کورونا ……کن فیا کون

کورونا ……کن فیا کون
کورونا ……کن فیا کون

  

کورونا کیا آیا دنیا بھر کی تحریروں کا عنوان بن گیا،کوئی سوشل میڈیا پر اس کے دیسی طبی ٹوٹکے بتا رہا ہے، کوئی اسلامی حوالوں سے اس پر اظہار خیال کررہا ہے، بے شمار شعراء کرام کے منظوم ارشادات سامنے آئے، کوئی اسے بین الاقوامی سازش بتا رہا ہے، دوبڑی طاقتیں چین اور امریکہ ایک دوسرے پرالزام تراشیاں کررہی ہیں، الغرض دنیا میں اگر کسی پر اظہار خیال ہو رہاہے تو وہ کورونا ہے۔ کہیں لاک ڈاؤن کھل رہا ہے تو کہیں سخت کیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا اس وقت کورونا کی لپیٹ میں ہے تو ظاہر ہے کہ پاکستان میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔یہاں بھی کورونا پر ادیب اور لکھاری طبع آزمائی کر رہے ہیں، کئی گلوکاروں نے تو بڑی عمدہ دھنوں میں گیت بھی پیش کر دئیے ہیں اور آئندہ سال کوورنا ہی موضوع سخن رہے گا۔

کورونا کے بارے میں ماضی کی بھی کئی کتب میں اس کا ذکر موجود ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی اس کے بارے میں متعدد تصانیف منظر عام پر آنے کی توقعات ہیں۔ کورونا کے حوالے سے عالمی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ماہرین مالیات اس پر اپنے ماہرانہ تبصرے کررہے ہیں جو اس امر کے غماض ہیں کہ ترقی پذیر ممالک تورہے ایک طرف، ترقی یافتہ ملکوں کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جو تشویشناک ہے۔ جہاں تک لاک ڈاؤن کا تعلق ہے تو لاک ڈاؤن کھولنے والے ممالک میں وائرس نے پھرحملہ کر دیا ہے اور جہاں لاک ڈاؤن ابھی تک برقرار ہے وہاں عوام نے اسے ختم کرنے کے لیے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ حکومتیں مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث چین،ایران، جرمنی اور جنوبی کوریا میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری طرف سوئٹزرلینڈ، برلن اور آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کے لیے شہری احتجاج کر رہے ہیں۔ فرانس، نیدر لینڈ اور سپین میں بھی مزید نرمی کر دی گئی ہے۔ برطانیہ میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ روس میں کورونا کے متاثرین میں 10ہزار کا اضافہ ہوا اور متاثرین کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 41 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں پرائمری سکول کھول دئیے گئے ہیں اور ساتھ ہی روز مرہ کی ضروریات کی دکانیں بھی کھولی جارہی ہیں۔

دریں اثناء دنیا بھرمیں اس وقت تک دو لاکھ 80ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں جبکہ 13لاکھ سے زیادہ صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو حقائق پر نظر ڈالیں تو لاک ڈاؤن میں نرمی وقت کا تقاضا ہے۔ لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار ہنرمند، مزدور اور چھوٹا کاروباری طبقہ بری طرح متاثر ہورہا ہے اور حکومت کہاں تک ان کی مالی مدد کر تی رہے گی۔ دوسری طرف ہمارے عوام کی اکثریت ناخواندہ ہے اوروہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیرسے کما حقہ ناآشنا ہے اور جو آشنا ہیں ان میں بھی اکثریت احتیاطی تدابیر کے لئے درکار اشیاء کی قوت خرید نہیں رکھتی۔ تو یہاں ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان علاقوں میں جہاں کم پڑھے لکھے افراد سکونت پذیر ہیں وہاں گلی، محلے کی سطح پر ان کو احتیاطی تدابیر کی تربیت دی جائے اور اس حوالے سے جو ضروری اشیاء درکار ہوتی ہیں ان کو مفت فراہم کی جائیں اور لاک ڈاؤن کے جو اوقات مقرر کئے گئے ہیں اس دوران اور ازاں بعد قانون نافذ کرنے والے افراد کومتعین کیا جائے جس میں ٹائیگر فورس کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقررہ اوقات کے دوران لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور لاک ڈاؤن کی نرمی کے اوقات کے بعد کسی کو کاروبار کرنے کی اجازت نہ ہو اورایسا کرنیوالوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اس میں قید و بند کی سزاؤں سے ہٹ کر انہیں ایک مخصوص مدت تک کاروبار کرنے سے روک دیا جائے جو ان کے لیے ایک بڑی سزا ہوگی اور اگر وہ اس پربھی عمل پیرا نہ ہوں تو پھر انہیں پابند سلاسل کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔

بصورت دیگر ان لوگوں کی بے احتیاطی سے کورونا کیسز میں اگر اضافہ ہوا تو ایک تشویشناک صورتحال ہوگی اور یہ نہ ہو کہ پھر گیم حکومت کے ہاتھ سے بھی نکل جائے اور ہمیں انسانی جانوں کے بھاری نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یہ ذہن میں رہے کہ کورونا ایک خطرناک وباء ہے جو امیر اور غریب کے امتیاز سے ماورا ہے۔ خدانخواستہ اگر اس میں اضافہ ہوا تو ہماری طبی صورتحال پہلے ہی دگرگوں ہے ہسپتال آبادی کے تناسب سے نہ ہونے کے برابر ہیں اوراگر خدا نخواستہ یہ وائرس پھیل گیا تو پھر الامان الحفیظ۔ پھر یورپ اورہم میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور جانوں کے اطلاف کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوجائے گا تو اس لئے یہ حکومت پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے اورگہرے غورفکر کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کے اصول وضوابط تیار کرے اورپھر اس پر سختی سے عمل کرایاجائے بصورت دیگر نتائج خطرناک ہی نہیں ناقابل گرفت بھی ہوسکتے ہیں جو ہماری استطاعت سے باہرہوں گے۔

یہاں اس امر کا اظہار بھی بے جانہ ہوگا کہ کورونا وائرس سے احتیاطی تدابیر میں یہ بھی شامل ہے کہ ہاتھوں کو دن میں کئی بار20سیکنڈ تک دھونا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس وائرس کو20سیکنڈ ہاتھ دھوکرختم کیا جا سکتا ہے اس کی ویکسین ابھی تک تیار ہو کر باہر نہیں آئی۔ یورپ، آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ، چین اور ایشیائی ممالک سمیت اس وقت سو سے زیادہ طبی کمپنیاں کورونا ویکسین کی تیاریوں میں مصروف ہیں مگر اب تک اس کی تیاری کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی کہ کسی نے یہ ویکسین تیار کر لی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ ویکسین کی تیاری اور اس کے کامیاب تجربے تک 18سے 24 ماہ لگ سکتے ہیں۔ بارگاہ خداوندی کے فیصلے اپنے ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ رحمت الٰہی جوش میں آ جائے اوراسے عالم انسانیت پر رحم آجائے اورکسی ملک کے گمنام شخص سے جلد ہی اس موذی وباء کی ویکسین تیار کرا دے (آمین) یا رب العالمین۔

مزید :

رائے -کالم -