آزمائش شرط ہے!

آزمائش شرط ہے!
آزمائش شرط ہے!

  

یہ کورونا وائرس بڑا ہی عجیب و غریب وائرس ہے۔ پانچ چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی اس کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا۔ دنیا بھر کے سائنس دان اور ماہرینِ طب یہ نہیں بتا سکتے کہ اس کی ویکسین کب دستیاب ہو سکے گی۔ محتاط اندازے بھی دو سال سے کم دورانئے کا حکم نہیں لگا رہے۔ لیکن ان دو برسوں میں خلقِ خدا پر جو گزرے گی وہ ناقابلِ بیان ہو گی۔ اب تک جس ایک احتیاطی تدبیر پر سارا زورِ کلام صرف کیا جا رہا ہے وہ ایک ذی روح کی دوسرے ذی روح سے دوری ہے۔ اس کو ”سماجی دوری“ کا نام دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے کم از کم 5،6 فٹ دور رہے…… لیکن ایسا ممکن نہیں …… چند ہی مالدار اشخاص ایسے ہوں گے جو اس سماجی دوری کا پالن کر سکیں گے، باقی ہماشما تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

کورونا وائرس کے اٹیک کی ٹیکٹکس بھی بالکل نئی اور انوکھی ہیں۔ جب یہ حملہ آور ہوتا ہے تو انسانی جسم پر کسی مرئی علامت کا اظہار نہیں ہوتا۔ اس وائرس کا عرصہ پرورش دس سے پندرہ دن تک ہے۔ اس دوران پہلے گلے میں خارش ہوتی ہے، پھر خشک کھانسی آتی ہے اور پھر ہلکا بخار شروع ہو جاتا ہے۔ اگر اس بخار کے دوران اپنے آپ کو کسی کمرے میں تنہا کر لیا جائے اور دوسرے انسانوں سے رابطہ منقطع ہونے کا کوئی بندوبست کر لیا جائے تو افاقے کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے جو خاصا سست رو ہوتا ہے۔ 15،20 دنوں کے بعد تنہائی (isolation) کا یہ وقفہ گزر جاتا ہے اور بخار ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ یہ وائرس ایک بار جار کر دوبارہ پھر واپس بھی آ سکتا ہے اس لئے مشتری کو از بس ہوشیار رہنا ہو گا۔ صحت مند ہونے کے بعد بھی ناک اور منہ پر ماسک چڑھانا، ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا اور سماجی فاصلے کی پابندی کرنا ایسا معمول ہے جس کی خلاف ورزی کا متحمل نہیں ہوا جا سکتا۔

میرے تین قریبی عزیزوں نے شک دور کرنے کے لئے چغتائی لیب سے ٹیسٹ کروایا اور نتیجہ Positive آ گیا۔ چنانچہ وہ اپنے گھروں میں قرنطینہ ہو گئے ہیں۔ ان کے کمرے کے باہر ایک میز رکھ دی گئی ہے جس پر تین وقت کا کھانا تیار کرکے رکھ دیا جاتا ہے، پینے کو نیم گرم پانی تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دو ادویات بھی تجویز کی گئی ہیں۔ دونوں گولیاں (Tabs) ہیں۔ ایک کا نام Azomax ہے اور اس کی پوٹنسی 500ملی گرام ہے۔ بازار سے عام دستیاب ہے۔ چھ گولیوں کا پیکٹ 300 روپے کا ہے…… دوسری دوا Myteka کے نام سے ملتی ہے اور اس کی پوٹنسی 10ملی گرام ہے۔ایک پتے میں سات گولیاں ہیں اور اس کی قیمت بھی 300روپے ہے۔ اس کے علاوہ دن میں تین بار بھاپ لینے کو کہا گیا ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی فرائی پان میں پانی ابال لیں اور اسے واش روم میں لے جائیں۔ اس کا ڈھکنا اٹھا کر 1/4 چائے کا چمچ Vicks Balmملا دیں۔(اس کی قیمت 50روپے فی بوتل ہے)۔ Azomax صبح شام کھانی ہے اور کھانا کھانے کے دو گھنٹہ بعد کھانی ہے۔

مائی ٹیکا رات کو سوتے وقت Azomaxکی گولی سے ایک گھنٹہ بعد کھانی ہے۔کھانے میں دلیا، پورا ابلا ہوا انڈہ، شوربے والا سالن اور چھوٹے گوشت کی یخنی لی جا سکتی ہے۔ ٹھنڈے مشروب سے ٹوٹل پرہیز کریں۔ اگر پسینہ آئے تو اس کو خشک کرکے کپڑے تبدیل کر لیں۔ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو حسبِ معمول انسولین لگائیں اور اگر ہائی بلڈ پریشر ہے تو اس کی دوا (یا ادویات) بھی باقاعدگی سے کھائیں۔ ہر دو گھنٹے بعد تھرما میٹر سے بخار چیک کریں اور اس کا اندراج بھی ایک الگ کاغذ پر کرتے جائیں تاکہ ریکارڈ رہے۔ بخار کی صورت میں غسل نہ کریں۔ بخار اتر جائے تو جسم کو گرم اسفنج کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ دماغ پر زیادہ زور نہ دیں۔ مطالعہء کتب اور ٹیلی ویژن دیکھنے کی پابندی تو نہیں لیکن جب بھی تھکاوٹ محسوس کریں کتاب کو پرے ”پھینک“ دیں اور TV آف کر دیں۔ تلاوت قرآن اور ہلکی پھلکی موسیقی سننے کی اجازت نہیں، تاکید ہے۔

قارئین کرام! میں نے یہ تفصیل اس لئے دی ہے کہ خدانخواستہ اگر کسی کا کورونا ٹیسٹ Positive آئے تو وہ درج بالا معمول کی پیروی کر سکتا ہے۔ یہ ادویات، خوراک اور پرہیز وغیرہ فوجی اور سویلین ڈاکٹروں، مستند حکیموں اور لاہور کے چند معروف ہومیو پیتھک ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے اور ان سے طویل بحث و مباحثہ کرنے کے بعد تحریر کیا گیا ہے۔ اگر کورونا Positiveآجائے تو گھبرائیں نہیں، خوفزدہ ہونے سے مرض کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ مرض لاعلاج نہیں، صرف احتیاط (اور ازحد احتیاط) کی ضرورت ہے۔ کھانے پینے کے برتنوں کو اور نیز جس میز پر کھانا وغیرہ رکھا جائے اس کو بھی ہر روز سینی ٹائز کریں۔ بستر کی چادر اور سرہانوں کے غلاف ہر روز تبدیل کریں …… اور ہاں ایک اور ٹوٹکہ یاد آیا۔ کسی پنساری کی دکان سے ”سنا مکّی“ منگوا لیں اور صبح و شام اس کا قہوہ نیم گرم حالت میں پئیں۔ یہ ایک دیسی بوٹی ہے اور پنساریوں کی دکان سے عام دستیاب ہے۔ ایک سو گرام کی قیمت 50،60روپے ہے۔ اس کے پتے نیم کی شکل کے ہوتے ہیں۔ جب اس کا جوشاندہ بنائیں تو دوکپ پانی ابال کر جب ایک کپ رہ جائے تو اس میں 1/2 چمچ شہد ملا لیں۔ اس کا رنگ جوشاندے کا سا ہوتا ہے لیکن اس کا ذائقہ اور خوشبو بالکل نہیں ہوتی۔ یہ بے ذائقہ اور بے بو جوشاندہ ہے۔ اسی لئے اس کو بچے بھی بڑے شوق سے پی لیں گے۔ پانی جب بھی پئیں نیم گرم ہو اور اگر عام حالات میں دن میں 6گلاس پیتے ہیں تو بخار کی کیفیت میں 9،10کلاس ضرور پئیں۔

میرے اپنے کئی عزیز ڈاکٹر ہیں۔ ان میں خواتین بھی ہیں اور مرد بھی۔ بیرون ملک سے ڈگریاں لے رکھی ہیں۔ امریکہ میں نصف درجن اعزہ و اقربا وہاں کے معروف ہسپتالوں میں پریکٹس کر رہے ہیں۔ شکاگو، بوسٹن، نیویارک اور ملواکی ریاستوں میں ان کا بڑا نام اور مقام ہے۔ میں نے ان سب سے رابطہ کیا اور طویل ڈسکشن وغیرہ کی ہے…… آج کل ’نظر بندی‘ کی کیفیت میں ڈسکشن کے سوااور ہے بھی کیا…… رات گئے تک اِدھر اُدھر فون کرنا ایک معمول سا بن گیا ہے۔ ایک نہائت محترم اور عزیز دوست جنرل ظہور ملک بھی ہیں جو آج کل سکاٹ لینڈ گلاسکو، میں مقیم ہیں۔ ان کی صاحبزادی وہاں کی معروف ڈاکٹر ہیں۔ ان سے بھی رابطے میں رہتا ہوں بلکہ وہ ازراہِ نوازش جس دن فون نہ آئے بے چین ہو کر پوچھتے ہیں: ”کہیں کورونا تو Positive نہیں آ گیا؟“……

یہ کالم انتہائی ذاتی بنتا جا رہا ہے اس لئے معذرت خواہ بھی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قارئین میں سے بہت سے حضرات اور خواتین کے رشتہ دار اور جاننے والے اندرون ملک اور بیرون ملک پیشہ ء طب سے وابستہ ہوں گے۔ آج کل تو پوری دنیا کورونا وائرس کا شکار ہے۔ غیر ملکی میڈیا ہمارے میڈیا کے برعکس کورونا ہی پر صبح و شام و شب بحث کرتا اور اعداد و شمار بناتا رہتا ہے۔ مغربی دنیا اس وبا سے ہماری نسبت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ چنانچہ ایسے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی گفتگو اور تاثرات کو قلم بند کرکے اخبارات کو بھیجیں۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا اس طرف بہت کم توجہ دے رہا ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور دوبارہ عرض کررہا ہوں کہ اس موضوع پر ٹاک شوز کا ایک ریگولر پروگرام ترتیب دیا جائے جس میں سیاسی موضوعات کے علی الرغم کورونا سے وابستہ موضوعات پر بحث و مباحثہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں طبی ماہرین سے استفادہ کیا جائے۔ پرنٹ میڈیا کے کرتا دھرتا حضرات سے بھی میری درخواست ہے کہ وہ ادارتی صفحہ / صفحات میں کورونا کے وہ موضوعات جو مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا پر ڈسکس ہوتے ہیں ان کو کیری کیا جائے۔ جس طرح اس ماہِ رمضان میں مختلف ٹی وی چینل رمضان المبارک کے تناظر میں ملک کے چنیدہ علماء کو دعوتِ کلام دیتے ہیں، اس طرح ملک میں ڈاکٹروں، حکیموں اور ہومیو پیتھک کی کمی نہیں۔

ان کو ٹی وی پر بلا کر ان سے مختلف سوالات پوچھے جائیں اور ان کے جوابات نشر کئے جائیں …… سیاسی ٹاک شوز بہت ہو لئے…… خدارا ان کو اس وقت تک بیک برنر پر رکھ دیں جب تک کورونا وائرس کی کوئی ویکسین دریافت نہیں کر لی جاتی۔ گزشتہ اڑھائی تین ماہ سے لاک ڈاؤن ہی پر بحث و مباحثہ چل رہا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا ہے تو وہاں بھی: ”وہی پوشیدہ بیماری، وہی نامحکمی دل کی“ والا معاملہ ہے۔ رات گئے تک ہمارے نیوز چینل سیاسی پارٹیوں کے ان جغادری خطیبوں کو دعوتِ وعظ دے رہے ہیں جن کو دیکھ دیکھ کر آنکھیں پتھرا چکی اور کان سُن ہو چکے ہیں …… شائد کارکنانِ قضاء قدر نے کورونا وائرس کو اس لئے ہمارے پیچھے لگایا ہو کہ یہ لوگ ایسے تو باز نہیں آتے، اس وبا کے اثرات کے براڈ سپیکٹرم (وسعتِ حدود و ثغور) کے خوف سے شائد کسی ”غیر سیاسی“ موضوع کی طرف دھیان کی باگیں موڑ دیں!!

مزید :

رائے -کالم -