کم سنی کی شادی: ہیولوں کا تعاقب

کم سنی کی شادی: ہیولوں کا تعاقب
کم سنی کی شادی: ہیولوں کا تعاقب

  

گزشتہ ہفتے امریکی قانون کا تفصیلی ذکر کیا جا چکا ہے۔سولہ امریکی ریاستوں میں کم سنی کی شادی کی کوئی عمر طے نہیں،چار میں 14 سال ہے، پورے امریکہ میں کم سنی کی شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال کہیں بھی نہیں ہے۔ چنانچہ اگر یہ کام امریکہ میں جائز ہو سکتا ہے تو یہاں پاکستان میںکیا رکاوٹ ہے؟ یہی وہ دلیل ہے جس کی بنا پر میں کہتاہوں کہ مذہب بیزار یا مذہب دشمن طبقہ کسی عقلی بنیاد پر اس کا مخالف نہیں ہے، مخالفت واقعتاً دین دشمنی پر مبنی ہے۔ اسی بنا پر میں انسانوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتا۔ میرے نزدیک ایک طرف یزدان کے خیمے میں مقیم انسان ہیں جو قانونِ فطرت کی حفاظت میںلگے رہتے ہیں، دوسرے اہرمن کے پجاری ہیں۔

اوّل الذکر اللہ والے امریکی سپریم کورٹ میں اس خاتون رجسٹرار کی صورت میں بھی مل جائیںگے جس نے ہم جنسوں کی شادی پر عدالتی فیصلے کی نقل اپنے دستخطوں سے یہ کہہ کردینے سے انکار کر دیا تھا کہ میرے مذہبی عقائد فیصلے کی تائید نہیں کرتے۔ وہ نیک بخت ملازمت دا¶ پرلگا بیٹھی،فیصلے کی نقل نہیں دی۔ رہے اہرمن کے راکھشش تو وہ آپ کو ہر ملک اور ہر معاشرے میں ملیںگے۔

کچھ لوگوں یا اداروں نے ہمارے دینی طبقوں کو ان ہیولوں کے تعاقب میں لگا رکھا ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔ انہی ہیولوں میں سے ایک کم سنی کی شادی ہے۔ میرے مخاطبین بہرحال دینی طبقے کے میرے اپنے عزیز لوگ ہیں۔ ان عزیزان سے گزارش ہے کہ قرآن و سنت اور اپنے مسلک کے کسی بڑے کے ملفوظات کے ساتھ عہدحاضرکی فکر کا مطالعہ بھی کیا کریں۔ کلمة الحکمت پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اسی کو ”لوہا لوہے کو کاٹتا ہے“ کہا جاتاہے۔ کم سنی کی شادی کو لے لیں،دین دشمن طبقات میںسے کون ہے جو آپ کے شرعی دلائل اور قرآن و سنت پر کان دھرے گا۔ کیا موسیٰ علیہ السلام فرعونی ساحروں کے اژدھوں کا سر الہامی الواح سے نہیں کچل سکتے تھے؟ لکڑی کی تختیاں جن کی ایک ضرب سے اژدھوں کے قتلے بن جاتے، لیکن سحر کا مقابلہ معجزے سے کیا گیا۔

کم سنی کی شادی کا معاملہ ایسا ہی ہے، یہ قانونِ فطرت ہے اور قانونِ فطرت کا تعلق براہ کرم کسی مذہب سے تلاش نہ کیا کریں۔ یہ ہر مذہب او ر ہر معاشرت میں تھوڑا بہت مل جاتا ہے۔جس قانونِ فطرت کا نام ہم نے یا کسی اور نے اسلام رکھا ہوا ہے، اس کے مظاہر ہمیںکُو بہ کُو اور قریہ بہ قریہ مل سکتے ہیں۔

کم سنی کی شادی کے متعلق انسانی رجحانات آج بھی اسی طرح ہیں جیسے صنعتی انقلاب سے قبل کے معاشروں میں ہوا کرتے تھے۔ آج کم سنی کی شادی سے متعلق دو طرفہ بظاہر دلائل لیکن حقیقتاً نقطہ¿ نظر سننے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان دلائل میں کوئی چیز نہیں ملتی تو ”تلاشِ حق“ کی کیفیت نہیں ملتی۔ اور یہ کام جستجو، کھوج، پِتّہ ماری اور تحقیق کے بغیر نہیںہوتا ہے۔ یہ جانے بغیر کہ شخصی زندگی کا مرکزہ خاندان اور خاندان کی توسیع معاشرے تک ہے ، ریاست کو بے مہار اختیار دینے والے بھی آپ کو ملیں گے۔

ادھر کم سنی کی شادی پر مذہبی طبقہ جب دلائل دےتا ہے تو حضرت عائشہؓ سے ابتدا ہوتی ہے۔ غیرضروری مدافعت اور اُکتا دینے والی گھسی پٹی گفتگو سے آگے لوگ جا ہی نہیں سکتے۔ دوسر اوہ طبقہ ہے جس کا ذہن مذہب کے خلاف اس قدر زہرآلود ہو چکا ہے کہ انہیں مذ©ہب میں سے کوئی اچھی چیز کیا ملے گی، وہ تو تلاشِ حق کے بھی روادار نہیں ہیں۔ ان کی زندگی محض مذہب دشمنی اور مذہبی طبقے سے منافرت پر قائم ہے۔

ضروری ہے کہ اس امریکی قانون کا ہلکا سا خلاصہ پیش کر دیا جائے۔ کیونکہ پچھلی تحریر کو قانون دان حلقوں میں تو بخوبی سمجھ لیا گیا لیکن قانونی زبان سے نابلد بعض اصحاب قدرے الجھن کا شکار رہے۔

مجھے خود بھی اس کا اندازہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے دو دفعہ لکھا تھا کہ اس تحریر کو بغور پڑھیں۔ چنانچہ پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ امریکی ریاستوں کے قانون متعلق بہ صغر سنی کی شادی آج بھی کم و بیش وہی ہیں جن پر پاکستان کے دیہی علاقوں میں بغیر کسی تقنین(Codification)کے عمل ہو رہا ہے۔ شادی کی کم از کم عمومی عمر اڑتالیس ریاستوں میں اٹھارہ ، ایک میں انیس اور ایک میں اکیس سال ہے۔ یہ عمر کی وہ حد ہے جسے عبور کرتے ہی ہر مرد و زن آزاد ہو جاتا ہے۔

والدین، ریاست وغیرہ سے آزاد رہ کر وہ خود شادی کر سکتا ہے۔اس کم از کم عمومی عمر سے نیچے کی عمر پر ریاستی قوانین میں اختلاف ہے۔ سولہ ریاستیں وہ ہیں جن میںشادی کی کم سے کم عمر مقرر نہیں ہے۔بچے کی شادی کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے بشرطیکہ پانچ شرائط میں سے کوئی شرط پوری ہو (بعض ریاستوں میںایک شرط بعض میں ایک سے زیادہ) :

1۔ بچے کے والدین یا قانونی سرپرست کی اجازت ہو۔

2۔ عدالتی اطمینان ہو کہ اس کم عمر بچے کی شادی میںکوئی مضائقہ نہیں ہے۔

3۔ بچی کسی بھی کم از کم عمر میں بدون نکاح ماں بن گئی ہو۔

4 ۔ بچی کسی بھی کم از کم عمر میں بدون نکاح حاملہ ہو جائے۔

5۔ کم سن کے والدین نہ ہوں، کوئی ولی سرپرست وغیرہ بھی نہ ہو۔

انہی پانچ شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے دیگر امریکی ریاستوں کی صورت حال یوں ہے۔

1۔ دو امریکی ریاستوں میں کم از کم عمر 14 سال ہے یعنی اس سے کم عمر میں شادی کسی صورت نہیں ہو سکتی۔

2۔ چار ریاستوں میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی نہیں ہو سکتی۔

3۔ انیس ریاستوں میں یہ عمر سولہ سال ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی نہیں ہو سکتی۔

4۔ سات ریاستوں میں یہ عمر سترہ سال ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی نہیں ہو سکتی۔

5۔ مکرر بیان کہ سولہ ریاستوں میں کم از کم عمر کی کوئی حد ہے ہی نہیں۔

یہ اڑتالیس ریاستیں ہیں۔ دو ریاستیں اس لیے کم ہیں کہ قانونی پیچیدگی کے باعث ان کا شمار مذکورہ بالا پانچ زمروں میں دوبار ہوتا ہے۔ اس طرح پچاس میں سے 26 ریاستوں میں عدالتی منظوری سے بچے کی شادی ہو سکتی ہے۔ مثلاً جس ریاست میں کم از کم عمر 14 سال ہے ، وہاں اس سے کم عمر میں شادی کی منظوری عدالت بھی نہیںدے سکتی۔ اُن سولہ ریاستوں میں جہاں کم از کم عمر ابھی تک نہیں ہے ، وہاں پیدائش کے بعد بچے کی شادی عدالتی اطمینان کے بعد کسی بھی عمر میں ممکن ہے۔ کئی لوگ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ،ممکن ہی نہیں قابل عمل بھی ہے۔ جنوبی ریاستی زندگی وہاں کے قبائلی نظام سے عبارت ہے۔ مثلاً ماں کو ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے کر کہا کہ بس دو ایک ماہ زندگی باقی ہے۔ ماں مچل گئی کہ میںنے اپنے دو ایک سالہ بچے کے سہرے کے پھول دیکھنا ہیں، وہ عدالت جا پہنچی۔

عدالت اجازت دے دے گی ،کیوں دے گی؟ کیونکہ وہاں کی عدالتوں پر این جی او کے تاریک سائے ابھی تک نہیں پڑے۔ وہاں کے جج اپنے دماغ سے سوچتے ہیںجن میں انسانی جذبات بھی شامل ہوتے ہیں۔

ابھی تک میں نے امریکی ریاستی قوانین کا ذکر کیا ہے۔ ان قوانین پر عمل کا جائزہ لیا جائے تواپنے ہاں آبادی کے بڑے حصے کو یقین ہی نہیں آئے گا۔ حوالہ جات کے لیے عرض کروں کہ میں نے مشہور امریکی تھِنک ٹینک ، پیو(Pew) ریسرچ سینٹر کی تحقیق پر انحصار کیا ہے۔ ان کے بیشتر اعدادوشمار امریکی بیورو آف اسٹیٹسکس سے لیے گئے ہیں، ماسوائے اس کے کہ ان کے اپنے سروے وغیرہ ہوں۔ پیو کے مطابق صرف 2014ءمیں 57,800 ایسے بچوں کی شادیاں ہوئیں جن کی عمریں 15 تا سترہ سال تھیں۔

ان میں 31,644 کم سن بچیاں تھیں۔ ایک اور ادارہ اَن چینڈ ایٹ لاسٹ(Unchained at Last) ہے جس کا مقصد جبری اور صغرسنی کی شادیاں روکنا ہے۔اس کے مطابق اکیسویں صدی کے ابتدائی پندرہ سالوں میں دو لاکھ بچوں کی شادیاں قانون کے مطابق ہوئیں۔ ضرب تقسیم خود کر لیں، ہر روز چھتیس شادیوں سے بھی قدرے زائد ۔ این جی اوزوالےاں اور ریاست کے اندھے وکےل ذرا صبر سے تفصیلات بھی پڑھ لیں۔ صرف فلوریڈا میں سترہ سالوں میں 13 سالہ بچوں سمیت 16,400 بچوں کی شادیاں ہوئیں۔ ٹیکساس اس سے بھی آگے ہے جہاں 14 سالوں میں 40,000 بچوں کی شادیاں ہوئیں۔ نیویارک متجددین کا گڑھ ہونے کا باعث ذرا پیچھے رہا جہاں دس سالوں میں 3,800 شادیاں ہوئیں یعنی اوسط ہر روز ایک ۔ اوہائیو میں پندرہ سالہ مدت میں 4,443 لڑکیوں کی شادیاں مختلف مردوں سے ہوئیں۔

ایک بچی کی شادی 48 سالہ مرد کے ساتھ ہوئی: ”ثناخوان تقدیس ”طفلان“ کہاں ہیں“ ۔ مذکورہ دو لاکھ شادیوںکا ایک فیصد تقریباً دو ہزار، 14 سال سے کم عمری کی شادیاں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ میں اس کا کوئی نوٹس تک نہیںلیا گیا۔ مزید تفصیل یہ کہ ان میں 13 سالہ بچوں کی تعداد اکیاون ہے۔ 6 بچوں کی شادیاں بارہ سالہ عمر میں ہوئیں۔ الباما میں ایک 74 سالہ شخص نے 14 سالہ لڑکی سے شادی کی۔ ایک اور ریاست میں 10 سالہ بچیوں کی شادیاں 24 تا31 سالہ مردوں سے ہوئیں۔ اور.... اور .... اور....یہ سب کچھ متعلقہ ریاستی قوانین اور دستور کی چھتری کے نیچے ہو رہا ہے۔ متجددین اور دین بیزار طبقے سے امید ہے کہ یہ امریکی رویہ لینے میں اسے کوئی تامل نہ ہو گا۔

بچے کی شادی والدین کا مسئلہ ہے۔ وہ معاشرتی قدروں کے مطابق یہ کام کریں تو ٹھیک، ورنہ عدالتی اطمینان کے بغیر شادی نہیں ہو سکتی۔ عدالتی اطمینان شادی روکنے کے لیے نہیں، اس شادی سے مفاسد دور کرنے کے لیے ہوگا۔عبداللہ ؓ ابن مسعود سے منسوب حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو: ”جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے (ماراہ المسلمون حسناً فھو عنداللہ حسناً) اسلامی معاشرت میں ریاست کا وجود بہت معدوم سا اور خبرگیری کی حد تک کا ہے۔ مارکس کا قول کس سے پنہاں ہے جو ریاست کو آلہ جبر قرار دیتا ہے۔ اثباتی انداز میں محرم راز خالقِ کائنات کا فرمان لاگو کریں ذرا، شخصی امور میں ریاست کا کوئی وجود نہیں ہے۔

کم سنی کی شادی والدین کا ذاتی مسئلہ ہے۔ وہ بگڑجائیں تو اجتماعی معاشرت میںان کے لیے غیرمتوازن کام ممکن نہیںہوتا، پھر بھی بگاڑ کا امکان رہتا ہے۔ یہاں آ کر ریاست نگران (Watch Dog) کا کردار ادا کرتی ہے، نہ کہ مقنن (Legislator) کا۔ ریاستی نمائندوں سے گزارش ہے کہ اس بابت اسلامی قانون وضع شدہ (Codified) شکل میںموجود ہیں، کسی تقنین کی حاجت نہیںہے۔

مزید : رائے /کالم