پلاٹ کیس،میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں یکم جون تک توسیع

پلاٹ کیس،میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں یکم جون تک توسیع

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں یکم جون تک توسیع کر دی،دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے زیر سماعت مقدمات کی کارروائی معطل رکھنے کا کیسے ایس او پی بنایا، عدالتوں کو تالہ مار دیتے ہیں پھرعدالت نے قیدیوں کو پیش نہ کرنے سے متعلق مبہم ایس او پیز بنانے پر پراسکیوٹر اور ملزم کے وکلاء کوآئندہ سماعت پردلائل کے لئے طلب کر لیا ہے،کیس کی سماعت شروع ہوئی تونیب کے سپیشل پراسکیوٹر عاصم ممتاز عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل عاشق حسین اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل رپورٹ سمیت پیش ہوئے،فاضل جج نے ملزم میر شکیل الرحمن کہاں ہے؟اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈسٹرکٹ جیل میں ہے اور کرونا وائرس ہے پیش نظر پیش نہیں کیا جا سکتا۔فاضل جج نے کہا کہ عدالت کودھوکہ دے رہے ہیں کہ جیل میں ہے، نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم ہسپتال میں ہے، کہاں لکھا ہے کہ ہسپتال منتقل کیا گیا؟ فاضل جج نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو دھوکہ مت دیں، کسی کو نہیں بخشیں گے، یا تو جیسے کام چل رہا تھا چلنے دیتے میرے سامنے نوٹیفکیشن پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ گھر کی عدالتیں بنا رکھی ہیں۔ حکومت کو کوئی اختیار نہیں کہ مقدمات کی کارروائی معطلی کا حکم دے۔ کیا ہائیکورٹ کا آرڈر موجود ہے کہ مقدمات کی کارروائی معطل رہے گی،حکومت پنجاب کو کیا اختیار ہے کہ عدالتوں کو کہے کہ مقدمات کی کارروائی معطل رہے گی؟کس قانون کے تحت قیدیوں کو پیش نہ کرنے کا ایس او پی بنائے؟پولیس نے ہمارے معاشرے کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ ایس او پیز میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس سے لگتا ہے عدالتوں کو ڈکٹیشن دی جا رہی ہے، وزارت قانون، آئین پاکستان کہاں ہے، ایسی پالیسیوں نے سسٹم کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ فاضل جج نے مذکورہ بالاریمارکس کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی۔

پلات کیس

مزید :

علاقائی -