سودی نظام کی ناکامی اور اسلامی نظام کا مستقبل

سودی نظام کی ناکامی اور اسلامی نظام کا مستقبل
سودی نظام کی ناکامی اور اسلامی نظام کا مستقبل

  

پچھلے دنوں ایک یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کی طرف سے دعوت ملی کہ ”موجودہ عالمی اقتصادی بحران اور اسلامی معیشت“ اور ”عالمی سودی نظام اور یہودی ذہن“ کے بارے میں طلبہ و طالبات کو ایک لیکچر دیا جائے۔ دعوت نامے میں لکھا تھا کہ یہ دو گھنٹے کا (Webinar) سیشن ہوگا۔ نوجوانوں سے کمیونیکیٹ کرنا ایک خوشگوار تجربہ رہا کلاس روم لیکچر دینے کا 25 سالہ تجربہ ہے، پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنا اور پھر پڑھانا، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور نجی یونیورسٹیوں کے ساتھ وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر تعلق زندگی کا ایک انتہائی خوشگوار تجربہ ہے جس سے سیکھنے کے مواقع ملتے ہیں لیکن آجکل معاملات بالکل بدل رہے ہیں روایتی اندازِ تدریس قابلِ عمل نہیں ہے

ای لرننگ کا رواج روز افزوں ہے آن لائن کلاسز وقت کی ضرورت بن گئی ہے اس مقصد کے لئے کی ٹولز (Tools) دستیاب ہیں کیونکہ ہم انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) سے بہت زیادہ واقفیت نہیں رکھتے اس لئے جب (Webinar) کی دعوت ملی تو اپنی بیٹیوں سے رابطہ کیا ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ہماری ڈاکٹر ماریا کمال نے بتایا کہ سیمینار کے وزن پر ویبینار ہے یعنی ویب سیمینار۔ جس طرح سیمینار میں ایک فرد/ ماہر سٹیج پر کھڑے ہو کر حاضرین سے خطاب کرتا ہے اسی طرح ویبینار میں آپ بولیں گے اور اس میں شریک طالبعلم آپ کی بات سنیں گے اس میں مکالمہ نہیں ہوگا۔ گفتگو یعنی لیکچر، سیمینار میں گفتگو کی مانند ہوگا اور ویبینار کا کنٹرول گفتگو کرنے والے کے پاس ہوتا ہے وہ حسبِ ضرورت سننے والوں کے سوالات کا جواب دیتا ہے سننے والے لکھ کر سوال کرتے ہیں اور ویبینار سے خطاب کرنے والا اپنی مرضی سے جواب دیتا ہے، یہ جان کر ہمیں تسلی ہوئی کہ ہم سیمینار کی طرح ویبینار سے بھی خطاب کر سکتے ہیں۔

موضوع بڑا دلچسپ ہے ویسے معاشیات ہمارا سبجیکٹ بھی رہا ہے اسلامی معیشت بارے تعلیم بھی حاصل کر رکھی ہے قرآن میں یہودیوں کے بارے میں بھی پڑھا ہے علماء کرام سے بھی سنا ہے کہ وہ ”حزب الشیاطین“ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابراہیم علیہ الصلاۃ و سلام کے بیٹے اسحاق اور پوتے یعقوبؑ کی نسل سے تعلق رکھنے والے یہودی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پسندیدہ گروہ میں سے تھے یعقوب ؑ کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے اسی نسل سے داؤدؑ، موسیٰؑ مبعوث ہوئے زبور، توریت اور انجیل انہی انبیاء کرام پر نازل ہوئیں۔ داؤدؑ نے اللہ کے حکم سے یروشلم میں ایک عبادت گاہ کی تعمیر کا آغاز کیا جسے ان کے بیٹے سلمانؑ نے مکمل کیا اور ہیکل سلیمانی کے نام سے معروف ہوئی۔

یروشلم میں قائم کردہ یہ عبادت گاہ بنی اسرائیل کی عظمت و شکوہ کی علامت تھی اللہ کی رضا کا اظہار تھی لیکن یہودی اپنی فطرت کے عین مطابق اللہ کی نافرمانی کرنے لگے انہوں نے اللہ کی طرف سے مبعوث کردہ انبیاء و رسل کو جھٹلانا شروع کیا۔ احکاماتِ ربانی کی تکذیب کرنا شروع کی۔ توریت و شریعت موسوی میں سود کی حرمت بیان کی گئی ہے لیکن یہودیوں نے ”منی چینجرز“ کے نام سے یہ کاروبار شروع کیا۔ عہد نامہ جدید یعنی انجیل میں درج ہے کہ عیسیٰ ابن مریم نے ہیکل میں جا کر انہیں بتایا کہ تم سودی کاروبار کرتے ہو جو اللہ کے احکامات کے خلاف ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودیوں نے شروع سے ہی ”سودی کاروبار“ سنبھال لیا تھا یہودیوں نے آسمانی پیغام میں تحریف کر کے ”غیر یہودیوں سے سود لینا حلال قرار دے لیا تھا“ تلیمود کے مطابق ”غیر یہودیوں“ کے ساتھ سودی لین دین درست ہے یہی وجہ ہے کہ یہودی ہزاروں سالوں سے اس کام میں مصروف ہیں۔ عالمی نظام معیشت ایسے ہی سود خور یہودی بینکاروں اور سرمایہ داروں کی گرفت میں ہے۔

جاری سرمایہ دارانہ نظام مارکیٹ اکانومی میں زر (Money) بنیادی اہمیت رکھتی ہے اسی زر کے باعث معاشی سرگرمیاں وقوع پزیر ہوتی ہیں اس نظام نے اپنی تشکیل کے لئے تقریباً 300 سال کا وقت لیا۔ صنعتی انقلاب کے بعد فرانس میں برپا ہونے والے انقلاب نے صدیوں سے قائم جاگیرداری نظام کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ تہذیب انسانی کی تاریخ میں زرعی دور دس ہزار سال تک قائم و دائم رہا۔ اس نظام میں مذہبی رہنماؤں اور جاگیر داروں کے گٹھ جوڑ نے وسائل پر قبضہ جمائے رکھا۔ کسان اور کارکنان پر عرصہ حیات تنگ رہا۔ پھر صنعتی دور کے احیاء نے اس نظام کو کمزور کیا اور انقلاب فرانس کے ذریعے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔ آدم سمتھ کے شہرہ آفاق مقالے ”دولت اقوام“ نے ایک نئے نظام کی بنیادیں استوار کیں یہ نظام، نظام زر، سرمایہ دارانہ نظام برطانیہ میں قائم ہوا۔

پھر یورپ کے مختلف ممالک سے ہوتا ہوا امریکہ میں پہنچا یہاں اس نے جوانی دیکھی۔ یہودی سود خور روتھ چائلڈ نے اپنے پانچ بیٹوں کی مدد سے اسے امریکہ اور یورپ میں مستحکم کیا اور بینکاری نظام کی بنیادیں قائم کیں۔ عیسائی انہیں عیسیٰ ابن مریم کے ماننے والے کیونکہ سود کو حرام سمجھتے ہیں اس لئے بینکاری نظام کے قیام و استحکام میں انہوں نے حصہ نہیں لیا بلکہ یہ سب کچھ یہودی کرتے رہے۔ یہودی غیر یہودیوں کے ساتھ سودی لین دین کو حلال سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے شاطرانہ انداز میں اس نظام زر کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام پر قبضہ جما لیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس نظام کے مختلف اعضاء (Organs) پر یہودی مسلط ہیں۔ عالمی ادارے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف وغیرہ سب پر یہودی تسلط ہے 90 کی دہائی میں اشتراکیت کے خاتمے کے بعد یہ نظام ساری دنیا پر بلا شرکت غیرے قابض ہو چکا ہے چین، جو دنیا کی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے، نے بھی اسی ماڈل کو اختیار کیا ہے اشتراکیت کے ذریعے نہیں بلکہ فری مارکیٹ اکانومی کے تصور پر عمل کرتے ہوئے وہ دنیا پر چھا رہا ہے۔

کورونا نے چند مہینوں کے اندر اس نظام کی چولیں ہلا دی ہیں اس نظام کے خلاف، اس کی نا انصافیوں کے باعث ایک عرصے سے اس کے بارے میں باتیں ہو رہی تھیں پیدائش دولت کے ساتھ ساتھ اس نظام کے تقسیم دولت کے بارے میں بحث و مباحثہ جاری تھا اس نظام کی ”فیوض برکات“ کا عملی مظاہرہ دیکھنے اور بھگتنے والے امریکی عوام اس کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے کہ کورونا نے چند ہی مہینوں کے اندر اندر 3 سو سالوں سے بننے والے اس نظام کی کمزوریوں کو آشکارہ کر دیا ہے۔

ایک بات تو طے ہی سمجھی جانی چاہئے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنے برگ و بار لا چکا ہے اس کے دامن میں جس قدر فلاح و بہتری تھی وہ دنیا پر ظاہر ہو چکی ہے اس کے دامن کے کانٹے بھی سامنے آ چکے ہیں اس کا اس صورت میں جاری رہنا ممکن نہیں ہے۔ آزاد مارکیٹ اکانومی چل نہیں سکتی ہے ریاستی مداخلت کے بغیر صرف نفع اندوزی کے زیر سایہ سود کی بنیادوں پر یہ غیر منصفانہ نظام چلنے کے قابل نہیں ہے امریکہ جیسے ملک میں اور یورپ جیسے خطے میں اس نظام کی جو حالت ہمارے سامنے ہے وہ اس کے مستقبل قریب کے بارے میں ہمیں وضاحت کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا چلنا اور دنیا کی قیادت کرنا ممکن نہیں ہے۔ نفع اندوزی کے حصول کے جنون کے ساتھ، کثرت پیداوار تو ہو سکتی ہے لیکن عامتہ الناس کی ضروریات کی فراہمی میں یہ نظام مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے۔

اس کے مد مقابل اشتراکی نظام پہلے ہی ناکام ہو گیا ہے اب اس کے مد مقابل جو چینی ماڈل پرورش پا رہا ہے برگ و باہر دکھا رہا ہے دنیا پر غالب آ رہا ہے وہ بھی ایسا ہی ہے یہ بھی اشراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کا ملغوبہ ہے اس میں ریاست اور فرد مل کر کثرت پیداوار کے ذریعے اشیاء و خدمات کی مارکیٹ پر کنٹرول کے ذریعے دولت پیدا کرتے ہیں۔ طلب و رسد کی قوتیں، پیداوار کی نوعیت طے کرتی ہیں۔ معارف پیداوار کو کم کر کے منافع زیادہ سے زیادہ کرنے کی کاوشیں کی جاتی ہیں اس طرح کثیر رسد کے ذریعے نفع اندوزی کی جا رہی ہے امریکہ و مغربی ممالک اس کا راستہ روکنے کے لئے مستعد نظر آ رہے ہیں جس طرح سرمایہ دارانہ نظام میں، منڈیوں کے حصول کے لئے مغربی اقوام کے درمیان مسابقت نے جنگوں کو جنم دیا۔ جس طرح سرمایہ دارانہ اور اشراکی نظام کے درمیان جنگ و جدل رہا اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -