قومی اسمبلی کا اجلاس

قومی اسمبلی کا اجلاس

  

کورونا بحران پر بُلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہے،اجلاس سے قائد ایوان(وزیراعظم عمران خان) اور قائد حزبِ اختلاف(شہباز شریف) دونوں غیر حاضر تھے، کئی وزراء بھی موجود نہیں تھے۔ فواد چودھری نے تو اعلان کر رکھا تھا کہ وہ نہیں جائیں گے وہ آج بھی اجلاس بُلانے کے خلاف ہیں۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز کا بھی یہی خیال ہے تاہم دلچسپ صورتِ حال یہ تھی کہ حکومتی بنچ اپوزیشن لیڈر کی غیر موجودگی کو ہدفِ تنقید بناتے رہے تو اپوزیشن وزیراعظم کی غیر حاضری کا تذکرہ کرتی رہی، حکومت کے اپنے دلائل تھے تو اپوزیشن کا اپنا نقطہ نظر، حکومتی جماعت کا موقف تھا کہ وزیراعظم مصروف ہیں، جبکہ مسلم لیگ(ن) کا کہنا تھا کہ قائد حزبِ اختلاف بیمار ہیں اور ڈاکٹروں نے اُنہیں اجلاس میں جانے سے منع کیا ہے، اِس لئے پارٹی نے اُنہیں شرکت سے روک دیا ہے، جو ارکان اجلاس میں حاضر تھے انہوں نے اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اظہارِ خیال کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سندھ کو اُس کے حصے سے زیادہ امداد دی گئی، اب سندھ کارڈ نہیں پاکستان کارڈ چلے گا۔ مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم طے شدہ معاملہ، اسے نہ چھیڑا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مُلک حالت ِ جنگ میں ہے اور وزیراعظم ایوان سے غائب ہیں۔

قومی اسمبلی کا یہ اجلاس طویل بحث مباحثے اور بڑی رد و کد کے بعد بُلایا گیا تھا، حکومت کے ارکان تمام ترحفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود اجلاس بُلانے کے خلاف تھے، کئی وزراء آج بھی جب اجلاس ہو رہا تھا، اجلاس بُلانے کی مخالفت میں دلائل دے رہے تھے۔ اجلاس کے اندر کی فضا یہ تھی کہ ارکان نے پابندیوں کا کما حقہ‘ خیال نہیں رکھا،بعض خواتین اجلاس کی کارروائی سے لاتعلق ہو کر گپ شپ کرتی رہیں،بہت سے ارکان بھی آپس میں باتیں کرتے رہے،جس پر ڈپٹی سپیکر کو جو اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، کہنا پڑا کہ جس نے مجلس کرنی ہے وہ باہر چلا جائے، اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کورونا کے حوالے سے حکومت کے اقدامات کو سراہا تو خواجہ آصف نے تفتان بارڈر پر قائم کئے گئے قرنطینہ سینٹروں کو مرغیوں کے ڈربے قرار دیا۔ حماد اظہر نے لاک ڈاؤن کھولنے کی حمایت میں دلائل دیئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر لاک ڈاؤن بڑھایا جاتا تو 9لاکھ کاروبار ختم ہو جاتے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس بُلانے کے لئے اپوزیشن جماعتیں زیادہ متحرک تھیں،انہوں نے اِس سلسلے میں تحریری درخواست بھی جمع کرائی تھی، اپوزیشن کا موقف تھا کہ جب ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھولے جا رہے ہیں، بازاروں میں چہل پہل ہے تو قومی اسمبلی کا اجلاس کیوں نہیں بُلایا جا سکتا، تاہم اب اجلاس بُلا لیا گیا ہے تو باقی ماندہ سیشن کے دوران کورونا کی وبا سے نبٹنے کے لئے ایسی ٹھوس تجاویز سامنے آنی چاہئیں، جن پر عمل کر کے نہ صرف بحران کا مقابلہ کیا جا سکے،بلکہ معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لئے بھی اقدامات سامنے آنے چاہئیں، حکومت نے اب تک کورونا کے بحران سے نبٹنے کے لئے جو کچھ کیا ہے اس کی تفصیلات ایوان میں لانا ضروری ہے، احساس پروگرام پر جو حلقے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور اس کی شفافیت پر سوالات اُٹھا رہے ہیں اُن کو مطمئن کرنا بھی ضروری ہے۔ سرکاری ارکان اِس پروگرام کے تحت رقوم کی تقسیم کو اپنے حلقے مضبوط بنانے کے لئے استعمال کرنے کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم نے بھی اُنہیں ایسا کرنے کا مشورہ دیا تھا، اس پر بھی اپوزیشن نکتہ چینی کر رہی ہے اِس لئے اٹھائے گئے سوالات کا جواب آنا ضروری ہے۔

اِس وقت پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی جاری ہے، یہ اجلاس سپیکر نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر طلب کیا تھا، پنجاب میں بھی حکمران جماعت اجلاس بُلانے کے حق میں نہیں تھی،لیکن سپیکر نے تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ اجلاس بُلا لیا، ہم نے اِن کالموں میں تجویز کیا تھا کہ نہ صرف پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں،بلکہ صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بھی معمول کے مطابق ہونے چاہئیں تاکہ ان اسمبلیوں کی وساطت سے اجتماعی شعور و دانش کا مظاہرہ کیا جا سکے،لیکن اگر ارکان الزام تراشیوں ہی میں اُلجھ کر رہ جائیں گے تو ٹھوس عملی اقدامات کے لئے تجاویز کہاں سے آئیں گی؟ ارکانِ اسمبلی کا فرض ہے کہ وہ اپنی تقاریر میں بحران کے حوالے سے کوئی ایسا عملی منصوبہ پیش کریں جس سے قوم و ملک کا بھلا ہو، الزامات اور جوابی الزامات دانشمندی نہیں ہے۔ سندھ میں تحریک انصاف سے تعلق ر کھنے والے صوبائی قائد حزبِ اختلاف نے اسمبلی کا اجلاس بُلانے کا مطالبہ کیا ہے۔حیرت ہے کہ جس جماعت کے وزراء قومی اسمبلی کا اجلاس بُلانے کے حق میں نہیں اور اب بھی اُن کا موقف یہی ہے وہ جماعت سندھ میں اجلاس بُلانے کا مطالبہ کر رہی ہے گویا اسلام آباد میں وبا موجود ہے اور سندھ میں نہیں ہے۔تحریک انصاف کا طرزِ عمل جو بھی ہو اصولی طور پر تو اس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اور اجلاس بُلانے کی ضرورت بھی ہے تاکہ سندھ کی حکومت اُن اقدامات کو اسمبلی کے سامنے لا سکے،جو اس نے کورونا کی وبا کے مقابلے کے لئے کئے ہیں اُن کے جو تذکرے ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں ہوتے ہیں بہتر ہے وہ اسمبلی کے فلور پر ہوں۔

قومی اسمبلی کے ایوان میں پگڑیاں اُچھلتی رہیں تو مُلک میں لاک ڈاؤن نرم ہونے کے بعد ہر جگہ سماجی فاصلے کی دھجیاں بکھیری جاتی رہیں،لاک ڈاؤن ختم کرنے کے حق میں گھسے پٹے دلائل جاری رکھے گئے ہیں اور اِس ضمن میں صحت کے عالمی ادارے کی گائیڈ لائنز کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا، حکومت کے بعض اقدامات بڑی حد تک محل ِ نظر ہیں۔ لاہور شہر میں ایسے بازار تو کھول دئے گئے ہیں جہاں ”جا تنگ است و مرد ماں بسیار“ والا معاملہ ہے، ان بازاروں میں خریداروں کی بھیڑ لگی ہے اور کسی کو ضابطوں کی پروا نہیں، تنگ بازار تو کھول دیئے گئے، لیکن جدید شاپنگ مال بند رکھے گئے ہیں جو صاف ستھرے اور کشادہ ہیں یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے،اگر شاہ عالمی جیسے بازار کھولے جا سکتے ہیں تو پھر شاپنگ مال کھولنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اگر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ کاروبار کھولنا ضروری ہے تو شاپنگ مال اس کی تعریف میں کیوں نہیں آتے؟ کاروبار کے معاملے میں یکساں پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے، جو ایس او پیز دوسرے بازاروں پر لاگو کئے گئے ہیں اُن کا لحاظ کرتے ہوئے یہ مال بھی کھولے جا سکتے ہیں، لیکن امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ حکومتی اقدامات کا یہ تضاد جگہ جگہ موجود ہے، وزیروں کا کہنا ہے اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بُلا کر غلطی کی،لیکن سندھ کی اپوزیشن صوبائی اسمبلی کا اجلاس بُلانے کا مطالبہ کر کے بہت اچھا کر رہی ہے یہ دو رنگی ہر جگہ نظر آ رہی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -