پولیس ناکوں کے سوا سب کھلا ہے

پولیس ناکوں کے سوا سب کھلا ہے
پولیس ناکوں کے سوا سب کھلا ہے

  

کرونا لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی بازار میں سب کچھ کھل گیا، اگر کچھ نظر نہیں آرہا ہے تو پولیس کے ناکے نظر نہیں آرہے ہیں جو کہ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران واحد قابل توجہ منظر ہوا کرتا تھا۔ دکانوں پر، بازاروں میں، سڑکوں پر، فٹ پاتھوں پر، ہر جگہ رش ہے، رش بھی ایسا کہ لگتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے سارے کس بل نکل گئے ہیں۔

لوگ حیرانی سے پوچھتے ہیں کہ آخر ان دکانوں پر گھومنے والوں کے پاس پیسہ کہاں سے آیاہے، کچھ کا گمان ہے کہ چونکہ سرکاری ملازمین کو بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں اس لئے بازاروں میں انہی سرکاری ملازمین اور ان کی فیملیوں کا رش ہے۔ ایک وقت تھا کہ سرکاری نوکریاں کرنے والوں کی فیملیاں بزنس مین فیملیوں اور پرائیویٹ نوکریاں کرنے والوں کی فیملیوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھا کرتی تھیں کہ موج تو ان کی ہے کہ روپے پیسے کی کوئی روک ٹوک نہیں، جنتا چاہیں خرچ کرسکتے ہیں اور ایک یہ وقت ہے کہ معاملہ ہی الٹ ہوا پڑا ہے۔ گزشتہ روز واپڈا کی پیغام یونین کے کارکن واپڈا ہاؤس کے سامنے احتجاج کر رہے تھے کہ انہیں عید کے موقع پر ڈبل بونس دیا جائے اور نجی اداروں کے ملازمین انہیں رشک کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ 

ویسے تو افطاری کے وقت شہر کی سڑکیں ویسے ہی خالی ہو جاتی ہیں جیسے ہمارے دل خالی ہیں لیکن بعض ایک دکانداروں کی رائے یہ ہے کہ افطاری کے بعد بھی دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے کیونکہ فیملیاں گھروں سے شاپنگ کے لئے افطاری کے بعد نکلتی ہیں، لیکن حکومت یہ خطرہ مول نہیں لے رہی ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ اگر اجازت دے دی گئی تو پھر لوگ گھروں سے ہی افطاری کے بعد نکلیں گے جیسا کہ گزشتہ سالوں میں ہوتا رہا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں لوگوں کو اندازہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ان کے اردگرد گھومنے والا نزلہ زکام یا کھانسی کا شکار ہے اس لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو کھلے دن میں ایک دوسرے سے میل جول کرنے دیا جائے۔

کرونا نے زندگی بدل دی، اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ زندگی کرونا ہوئی، قدم قدم پر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک نئے ڈھب کی زندگی کا شکار ہو چکا ہے، ایسے میں بہت سے لوگ بے تحاشا پریشان ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آنے والے کل سے کیسے نپٹا جائے گا، اس کا جواب ماہر نفسیات دیتے نظر آتے ہیں کہ کچھ کے لئے کوشش کیجئے اور کچھ کو ہونے دیں، یعنی سارا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے، بہت کچھ اللہ پر چھوڑدینا چاہئے اور اپنے لئے توفیق مانگنی چاہئے۔

کرونا بیماری نے صحت سے زیادہ معیشت کو جکڑ لیا ہے، صحت بچاتے بچاتے بنی نوع انسان معیشت کا بیڑہ غرق کربیٹھاہے، معیشت دان بھی اندازوں، قیافوں اور پیش گوئیوں کی چھریاں تیز کئے بیٹھے ہیں، دور دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے سوا کچھ نہیں کر رہے ہیں، وہ ڈر کی سیاست کو رواج دے رہے ہیں، ان کو آتا ہی یہی کچھ ہے، ان کے سامنے موجود اعدادوشمار کا گورکھ دھندا انہیں ڈھنگ سے سوچنے کی راہ بھی نہیں دیتا ہے۔ معیشت دانوں کے پاس اچھی خبر نہیں ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ طبیبوں نے بھی آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے، لوگوں کو معیشت دانوں سے زیادہ ڈرا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ گھروں میں دبکے رہیں تاکہ ڈاکٹروں کی زندگیاں داؤ پر نہ لگیں۔

ایسے میں حکومتوں کے لئے کرونا گلے کی ہڈی بن چکا ہے، وہ اسے نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں، بلکہ کئی حکومتوں کا تو یہ حال ہو چکا ہے کہ جو کوئی جو صلاح دیتا ہے، اس پر عمل شروع کردیتے ہیں، اس وقت اگر کسی شے کی کمی ہے تو وہ ٹھوس حکمت عملی کی ہے، حکومتوں کو کرونا نے مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، یہ ایک ایسا امتحان ہے جس نے حکمرانوں کے کس بل نکال دیئے ہیں۔

اب لاک ڈاؤن کھل چکا ہے اور لوگ دھڑا دھڑا آزادی کے نعمت سمیٹ رہے ہیں، وہ ریڈیو ٹی وی پر چلنے والے ہدایات کو دیکھتے تو ہیں مگر سنتے نہیں ہیں، اور اگر سنتے ہیں تو دیکھنے کے رودار نہیں ہیں، ان کے نزدیک زندگی جیسے انمول تحفے کو مفت میں بیٹھ کر نہیں گنوایا جا سکتا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران حاصل ہونے والی آزادی کا ایک ایک لمحہ کشید کرلیں۔

چنانچہ دریا کی روانی کے آگے بندھ باندھنا کسی کے بس میں نہیں ہے، خود پانی بھی اپنے بہاؤ کو روکنے پر قادر نہیں ہے، اس لئے لاک ڈاؤن میں سب پولیس کے ناکوں کے سوا سب کچھ کھلا ہے، دعا ہے کہ سب کچھ کھلا رہے اور اللہ کے خاص فضل سے بنی نوع انسان اس بیماری سے نجات پالے، آمین!

مزید :

رائے -کالم -