قومی اسمبلی کا اجلاس، پھر وہی غیر سنجیدگی

قومی اسمبلی کا اجلاس، پھر وہی غیر سنجیدگی
قومی اسمبلی کا اجلاس، پھر وہی غیر سنجیدگی

  

بڑی کوششوں کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو امید تھی کہ ایک نیا رنگ ڈھنگ، ایک نیا بیانیہ اور ایک نیا جذبہ نظر آئے گا، مگر صاحب ایسی امیدیں پاکستان میں کہاں پوری ہوتی ہیں۔وہی پرانے ڈھب اور وہی سیاسی کلا کاریاں جو ہمیشہ سے قومی اسمبلی کے اندر ہوتی آئی ہیں، اس اجلاس میں بھی دیکھنے کو ملیں۔سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ قائد ایوان اور قائد حزبِ اختلاف اجلاس میں شریک ہی نہ ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان تو ویسے ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، پچھلے دو سال کی تاریخ اِس امر کی گواہ ہے شہباز شریف کو یہ بہانہ مل گیا ہے کہ وہ کینسر کے مریض ہیں اس لئے نہیں آ سکتے، حالانکہ سنا ہے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ کورونا سے بچاؤ کے ہر ممکن ایسے ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے،جو اس وبا سے بچنے کے لئے ضروری ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر خدا خدا کر کے قومی اسمبلی کا اجلاس ہو ہی رہا ہے تو قوم کے مسائل کو زیر بحث لایا جائے، خاص طور پر کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے قومی لائحہ عمل تیار کیا جائے، ایسی ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں جو کورونا کے اثرات سے عوام اور قومی معیشت کو بچانے کے کام آئیں، مگر اتنی فرصت کس کے پاس ہے کہ ان پہلوؤں پر غور کرے، باریک نکات پر توجہ دے، حالات کے مطابق بات کرنے کا سلیقہ ڈھونڈے۔ یہاں تو وہی پرانی فلم چلنی ہے جو ملک کے اس سب سے بڑے آئینی فورم پر ہمیشہ چلائی جاتی ہے۔

کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں کہ اتنے تردّد کے بعد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی سیاسی چپقلش پہلے جیسی موجود ہے۔ کیا یہ موقع تھا کہ اپوزیشن ایک بار پھر قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کرتی،کیا یہ بات بذاتِ خود کورونا وائرس کے خلاف بنائے گئے،ایس او پیز کے خلاف نہیں کہ آپ اجتماعی طور پر کندھے سے کندھا ملا کے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کریں۔ اب یہ کون سا جواز ہے کہ مراد سعید تقریر کریں گے تو اپوزیشن واک آؤٹ کر جائے گی، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپوزیشن ایوان میں بیٹھ کر مراد سعید کی تقریر سنتی، وہ اگر متنازعہ باتیں کرتے تو اس کا فائدہ انہیں نہیں، اپوزیشن کو ہوتا کہ اس اہم ترین اجلاس میں بھی الزاماتی سیاست کی جا رہی ہے۔کیا بلاول بھٹو زرداری نے مراد سعید کو اپنی کمزوری بنا لیا ہے کہ خود تقریر کرتے ہیں اور اُن کی تقریر سے پہلے ایوان سے اُٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ ایسی بچگانہ حرکتوں سے کیا قومی اسمبلی کے وقار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، کیا اسی طرح عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس وقت کورونا کی وجہ سے پورا ملک جس طرح ایک بحران میں مبتلا ہے۔ کیا اس قسم کے رویوں سے اسے بحرانی کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے۔ یہ تو وسائل اور وقت کا بے رحمانہ ضیاع ہے،

قومی اسمبلی کے اجلاس پر کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں،اگر وہاں سنجیدگی کا عالم یہی رہنا ہے تو پھر یہ کروڑوں روپے اُن غریبوں بیمار اور مستحقین پر خرچ کئے جائیں جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔قومی اسمبلی اجلاس کے پہلے روز ایک طرف اٹھارویں ترمیم کے حق میں تقریریں کی گئیں اور دوسری طرف کہا گیا کہ وفاق کورونا سے نبٹنے کے لئے صوبوں کی مدد نہیں کر رہا۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت تو صحت کا شعبہ صوبوں کی دسترس میں دیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے اٹھارویں ترمیم کے بعد سے کھربوں روپے کا بجٹ صحت کے شعبے پر خرچ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بجٹ کا کیا بنا، ہسپتالوں میں تو بنیادی سہولتیں موجود نہیں، ایک طرف یہ مطالبہ ہے کہ وفاق صوبائی خود مختاری میں مداخلت نہ کرے اور دوسری طرف یہ شکایت ہے کہ وفاق صوبوں کی مدد نہیں کر رہا۔ کورونا کے بعد بہت کچھ بدل جانا چاہئے،لیکن لگتا ہے ہماری سیاست کا مزاج نہیں بدلے گا، جس کے خمیر میں کھوکھلی الزام تراشی اور انتہا درجے کی غیر سنجیدگی موجود ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے، موت کے منہ سے واپس آئے، صحت یاب ہوب ہونے کے بعد انہوں نے پارلیمینٹ کے اجلاس میں شرکت کی، وہاں کسی نے ان پر الزام تراشی کی اور نہ انہوں نے صورتِ حال کے لئے کسی کو موردِ الزام ٹھہرایا،بلکہ انہوں نے قومی پالیسی بیان کی کہ کس طرح ہمیں کورونا وائرس سے لڑنا ہے اور اس کا توڑ کرنے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن میں کس طرح مرحلہ وار نرمی کرنی ہے۔ بورس جانسن کے پاس تو بڑا اچھا بہانہ تھا کہ وہ کورونا مریض بن کر مزید آئسولیشن میں رہتے،مگر وہ پارلیمینٹ میں آئے اور انہوں نے قوم کو ایک واضح پالیسی دی۔چاہئے تو یہ تھا کہ وزیراعظم عمران خان اسمبلی کے اجلاس میں جاتے اور حکومت کی اب تک کاوشوں کو سامنے لاتے، مستقبل کے لائحہ عمل کی نشاندہی کرتے اور اپوزیشن کو یہ پیغام دیتے کہ حکومت اُن کے ساتھ مل کر کورونا کا مقابلہ کرے گی۔اس سے خیر سگالی کا ایک بہت اچھا پیغام جاتا اور معاملات محاذ آرائی کی بجائے اتفاقِ رائے کی طرف جاتے،مگر اُن کے نہ آنے سے ماحول وہی بن گیا جو ہمیشہ سے قومی اسمبلی کی پہچان ہے۔ انتشار، الزام تراشی اور سطحی باتیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ اجلاس خاص طور پر کورونا سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بحث کے لئے بُلایا گیا ہے،اس میں تو اس موضوع پر ٹھوس گفتگو ہونی چاہئے اور کسی ایسی متفقہ قومی پالیسی پر پہنچنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہئے،جو ملک کو کورونا کی تباہی سے بھی بچا لے اور اس کی وجہ سے قومی معیشت پر جو شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اُن سے بچنے کا لائحہ عمل بھی دے۔

قومی اسمبلی سے باہر کا ماحول تو یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مالی مفادات پر جھگڑا چل رہا ہے۔ یہی وہ موضوع ہے جو اُس الزام تراشی کو جنم دیتا ہے جو آج کل سیاسی منظر نامے پر موجود ہے۔ سندھ اور مرکز کی حکومت میں بھی جھگڑا اس بات پر ہے۔ وفاقی حکومت اپنے طور پر سندھ میں امداد تقسیم کرنا چاہتی ہے اور سندھ حکومت اسے صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دے کر یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ فاقی حکومت سندھ کے لئے امداد صوبائی حکومت کے توسط سے دے۔ پی ٹی آئی کے وزراء علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ سندھ حکومت کو کیش نہیں دیں گے،کیونکہ وہاں آٹھ ارب روپے کی امداد پہلے ہی ہڑپ ہو چکی ہے، جبکہ پیپلزپارٹی یہ الزام لگاتی ہے کہ احساس پروگرام میں بڑے پیمانے پر گھپلے کئے جا رہے ہیں، اسمبلی سے باہر تو یہ باتیں سیاسی نظریہئ ضرورت کے تحت برداشت کی جا سکتی ہیں، مگر جب آپ انہیں قومی اسمبلی کے اندر لے آتے ہیں تو گویا آپ اُس فورم کو بھی متنازعہ بنا دیتے ہیں، جو قومی اتفاق رائے کا مظہر ہونا چاہئے۔

میری ذاتی رائے میں قومی اسمبلی کے اندر سب سے زیادہ بحث اس نکتے پر ہونی چاہئے کہ کورونا سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن ہونا چاہئے یا نہیں، مگر ہونا چاہئے تو اُس کی نوعیت کیا ہو،کیونکہ یہی وہ پہلو ہے جس پر سب سے زیادہ ابہام اور اختلاف موجود ہے، اسی ابہام اور اختلاف کی وجہ سے عوام میں کورونا کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔جب ملک کے ایک حصے میں لاک ڈاؤن نرم کیا جائے گا، اس حقیقت کے باوجود کہ وہاں کورونا کیسز زیادہ ہیں تو دوسرے حصوں میں اسے سختی سے کیسے نافذ کیا جا سکے گا۔ یہ سب کچھ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کراچی میں تاجروں نے پنجاب کی مثالیں دے کر لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ کیا اور دھمکی بھی دی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کریں گے،خود بازار کھول دیں گے، مَیں سمجھتا ہوں لاک ڈاؤن کی پالیسی پر قومی اسمبلی میں تفصیلی بحث ہونی چاہئے، الزام تراشی سے ماورا ایسی ٹھوس تجاویز اور رہنما اصول زیر بحث آنے چاہئیں، جن کی بنیاد پر مرکزی حکومت ایس او پیز بنائے اور فیصلے کرے تاکہ اس حوالے سے ابہام اور انتظار کا خاتمہ ہو سکے،مگر لگتا نہیں کہ ایسا ہو سکے گا، چونکہ حکومت و اپوزیشن میں خلیج اتنی گہری ہے کہ جسے پاٹنے کے لئے کھلے دِل اور اعلیٰ ظرفی کی ضرورت ہے، جو فی الوقت قومی سیاست میں جنس نایاب ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -