پارلیمانی جمہوریت کی جگہ صدارتی نظام،مگر؟

پارلیمانی جمہوریت کی جگہ صدارتی نظام،مگر؟
پارلیمانی جمہوریت کی جگہ صدارتی نظام،مگر؟

  

مَیں اپنے اس کالم میں بھی سابقہ سلسلے ہی کو بحال رکھتے ہوئے چند اہم سوالات کے جواب چاہتا ہوں،مثال کے طور پر ہمارے آئندہ نظام میں سیاست کیسی ہو گی؟اس کا نظام معیشت کیسا ہو گا؟اور موجودہ جاری نظام میں معاشرتی اور انصاف کے نظام سے عام آدمی کو کیا اور کیسے فائدہ پہنچے گا۔

دُنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک نے مستقبل کے لئے اپنے اہداف مقرر کر رکھے ہیں اور اکثر ترقی پذیر ممالک ان کی پیروی کر رہے ہیں،اور ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنی مشکلات کا حل تلاش کر لیں۔تاکہ وہ بھی بہتر سیاسی، اقتصادی نظام سے مستفید ہوں۔دُنیا ایک”گاؤں“ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، زیادہ تر ممالک علاقائی تعاون اور اتحاد پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔چہ جائیکہ وہ ان ترقی یافتہ اقوام کی طرف دیکھتے رہیں۔

جنرل(ر) حمید گل کے ”گرینڈ ایجنڈا“ میں سیاسی، اقتصادی، سماجی قانونی اور آئینی فارمولے کا ذکر کیا گیا ہے اور انہوں نے اپنے مضمون میں یہ خیال یا تصور دیا ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے ٹیکنو کریٹ اپنی دانش اور تجربے کی بنا پر ایک ”عظیم ایجنڈا“ تیار کریں۔انہوں نے اپنے مضمون میں جو بھی نکات اٹھائے وہ اب بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور یہ ملک کی اکثریت کو تسلیم کرنا ہوں گے۔ مثال کے طور پر ملک کے 80فیصد عوام کو انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اس جاری نظام کو تبدیل کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتے۔جنرل(ر) حمید گل نے نئے حکومتی نظام کے لئے تجویز کیا کہ تجربہ کار بزرگوں پر مشتمل ایک ”بزرگ کونسل“ تشکیل دی جائے، کہ ملک کو ایماندار اور عملی نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ جنرل (ر) حمید گل کے مطابق وہ افراد اور خاندان جو برطانوی حکومت سے مراعات لے رہے تھے اور قیام پاکستان کے خلاف تھے،وہ قیام پاکستان کے بعد بھی مراعات یافتہ رہے اور عیش کر رہے ہیں۔یوں ملک میں نہ تو جمہوریت مستحکم ہوئی اور نہ ہی عوام سماجی اور اقتصادی انصاف حاصل کر سکے۔اس کے برعکس سرکاری ادارے عوامی مفادات ہی کے خلاف سرگرم عمل رہے۔اگرچہ یہ سب جانتے ہیں کہ کیسے اور کس کے ذریعے حکومت کی جا رہی ہے،

تاہم جاگیردار اور سرمایہ دار مکمل طور پر اقتدار سے مفادات لیتے چلے آ رہے ہیں،اقتدار کے ایوانوں میں ان کے مضبوط رشتے ہیں، چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت برسر اقتدار آئے،آج تک عوام اور قائدین سمیت کوئی بھی ان سے چھٹکارا نہیں پا سکا، اور یہ ایک کھلا راز ہے کہ جمہوریت اور جمہوری سرکاری ادارے ان کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں، اور چند خاندانوں نے اقتدار پر قبضہ کیا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں آج ہمارا ملک سیاسی اور معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔جنرل(ر) حمید گل نے کہا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتی عوامی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان پر نظرثانی کی جائے اور تنظیم نو ہو،تاہم انہوں نے عمل درآمد کے لئے مکمل حکمت ِ عملی کا ذکرنہیں کیا، حالانکہ اس حقیقت کے سوا کوئی دوسری رائے نہیں کہ موجودہ نظام لاعلاج ہے اور اس نے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، ماسوا اس امر کے کہ اجارہ داریاں وجود میں آئیں، اس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا اور بے روزگاری بڑھی،بیماری، بدعنوانی، لاقانویت، معاشرتی ناہمواری اور ناانصافی بڑھ گئی، عام آدمی اس سب سے نجات حاص کرنا چاہتا ہے،لیکن غریب اور متوسط طبقہ اکثریت میں ہونے کے باوجود اپنے طبقے سے اپنے لئے قائدین کا انتخاب نہیں کر سکتا، ان طبقات نے سیاسی جماعتوں کی حمایت اور ان کے پلیٹ فارم سے سعی کر کے دیکھ لی،لیکن سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے ان کی توہین کی جاتی ہے۔حکومت اور سیاسی جماعتیں اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہیں،اِس لئے کوئی نتیجہ خیز عمل نہیں ہو پاتا اور نہ کوئی منصوبہ سازی مکمل ہوتی ہے۔

حکومت ملک اور عوام کی بہتری کے لئے کوئی اقدام نہیں کرنا چاہتی، اس بنا پر ہی جنرل(ر) حمید گل نے ”بزرگوں کی کونسل“ والی تجویز دی کہ وہ اپنے تجربے اور علم سے ”عظیم ایجنڈے“ کی تدوین اور حکمت عملی کی تدوین میں مدد دے سکتی ہے،لیکن انہوں نے ایسی کونسل کے قیام کے لئے کوئی ٹھوس تجاویز نہ دیں، عوام اس سے مطمئن نہیں ہوئے وہ تفصیل جاننے کے خواہشمند مند ہیں، بعدازاں اپنے مختلف انٹرویوز اور خطابات میں بھی انہوں نے نظام کی تبدیلی کی بات تو کی،لیکن تجاویز نہیں دیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں کا نظام بھی براہِ راست ووٹوں کا ہونا چاہئے، اس سے امریکی صدارتی نظام سے مطابقت پیدا ہو سکتی ہے،لیکن میری ذاتی رائے میں اس میں بھی بہت خامیاں ہیں۔مَیں نے2008ء میں امریکی صدارتی انتخابات دیکھے ہیں، جب مجھے موقع ملا تھا، اس میں بھی بڑے بڑے تضادات نظر آئے اور امریکی ایوانِ اقتدار والے حضرات ان کو درست کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے،کیونکہ اس طرح ماضی اور مستقبل کے انتخابات کے حوالے سے بہت سے سوالات اُٹھ کھڑے ہوں گے۔

بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات ہیں جن کا جواب جنرل حمید گل نے واضح طور پر نہیں دیا، پچھلے کچھ سال سے کچھ چیزیں رونما ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں ان کا ذکر کیا،لیکن یہ سوال ابھی بھی تشنہ ہے کہ ان کی طرف سے پہلا اشارہ اپریل1998ء میں دیا گیا تھا اور ان منصوبوں کو تبدیل کرنے میں بہت زیادہ وقت لگا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ابھی بھی کہیں مشکلات ہیں جو پورے منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہونے دیتیں۔ یہ بات قابل ِ فہم ہے کہ پارلیمنٹری سے لے کر صدارتی نظام لانے کے ایجنڈے کا منصوبہ کئی سال پہلے بنایا گیا اور ان کے تھنک ٹینک اپنے مطابق عملدرآمد کی کوشش کر رہے ہیں،لیکن رکاوٹیں انہیں وہ کام کرنے نہیں دے رہیں، جو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جنرل(ر) حمید گل نے انتقال سے قبل آخری انٹرویو میں کہا کہ سیاسی قیادت میں کوئی مطابقت نہیں ہے اور آئندہ کے لئے یہ غیر متعلق ہو گی اور نوجوانوں سے اعلیٰ امیدیں وابستہ ہیں،نوجوان نسل میں مایوسی پیدا ہو گی، لہٰذا اس خیال اور سیاسی نظام کے خاتمے اور سیاسی قیادت سے مایوسی کے نتیجے میں نیا خیال جنم لے گا،کیونکہ یہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام میں سے منتخب جمہوری معاشی نظام/نظام ہونا چاہئے۔صدرمنتخب کرنے کے لئے براہِ راست انتخابات امریکی طرز کے برعکس یا جنرل ایوب خان کے بالواسطہ انتخابات کی طرح ہونا چاہئے۔اس نظام میں تبدیلی کی پہلی کوشش، جس کا اشارہ جنرل حمید گل نے اپریل1998ء میں لکھے گئے مضمون میں دیا تھا، مشرف کا اقتدار سنبھالنا اسی منصوبے کا حصہ تھا،لیکن مشرف بھی اس نظام میں تبدیلی نہ لا سکے اور مسلم لیگ(ق) کو بادشاہ کی پارٹی بنانے کے بعد یہ منصوبہ بُری طرح ناکام ہو گیا اور اسی خراب نظام کا حصہ بن گیا۔

بعدازاں شہید رانی بے نظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے مذکورہ منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور پیپلزپارٹی اقتدار میں آ گئی۔2013ء میں، جناب نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ منصوبہ ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا۔اس منصوبے کو متحرک اور زندہ رکھنے کے لئے2011ء میں عمران خان کی حوصلہ افزائی کی کوشش کی گئی تھی اور فیصلہ سازوں کے ذریعے انہیں مرکزی میدان میں لانا ایجنڈے ہی کا ایک حصہ تھا۔ بعد میں، اس کو اقتدار میں لانا اور موجودہ نظام میں تبدیلی کے ایک کیٹیلسٹ کی حیثیت سے کام کرنے اور اس کی رہنمائی کرنے کا موقع فراہم کیا گیا،لیکن لوگ ایجنڈے پر عملدرآمد کرنے میں نااہلی کا اندازہ نہیں کر سکے،ایجنڈے کے نفاذ کے لئے ابھی بھی رکاوٹیں ہیں،کیونکہ موجودہ قائدین کی نااہلی فیصلہ سازوں کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -