اندرون سندھ کورونا ٹیسٹ کی جعلی کٹس کا انکشاف، پیرپگارو کے صاحبزادے کا ٹیسٹ مثبت کراچی میں منفی!

اندرون سندھ کورونا ٹیسٹ کی جعلی کٹس کا انکشاف، پیرپگارو کے صاحبزادے کا ٹیسٹ ...

  

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کورونا ٹیسٹ ایک مرتبہ پھر مثبت آنے پر انہوں نے اپنے قرنطینہ کا دورانیہ بڑھا دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی کو کورونا آرڈیننس پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے وہی گفتگو انہوں نے کی جو ہم اپنے مضامین میں کرچکے ہیں، ان کا موقف تھا کہ آرڈیننس جو سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد گورنر سندھ کو دستخط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، اس میں بجلی اور گیس کیلئے جو سہولت طلب کی گئی ہے وہ صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار نہیں اسی وجہ سے واپس بھیجا گیا ہے۔ ویسے یہ بات حیرت کی بھی ہے کہ سندھ کابینہ نے اس آرڈیننس کے مسودے پر بحث کے دوران کسی وزیر نے یہ نقطہ وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے کیوں نہیں اٹھایا۔ موجودہ سیاسی نظام میں یہ بھی ایک نقص موجود ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اور ایک ہی پارٹی کی حکومت کی کابینہ کے ارکان بعض اوقات آزادانہ رائے دینے سے بھی گریزاں ہوتے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال قومی اسمبلی میں اس وقت بھی تھی جب آٹھویں ترمیم میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ختم کی گئی تھی تو اسمبلی میں کسی قسم کا مباحثہ نہیں ہوا تھا، اسی طرح 2010 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 18ویں ترمیم پاس کی گئی لیکن ایوان میں ایک دن بھی اس پر بحث نہیں ہوئی۔ ایسی ہی جمہوریت ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔ سندھ کابینہ کے کسی رُکن نے یہ سوال نہ اٹھایا کہ سندھ حکومت کو ایسا کورونا آرڈیننس لانا چاہیے جس سے صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کے محکموں سے عوام کو ریلیف دیا جاسکے، خاص طور پر کراچی واٹر بورڈ سے ریلیف کی بات سامنے آنی چاہیے تھی لیکن یہ دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کی گئی لیکن سوشل میڈیا میں بہت سے لوگوں نے اسے ایک سنجیدہ کوشش قرار نہیں دیا۔ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ اپنی سندھ حکومت کا اعتماد بہتر کرنے کیلئے منطقی اور اصولی فیصلے کرنے کی کوشش کرے۔

مسلم لیگ فنکشنل کے ترجمان سردار رحیم خان نے بھی سندھ حکومت کے خلاف سخت لہجہ اختیار کیا ہے اور برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا موقف تھا کہ پیر پگارو کے بیٹے اور رکن سندھ اسمبلی سید راشد شاہ راشدی نے پیر جو گوٹھ میں کورونا ٹیسٹ کروایا جو کہ مثبت آیا اور پھر انہوں نے کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی سے کورونا ٹیسٹ کروایا جو کہ منفی آیا۔ گویا اندرون سندھ کے ہسپتالوں میں جعلی ٹیسٹنگ کٹس مہیا کرنے والا محکمہ صحت سندھ ہے جو محترمہ عذرا پیچوہو کی سربراہی میں کام کررہا ہے۔ سردار رحیم خان کے مطابق پیر پگارو کے بیٹے کے ٹیسٹ کیلئے اگر جعلی کٹ استعمال ہوسکتی ہے تو پھر عام عوام کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہوگا۔ حیرت ہے کہ جعلی کٹس کیسے سپلائی کی جارہی ہیں۔ اراکین سندھ اسمبلی بھی اصلی ٹیسٹنگ کٹ کیلئے کراچی کا رخ کررہے ہیں۔

گذشتہ کئی دنوں سے سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت کے متعلق افواہیں گردش میں ہیں۔ غالباً اس کی وجہ ان کا منظر عام پر نہ آنا ہے۔ کرونا وائرس بحران شروع ہونے سے پہلے ہی وہ پارٹی ورکرز سے ملاقاتیں بند کرچکے تھے۔ کورونا وائرس بحران کے دوران ایک خبر جاری ہوئی کہ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو عوام کیلئے اقدامات کرنے کیلئے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا، اس کے بعد سے بھی انہوں نے کسی پارٹی اجلاس کی صدارت نہیں کی۔ ان کے ترجمان نے سابق صدر کے متعلق تمام خبروں کو افواہ قرار دیا ہے ان کے مطابق وہ تیزی سے روبصحت ہورہے ہیں۔ ماضی میں آصف علی زرداری ایک متحرک زندگی گذارتے رہے ہیں۔ اسلام آباد سے واپسی پر ان کی صحت کافی حد تک بہتر نہیں تھی، قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوچکا ہے، جہاں ان کی شرکت نہیں ہوپائے گی۔

اگرچہ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن 31مئی تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، لیکن تاجروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد صبح 6 بجے سے شام 4 بجے مخصوص کاروبار کرنے کی اجازت خوش آئند ہے۔ کیونکہ اب بیروز گاری اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ عوام کو وائرس کے ساتھ ہی جینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ کام کے ساتھ ساتھ وباء کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔

کورونا علاج کے حوالے سے پلازما پر کام کرنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی نے اعلان کیا ہے کہ کم از کم صحت یاب ہونے والے تین سو مریضوں کا پلازما درکار ہے۔ صحت یاب ہونے والے مریضوں کے پلازمے سے پہلے مریض کی صحت یابی نے امید کی شمع روشن کردی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ صحت یاب ہونے والے مریض بہت جلد اپنے پلازما کا عطیہ دینے کیلئے تیار ہوجائیں گے۔

معاشی سرگرمیوں کی بحالی اس لیے بھی خوش آئند ہوگی کہ عیدالفطر سے پہلے بہت سے لوگ روزگار پر واپس آجائیں گے۔ تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری سے بھی امید کی جارہی ہے کہ عید کے بعد روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ بیرون ملک سے بھی بہت سے لوگوں کی واپسی شروع ہوچکی ہے۔ خصوصی پروازیں بیرون ملک مقیم افراد کو واپس لانے کیلئے چلائی جارہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی واپسی اور روزگار کے نئے مواقع سے بھی اس صورتحال پر قابو پایا جاسکے گا۔

12مئی 2007ء پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا۔ جب ناحق خون بہایا گیا، آج تک اس وقت کے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو کسی عدالت نے طلب نہیں کیا۔ مشیر داخلہ وسیم اختر تو الزامات کی زد میں ہیں اور ان پر مقدمات بھی بنے، لیکن صوبہ سندھ جو اہم شخصیات چلارہی تھیں ان سے پوچھ گچھ کا ابھی تک وقت نہیں آیا۔ گذشتہ تیرہ برس میں ذمہ داران کو سزا نہیں ملی، جبکہ متاثرین دیگر کئی حادثات کی طرح انصاف کے منتظر ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -