انگلش ٹیم کیخلاف شاہین ہارکر بھی جیت گئے

انگلش ٹیم کیخلاف شاہین ہارکر بھی جیت گئے
انگلش ٹیم کیخلاف شاہین ہارکر بھی جیت گئے

  

شاہینوں کی دوسرے ون ڈے میں شاندار پرفارمنس نے گوروں کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں پاکستان نے بعد میں بیٹنگ کرنے کے باوجود جس طرح اعتماد سے کھیل پیش کیا اس کی ماضی میں چندمثالیں ہی ملتی ہیں اتنے بڑے سکور کے آگے ہمیشہ پاکستان کی ٹیم بے بس ہی نظر آئی مگر فخر زمان کے 138 رنز، آصف علی اور بابر اعظم کی نصف سنچریوں اور کپتان سرفراز احمد کی41 رنز کی مشکل حالات میں بیٹنگ نے یہ ثابت کردیا کہ پاکستان کی ٹیم مکمل فارم میں ہے بدقسمتی سے صرف بارہ رنز سے شکست ہوئی مگر اگر مجموعی طور پر پاکستان کی پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے تو پاکستانی ٹیم نے برابر کامقابلہ کیا انگلش ٹیم اپنی سر زمین پر کسی بھی حریف کو آسانی سے جیتنے نہیں دیتی مگر پاکستانی ٹیم نے میچ کے دوران کئی مرتبہ حریف ٹیم کو یہ باور کروایا کہ میچ پاکستان کے حق میں ہے-

کئی مواقع پر میچ کبھی پاکستان کے حق میںاور کبھی انگلینڈ کے حق میں ہوتا نظر آیا اور آخری اوور میں حتمی فیصلہ ہوا اگر مڈل آرڈر بیٹسمین عماد وسیم اور فہیم اشرف کچھ رنز زائد بناجاتے تو پاکستا ن کی ٹیم میچ جیت جاتی کیونکہ آغاز ہی اتنا اچھا ملا کہ فخر زمان اور امام الحق نے بڑا سکور کردیا ایسے موقع پر مڈل آرڈر بیٹسمینوں کو بھی عمدہ کھیل پیش کرنے کی ضرورت تھی تاکہ میچ آسانی سے جیتا جاسکے انگلینڈ کیجانب سے بھی بہت عمدہ کھیل پیش کیا گیا373 رنز کا پہاڑ کھڑا کرکے تو ایسا ہی لگتا تھا کہ پاکستان کی ٹیم بے بس نظر آئے گی انگلینڈ کی جانب سے بٹلر نے پچاس گیندوں پر سنچری سکور کی جو ان کی اب تک کی تیز ترین سنچری ہے انہوں نے 110 رنز بنائے اورناٹ آﺅٹ رہے بٹلر نے شاندار اننگز میں چھ چوکے اور نو چھکے لگائے اور پاکستانی باﺅلرز کا بھرکس نکال دیا بٹلر کو دھواں دھار سنچری بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑ ی قرار دیا گیا پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان تیسرا ون ڈے کل کھیلا جائے گا پاکستان کی ٹیم اس میچ میں کامیابی سے سیریز برابر کرسکتی ہے-

جبکہ ہارکی صورت میں پاکستان کے سیریز جیتنے کے امکانات بہت کم ہوجائیں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاپاکستان کی ٹیم ایسی ہی پرفارمنس دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے کہ نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میچ کو اہم سمجھ کر ہر کھلاڑی کو اپنی بھرپور ذمہ داری کو میدان میںادا کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے لئے یہ میچ جیتنا بہت ضروری ہے ورلڈ کپ سے قبل اس سیریز کو دونوں ٹیموں کے لئے ہی بہت اہم قرار دیاجارہا ہے کپتان سرفراز احمد اب کس پلان کے تحت میدان میں اترتے ہیں یہ ان کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہوگا فخر زمان کے ساتھ ساتھ دیگر بیٹسمینوں کو بھی عمدہ پرفارمنس دکھانے کی ضرورت ہے۔

جبکہ باﺅلرز کو بھی اپنی پرفارمنس میں پختگی لانے کی ضرورت ہے تاکہ انگلش ٹیم اتنا بڑا سکور کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور بعد میں بیٹنگ کرنے کی صورت میں بھی پاکستان کے بیٹسمین آسانی سے ہدف حاصل کرسکیں ٹیم کے فاسٹ باﺅلر محمد عامر بھی بیمار ہیں اور ان کی ٹیم میں عدم دستیابی سے بھی پاکستان کے باﺅلنگ کے شعبہ میں فرق پڑا ہے جبکہ شعیب ملک اور محمد حفیظ بھی ٹیم کا حصہ نہیں ان کی غیر موجودگی سے بھی ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی امید ہے کہ ان کھلاڑیوں کی ٹیم میںواپسی سے ٹیم مزید مضبوط ہوگی اور حریف ٹیم پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے انگلش سر زمین پر نوجوان کھلاڑیوں کیجانب سے اعتماد سے بھرا کھیل یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ وہ بھرپور جوش و جذبہ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم