان اب بھی موسمی تھپیڑوں(جھکڑوں) ہی کے محتاج ہیں، ان کی مشین ان کے بیل ہیں۔ اگر خود زیادہ محنت نہ کر سکیں تو بیل کے پیچھے سہاگہ جیسی لکڑی باندھ کر اسے تھریشر بنا لیتے ہیں۔

گھر سے دفتر آتے آتے جھکڑ ٹھنڈی ہوا میں تبدیل ہو گئے، کچھ ٹھہراﺅ آیا تو آسمان پر بادل بھی نظر آنے لگے، یوں روزہ ٹھنڈا ہو گیا، دفتر آتے ہوئے جب مصطفےٰ ٹاﺅن کی مرکزی دو رویہ سڑک سے گزرتے ہوئے بس سٹاپ پر پہنچے تو معمول کا عمل ہی نظر آیا کہ اس دو رویہ مرکزی سڑک کے درمیان خوب چوڑی گرین بیلٹ پر پانچ چھ مالی نظر آئے جو خزاں میں گرے درختوں کے پتے سنبھال رہے تھے، تاہم یہ کام صرف ایک حصے میں ہو رہا تھا، جس کے دونوں کناروں پر صاحب ِ ثروت اور بااثر حضرات کی کوٹھیاں ہیں اور یہاں کا یہی معمول ہے کہ پی ایچ اے کے یہ سرکاری ملازم اسی ایک حصے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں،جبکہ اس سے آگے ان کی مہربانی کبھی کبھار ہوتی ہے۔

اسی حوالے سے یہ بھی یاد آیا کہ پی ایچ اے کی طرف سے بھی ”سر سبز پاکستان“ میں حصہ ڈالا گیا اور اس بے چاری گرین بیلٹ میں قریباً تیسری مرتبہ گڑھے بنائے گئے کہ شجرکاری ہو، جو اب تک نہیں ہو پائی، شاید اب اس کے لئے کسی تقریب کے انعقاد کا پروگرام بن رہا ہو، ویسے ان کی یہ محنت تو پہلے کی طرح ضائع ہی ہونا ہے کہ جس طرح پہلے شجرکاری کے موسموں میں لگائے گئے پودے کرامت کالونی سے آنے والی بھینسیں کھا گئیں اب بھی ان کی پیٹ پوجا ہی ہو گی کہ یہ مویشی ہر روز اسی گرین بیلٹ سے چارہ کھاتے ہیں کہ ان کے لئے چراگاہ ہے اور ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔

پی ایچ اے کی کارکردگی کا تازہ ترین نمونہ بھی یہیں نظر آیا، یہاں بائیں والی سڑک کے کونے اور کوٹھی کی گرین بیلٹ پر فروٹ کی دو کھوکھا یا جھگی نما دکانیں تھیں جو ایک سے دو ہوئی تھیں اور ان کو کسی نے کبھی نہیںاٹھایا تھا، ایک روز یہاں سے گزرے تو یہ دونوں تجاوزات صاف تھیں اور گرین حصے پر شجرکاری ہو چکی تھی، تعریف کرنے والوں نے تعریف اور ہم اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کہ یہ عارضی ثابت ہو گا۔ بہرحال ابھی تک تجاوز کرنے والوں کی واپسی تو نہیں ہوئی تاہم جب سے یہ پودے لگائے گئے ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں،حتیٰ کہ ان کو پانی تک نہیں لگایا جا رہا، نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ بتدریج مرجھا رہے ہیں اور ان کا انجام یہی ہو گا اور تجاوز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا،اللہ سے دُعا ہے کہ پی ایچ اے کے درجنوں ملازمین کو بھی اللہ کا خوف آ جائے۔

اس صورتِ حال نے ہمیں ماضی میں دھکیل دیا ایک تو ہمیں اپنا پیارا لاہور یاد آیا جو ”باغوں کا شہر“ تھا اور یہاں شدید گرمی بھی آرام سے گذر جاتی ، حتیٰ کہ چالیس، اکتالیس درجہ حرارت میں ہم لڑکے بالے کرکٹ بھی کھیل لیتے اور کبڈی بھی ہوتی رہتی تھی، اس دور میں مال روڈ(شاہراہ قائداعظم) تو ٹھنڈی سڑک کہلاتی ہی تھی کہ یہاں گھنے درخت تھے اور شام کے بعد فٹ پاتھ پر چہل قدمی والے جوڑے ٹہلتے تھے، آج جو لوئر مال گنجی اور جہاں میٹرو ٹریک کا پُل بن چکا ہے، یہ دو رویہ درختوں سے بھرپور سڑک تھی اور ناصر باغ جو تب گول باغ تھا ، بھرپور سبز ، پھولوں اور درختوں والا حصہ تھا، اسی طرح ہمیں تو لاہور شہر کی جان سرکلر باغات بھی یاد آتے ہیں،ان میں کھیل کود کر ہی ہم جواں ہوئے اور پھر خود اپنے ہی سامنے ان کو برباد ہوتے دیکھا، آنکھ کھولی، کھیلنے کے اہل ہوئے تو انہی باغات کا رُخ ہوا،یہ پرانے شہر کی فصیل کے اردگرد گھنے درختوں سے بھرے ہوئے تھے۔

لاہور کینال سے نہر نکال کر ان کو سیراب کرنے کا سلسلہ تھا، مغلپورہ سے پانی ریلوے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سے ہوتا ہوا، سرائے سلطان کی طرف آتا، سرائے سلطان کے باہر ایک چوڑا تالاب (سیڑھیوں والا) تھا۔ رام گلی قریب اور ہندوﺅں کی آبادی تھی، لالہ حضرات یہاں آ کر اشنان بھی کر لیتے تھے۔ ہم طالب علم گھر سے نکل کر یہاں نہانے آتے تھے۔ یہ نہر یہاں سے رام گلیوں کے ساتھ ہوتی ہوئی سرکلر روڈ کے نیچے سے اکبری دروازہ کے دائیں طرف برآمد ہوتی، یہاں بھی ایک کنواں نما گڑھا تھا، جہاں سے پانی باہر نکلتا اور پھر سیدھا بھاٹی گیٹ کی طرف چلا جاتا، ان گھنی چھاﺅں والے باغ میں گلی ڈنڈا، کبڈی اور کرکٹ کھیلی جاتی تھی اور بچپن جوانی میں ڈھلتا رہا، پھر آسمان نے دیکھا کہ باغ کا مشرقی حصہ ترقی کی زد میں آیا،

وہاں سڑک بنی اور سرکلر روڈ سنگل سے دو رویہ ہو گئی، اس کے بعد تو حد نہ رہی کہ نہر کے کنارے جھگیاں بنیں جو بالآخر دکانوں میں منتقل ہوئیں۔یہ قبضہ رکا نہیں، بڑھتا چلا گیا، تجاوزات پختہ کیا ہونا تھیں، یہاں تو پلازے بن گئے، ریلوے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سے بیرون اکبری دروازہ تک والی نہر بند کر دی گئی،اس پر بھی عمارتیں کھڑی ہو گئیں، خوبصورت سایہ دار باغات تباہ کر دیئے گئے اور آج وہاں یہ سب ختم ہو چکا، حتیٰ کہ تحریک پاکستان کے حوالے سے موچی دروازہ کے باہر والا باغ بھی ٹرکوں کے اڈے میں تبدیل ہو چکا،اب یہاں جلسے توکیا ہونا ہیں،یہی کہا جاتا ہے، ”اب یہاں کوئی نہیں،کوئی نہیں آئے گا“۔

قارئین! رو بہک گئی، تنہا چھوڑ دینے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ میرا یہ لاہور اب باغات کا نہیں، کنکریٹ اور پلوں کا شہر ہے، حتیٰ کہ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخی گراﺅنڈ بھی دھول اڑا رہی اور وہاں کنکر اور پتھر پڑے ہیں، وہ درخت، وہ سائے اور پھول نہیں رہے، اب تو ”آتا ہے یاد مجھ کو گذرا ہوا زمانہ“ والی بات ہے، طویل عرصہ ہوا کہ شہر نہیں جا سکے کہ اکبری منڈی پورے اندرون شہر میں پھیل چکی اور بازاروں ، گلیوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں،معلوم ہی نہیںکہ اپنے ہم عمر حضرات میں سے کون ابھی تک پرانے محلے میں ہے، اور کون نہیں، کون دُنیا سے رخصت ہوا اور کس کے لئے دُعا کرنا ہے، صرف اِکا دُکا دوستوں کا علم ہوا تو کوشش کر کے جنازہ میں شرکت کی وہ بھی آبائی محلے نہیں گئے، میانی صاحب کی جناز گاہ میں شرکت کی۔

اللہ رحم کرے کہ وہی مالک و رحیم ہے۔ خیال تھا، رمضان المبارک کے دن رات کا ماضی سے تقابل کریں گے کہ ذہنی رو بھٹک گئی، معذرت اور دُعا و استدعا ہے کہ سب مل کر لاہور کو لاہور تو بنا دو تاکہ کہا ”جائے لاہور، لاہور ہے“۔

مزید : رائے /کالم