آٹا مہنگا ہو گیا، بحران کا خدشہ؟

آٹا مہنگا ہو گیا، بحران کا خدشہ؟

  

صوبائی حکومت کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ملک میں گندم وافر ہے اور اس سیزن میں سرکاری خریداری بھی توقع کے مطابق ہوئی اور ہورہی ہے،اِس لئے کسی بحران کا کوئی خدشہ نہیں۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ سرکاری طور پر آٹے کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا گیا اور اگر کبھی ضرورت ہوئی تو سرکاری گوداموں سے گندم کی ترسیل قواعد کے مطابق شروع کر دی جائے گی، یہ وضاحت عوامی استفسار اور سوشل میڈیا پر احتجاج کے بعد کی گئی، جس کے مطابق رولر فلور ملز مالکان نے20کلو آٹے کے نرخوں میں اضافہ کر دیا اور اب اس کی قیمت840 روپے مقرر کی گئی، جو800 روپے تھی اور عوام کو808 روپے کے عوض مہیا کیا جا رہا تھا۔ یوں اب رولر فلور ملز کا آٹا32 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا ہے۔ ابھی ان ملوں کی طرف سے چکی آٹا کے نام سے بکنے والے آٹے کے نرخوں کا اعلان نہیں کیا گیا، جو پہلے ہی380 روپے کا پانچ کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ عام دیسی چکیوں پر نرخ66سے68روپے فی کلو ہے۔ رولر فلور ملز والوں کا موقف ہے کہ گندم کے نرخ بڑھ گئے، جو اب1500روپے فی چالیس کلو کے حساب سے ملتی ہے۔ یاد رہے کہ رولر فلور ملز جو آٹا بیچتی ہیں اس گندم میں سے سوجی اور میدے کی مقرہ مقدار جو متعین ہے، نکال لی جاتی ہے۔ یہ شکایات بھی عام ہیں کہ یہ مقدار متعین سے زیادہ نکالی جاتی ہے،بہرحال جو بھی صورت حال ہے وہ اس اندیشے کی روشنی میں درست ثابت ہو رہی ہے کہ آٹے کا بحران ہونے کا شدید خطرہ موجود ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے توجہ دلانے پر احساس ظاہر کیا،لیکن خطرہ اپنی جگہ موجود ہے،اِس لئے ابھی سے انتظامات ہونا چاہئیں، جو لوگ چکی کا آٹا خرید کر روٹی کھانا چاہتے ہیں ان پر بھی توجہ دی جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -