پاک۔ امریکہ دفاعی روابط: ماضی، حال اور مستقبل

پاک۔ امریکہ دفاعی روابط: ماضی، حال اور مستقبل
پاک۔ امریکہ دفاعی روابط: ماضی، حال اور مستقبل

  

پاکستان آرمی اپنی سی مسلسل کوششیں کر رہی ہے کہ اس کا انحصار امریکہ پر سے ختم ہو جائے۔ اور میرا خیال ہے کہ ایسا ہو بھی رہا ہے۔ 23مارچ 2019ءکو قومی دن کے موقع پر جو ملٹری پریڈ منعقد کی گئی تھی وہ اس بات کا اظہار بھی تھی کہ پاکستان آرمی کے نقوشِ پا اب گلوبل سفارتی سطح پر دیکھے اور محسوس کئے جا رہے ہیں اور اب یہ پاکستان آرمی ایک کثیر الجہتی (Multi-Faceted) فورس بننے کی طرف گامزن ہے جس میں دفاعی سفارتکاری، عالمی تنازعات کو حل کرنا، عالمی امن کا قیام، بین الاقوامی عسکری تعلیم و تدریس، دفاعی ساز و سامان کی فروخت اور مشترک دفاعی تعاون جیسے موضوعات شامل ہیں۔

پاک آرمی کا یہ طرزِ عمل نو گیارہ (11ستمبر 2001ئ) کے اس طرزِ عمل کا 180ڈگری اباﺅٹ ٹرن ہے جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے امریکی دباﺅ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔ اب اس بات کو تقریباً دو عشرے گزر چکے ہیں لیکن اب پاکستان آرمی دنیا کی افواج (Armies) میں ایک ممتاز انٹرنیشنل آرمی بن چکی ہے۔ ان انٹرنیشنل افواج کی تعداد تین درجن سے زیادہ ہے جن کے وابستگانِ دامن لاطینی امریکی سے آسٹریلیا تک پھیلے ہوئے ہیں اور وہ پاکستان کے تمام سروس (آرمی، نیوی، ائر فورس) کالجوں میں پروفیشنل تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ آج BRICS ممالک (برازیل، روس ، انڈیا، چین، ساﺅتھ افریقہ) کی ابھرتی افواج میں پاک آرمی کا دفاعی تعاون گزشتہ تمام ادوار سے کثیر تر اور بلند تر ہے۔

یہ گوناگونی (Diversification) پاک فوج کی نئی جیو پولیٹکل حقیقتوں کی غماز بھی ہے۔ اور 2001ءکے برعکس اب اس کو کسی امریکہ وغیرہ سے کوئی خوف و خطر نہیں۔ کیونکہ خود اس کی اور اس کے اتحادیوں کی سٹرٹیجک رسائی اب 2001ءکے اس انحصار سے کہیں آگے جا چکی ہے جو اسے امریکی ساز و سامانِ جنگ اور مالی امداد کا محتاج رکھتی تھی!

اور ہاں!ایک دوسری سوچ یہ بھی ہے کہ 11 ستمبر 2001ءکے بعد مشرف پر یہ الزام نہیں دھرا جا سکتا کہ وہ امریکہ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تھے کہ ان کو اپنی فوج کی قوتِ ضرب کی حدود و قیود اور اس کی محدودیت (Limitation) کا اندازہ تھا۔ امریکہ نے پریسلر ترمیم کے بعد جو پابندیاں پاکستانی افواج پر لگائی تھیں ان کی وجہ سے پاکستان ملٹری کی حالت بہت ”پتلی“ تھی اور وہ کسی امریکی تھریٹ کو چیلنج نہیں کر سکتی تھی۔

پاکستان کے پاس جو دو درجن F-16تھے وہ بمشکل آپریشنل حالت میں تھے۔اور پاک فضائیہ کی ساری ٹریننگ صرف مشرقی سرحد کے خطرات کو کاﺅنٹر کرنے پر کی گئی تھی لیکن امریکہ، پاکستان سے مطالبہ کر رہا تھا کہ افغان بارڈر پر پاک فضائیہ کاﺅنٹر انسرجنسی آپریشنوں میں استعمال کی جائے۔

جہاں تک F-16کا تعلق ہے تو امریکہ، گزشتہ تین عشروں سے پاکستان کو بلیک میل کر رہا تھا۔ کبھی کہتا تھا لے لو، کبھی انکار کر دیتا تھا حتیٰ کہ پاکستان نے جن F-16کی قیمت ادا کر دی تھی، وہ بھی اس کو نہ دیئے گئے۔ لیکن اس کے بعد بھی جب تک پاکستان گلوبل دہشت گردی کے خاتمے کے لئے رضامند نہ ہوا، اسے F-16 ڈلیور نہ کئے گئے۔

انہی ایام میں یہ صورت حال بھی سامنے آئی کہ پاکستان کو ایف۔16کی خریداری کے لئے ترکی اور اردن کا رخ کرنا پڑے گا (اور وہ بھی امریکی اجازت ملنے کے بعد!).... پاکستان کو ان ہیلی کاپٹروں (AH-1Z) کا بھی ہنوز انتظار ہے جن کا پہلا دستہ 2017ءمیں دیا جانا تھا۔ گزشتہ برس کے اواخر میں پاکستان کو یہ ’نوید‘ سنائی گئی کہ یہ طیارے اور ہیلی کاپٹر صدر ٹرمپ کے احکامات کے مطابق گودام گھروں میں رکھ دیئے گئے ہیں کیونکہ موصوف نے پاکستان کی تمام ملٹری امداد روک دی ہے۔ اس طرح کے حالات کے پیشِ نظر پاکستان کے پاس کوئی دوسرا چارا نہیں تھا کہ وہ امریکی عسکری ساز و سامان پر تکیہ کرنے کا خیال ترک کر دے، نئے بین الاقوامی شراکت داروں کو ڈھونڈے اور خود اپنا خانہ ساز عسکری پروڈکشن کا پروگرام شروع کرکے دفاعی فیلڈ میں خود کفالت کی منزل کے سفر پر نکلے۔

ٹرمپ نے گزشتہ برس یہ اعلان بھی فرما دیا کہ پاکستانی فوجی آفیسرز اور اہلکار امریکی تربیتی اداروں میں ٹریننگ نہیں لے سکیں گے۔ ایسے میں روس آگے آیا اور اس نے اپنے الیٹ ملٹری کالجوں میں پاکستانی افسروں کو تربیت دینے کی حامی بھر لی۔ یہ ڈویلپ منٹ ماضی کے پاک ۔روس دفاعی تعلقات کے برعکس تھی.... یعنی پاکستان کی دفاعی سفارتکاری اب ایک بالکل نئے دور میں داخل ہو رہی تھی! علاوہ ازیں پاکستان اور روس نے ریگولر مشترکہ جنگی مشقوں کا آغاز کیا۔ انہی ایام میں پاکستان نے روس سے جدید ترین اٹیک ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا سودا بھی کیا۔

ایک طرف امریکہ نے جب اپنے ممتاز پروفیشنل تدریسی اداروں میں پاکستانی افسروں کو ٹریننگ دینے کا دروازہ بند کر دیا تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے لئے اور کئی دروازے کھل گئے بلکہ پاکستان نے جب اس فیلڈ میں بھی خودکفالت کی پالیسی اپنائی تو اس کو اپنی آفیسرز کلاس کے اوصاف و کمالات کا اندازہ ہونے لگا۔ جب مغربی ممالک نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے امریکی پالیسی کے علی الرغم پاکستان کو درخواست کی کہ وہ اپنے آفیسرز ہمارے ملٹری تدریسی اداروں میں بطور انسٹرکٹر بھیجے۔ برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی، سیندھرسٹ، مغربی افواج کی وہ پہلی عسکری درسگاہ تھی جس میں ایک پاکستانی آفیسر کو بطور پلاٹون کمانڈر لے لیا گیا۔ ان کا نام میجر عقبہ حدید ملک ہے۔ اس طرح میجر ملک کی زیرِ کمانڈ نہ صرف برطانوی کیڈٹوں نے بلکہ کئی غیر ملکی انٹرنیشنل کیڈٹوں نے بھی گریجوایشن کی۔

اسی طرح شریون ہام (Shrivanham)کے برٹش آرمی سٹاف کالج میں بھی پاکستان آرمی کے ایک لیفٹیننٹ کرنل کو بطور انسٹرکٹر منتخب کیا گیا۔ برطانوی سٹاف کالج کی روائت رہی ہے کہ یہ رول صرف برطانوی یا NATOممالک کے افسروں کو دیا جاتا ہے۔ برٹش آرمی کی دیکھا دیکھی اب جرمن آرمی اور چیک آرمی (Czech Army) آرمی نے بھی اپنی تدریسی عسکری درسگاہوں میں پاکستان آرمی کے افغانستان کے حربی تجربات سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستانی افواج کو قیامِ امن اور نیز دوسرے متفرق ٹریننگ مشنوں میں حصے لینے کا بھی ایک وسیع تجربہ حاصل ہے۔ پاکستان اپنے انہی تجربات کو اب ایک عالمگیر سطح پر منتقل کر رہا ہے اور ایک ایسی گلوبل یونٹ تشکیل دے رہا ہے جو عالمی تنازعات کے حل میں ایک ثالث کا رول ادا کرنے کا ڈول ڈالے گی۔

آپ نے دیکھا ہو گا 23مارچ 2019ءکی یومِ پاکستان کی تقریب میں ترک فضائیہ، سعودی اور بحرینی سپیشل فورسز اور آذربائیجان اور سری لنکا کے ٹروپس نے بھی شرکت کی.... چینی فضائیہ کی شرکت کا تو ایک ریکارڈ اور ایک روائت ہے کہ وہ ہر سال اس تقریب میں بھرپور اور پُرجوش حصہ لیتی ہے.... اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان ملٹری کی الائنس اب بین الاقوامی سطح کو پہنچ رہی ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم اور آذربائیجان کے وزیر دفاع نے اس پریڈ میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ پاکستان ان دونوں ممالک کو اپنے ہاں بنائے جانے والے JF-17فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے لئے بات چیت جاری ہے۔

گزشتہ برس (2018ءمیں) نائیجریا نے ہمارے JF-17طیارے خرید کر ان کی بین الاقوامی خرید کا آغاز کیا تھا۔ اس سے پہلے میانمر نے بھی یہ طیارے خریدے، اگرچہ یہ ڈیل میانمر اور چین کے درمیان معاہدے کی صورت میں تشکیل پذیر ہوئی.... جنوبی افریقہ اور برازیل دفاعی ساز و سامان بنانے اور اسے فروخت کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ لیکن اس بار JF-17 کی پرفارمنس دیکھ کر ان دونوں ملکوں نے پاکستانی دفاعی ساز و سامان کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ آسٹریلیا بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے پرانے رابطوں کی تجدید کا خواہش مند ہے۔ ایک اور قابلِ ذکر نام ترکی کا بھی ہے۔

ترکی اور امریکہ کے دفاعی تعاونات کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن حالیہ برسوں میں امریکہ نے ترکی پر بھی وہی دھونس جمانے کی کوششیں شروع کر دیں جو وہ پاکستان سے کر چکا ہے۔ چنانچہ اب ترکی بھی پاکستان سے دفاعی ساز و سامان کی خرید و فروخت میں دلچسپی لے رہا ہے۔

قارئین کرام! سطور بالا میں، ایک دوست کی طرف سے یہ کلپ موصول ہونے پر مجھے خیال آیا کہ اس موضوع پر آپ کی یادوں کو تازہ کروں کہ امریکہ، پاکستان سے جس طرح کا سلوک کرتا آ رہا تھا، اب نئے پاکستان میں اس کے یہ ایام آخری ہچکی لے رہے ہیں۔ اس خطے کا پورا منظرنامہ بدل رہا ہے اور دفاعی سرگرمیوں اور اس سلسلے میں ہونے والی چند درچند تبدیلیوں سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔

دہ دَرشود کشادہ اگربستہ شد دَرے

انگشت ترجمانِ زبان است لال را

[اگر ایک دَر بند ہوتا ہے تو اس کی جگہ دس دَرکھل جاتے ہیں۔ اللہ کریم گونگے کی ایک زبان بند کرتا ہے تو اس کی ترجمانی کے لئے دس انگلیاں عطا کر دی جاتی ہیں]

مزید : رائے /کالم