کورونا وائرس، انداز زندگی تبدیل،لاک ڈاؤن میں نرمی،لوگ پہلے ہی ہوا میں اڑا چکے!

کورونا وائرس، انداز زندگی تبدیل،لاک ڈاؤن میں نرمی،لوگ پہلے ہی ہوا میں اڑا ...

  

کورونا وائرس نے زندگی کے سارے اسلوب بدل دیئے، گھروں میں رہنا اور بازاروں میں نکلنا بھی عجیب رنگ اختیار کر گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کو اس وبا سے بچاؤ کا سب سے بڑا، ہتھیار اور احتیاط قرار دیا گیا،تاہم ڈیڑھ ماہ تو دور کی بات لاہور کے شہری ابتدائی15دِنوں میں ہی زِچ ہو گئے تھے، اگرچہ اس لاک ڈاؤن کو سخت کہا گیا،لیکن حقیقت مختلف تھی، شہری احتیاط نہیں کرتے تھے۔دکانیں بھی کھلی تھیں اور ٹریفک بھی چلتی تھی۔ البتہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند تھے۔شادی ہالز، بڑے پلازے، بڑی مارکیٹیں بھی بند رہیں اور یہ سب تاحال بھی جوں کے توں ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے عذر میں عملہ صفائی،واسا اور مفاد عامہ کے دوسرے کاموں والے ملازمین نے بھی چھٹی کی۔حکومت اور انتظامیہ نے بہبود عوام کا کوئی خیال نہ کیا۔ پہلے لاک ڈاؤن کے بعد یہ عملہ بُلایا گیا،مگر ان کے لئے حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے،اسی طرح متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین نے کسی حفاظتی انتظام کے بغیر دفتر کھلوا لیا،حالانکہ تمام وفاقی دفاتر بند ہیں، کوئی بھی ملازم کورونا کا نشانہ بن سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو ذمہ داری کس پر ہو گی؟

وفاقی حکومت نے عام لوگوں کے روزگار کی خاطر11مئی(پیر) سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا، قواعد و ضوابط بنا کر چھوٹی مارکیٹیں اور کاروبار کھولنے کی اجازت دی، تاہم نوٹیفکیشن میں یہ تو وضاحت کی کہ کس نوعیت کی دکانیں صبح 6سے شام 5بجے اور پھر آٹھ بجے رات تک کھلی رہیں، لیکن مارکیٹوں کی تعریف نہ کی۔اعلان تو پیر کے روز سے تھا،لیکن چھوٹے کاروبار توپہلے ہی سے کھلے تھے۔ خصوصاً سستے ریڈی میڈ گارمنٹس والے فٹ پاتھوں پر دکانیں سجا چکے تھے۔یہ اب بھی ہیں اور رات گئے تک بھی بکری اور خریداری ہوتی ہے، ان غریب اور چھوٹے دکانداروں نے بیٹریوں سے روشنی کا بھی اہتمام کر لیا ہے۔ ٹریفک بھرپور طریقے سے رواں ہے اور کاروبارِ زندگی معمول پر آتا جا رہا ہے۔یہ رمضان کی برکات بھی ہیں۔بہرحال اللہ ہی سے دُعا کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا رحم کرے کہ ہم گنہگار تو توبہ بھی نہیں کر رہے اور عوامی سطح پر عوام سے لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف نوعیت کی اشیاء مختلف طریقے سے مہنگی بیچی جا رہی ہیں۔ فلور ملز مالکان نے آٹے کے نرخ بڑھا دیئے اور دو روپے فی کلو اضافہ کر کے آٹا42روپے فی کلو(20کلو کا تھیلا840 روپے) کر دیا ہے۔

کورونا رُت ہی کے دوران سیاست گری بھی جاری اور پنجاب میں تو مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف میں ٹھنی ہوئی ہے، حال ہی میں سابق سپیکر ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور نیب کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا، ان حضرات کا یہ ردعمل اس اطلاع اور خبر کی وجہ سے تھا کہ نیب نے چولستان کی زمینوں کی الاٹ منٹ میں بے قاعدگی اور اقربا پروری کے علاوہ مفاد اٹھانے کے الزام میں سابق وزیراعلیٰ قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کے خلاف نئی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ان حضرات نے الزام لگایا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے اور حزبِ اختلاف کو انتقام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جوابی طور پر صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اپنے طرزِ تخاطب کے حوالے سے کہا کہ جنہوں نے کیا ان کو بھگتنا بھی ہو گا۔

ادھر فرزند راولپنڈی شیخ رشید معمول کے مطابق اس ہفتے بھی لاہور میں تھے۔ ماضی میں وہ پرل کانٹی نینٹل میں آتے تاہم جب سے وزیر ریلوے ہوئے، ریلوے کے مرکزی دفاتر ان کا ڈیرہ بن چکے، اور ہر ہفتے یہیں میڈیا سے بھی بات کرتے جو محکمانہ کم اور سیاسی زیادہ ہوتی ہے۔ اس بار بہرحال قدرے محکمانہ بات بھی کی اور کہا کہ وہ9مئی کے بعد10مئی سے محدود ٹرین آپریشن شروع کرنا چاہتے تھے، لیکن قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ایسا نہیں کیا، اب ان کی کوشش ہو گی کہ عید سے قبل کچھ مسافر گاڑیاں بھی چلائی جائیں،اس کے لئے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ اجازت ملی تو عوام کو سستے سفر کی سہولت پھر سے مل جائے گی، یہ بات تو ہوئی، لیکن سیاسی طنز سے رُک نہ پائے اور کہا شہباز شریف لندن جانا چاہتے ہیں،لیکن وہ نہ جا سکیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ شہباز شریف واپس آ کر پھنس چکے ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ دستاویزات لندن چھوڑ آئے ہیں اس کے باوجود میرا نہیں خیال کہ ان کو جانے کی اجازت ملے۔

ادھر مسلم لیگ(ق) اور تحریک انصاف کے درمیان پھر سے غلط فہمیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے کہ نیب نے چودھری پرویز الٰہی اور اُن کے دوسرے بھائیوں اور احباب کے خلاف پرانی شکایت کی دوبارہ تحقیقات شروع کر دی ہے۔ مسلم لیگ(ق) کا الزام ہے کہ یہ حربہ دباؤ کا طریقہ ہے اور بند ہوئی تحقیقات پھر سے شروع نہیں کی جا سکتیں، اس سلسلے میں چودھری پرویز الٰہی نے لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے، باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے بطور سپیکر کورونا کے حوالے سے اسمبلی کے اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی، اس میں ایوان میں موجود تمام جماعتوں (بشمول پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)) اراکین کی نمائندگی ہے،بظاہر یہ پارلیمانی کمیٹی کورونا کی وبا کے حوالے سے ہے،لیکن عملی طور پر کمیٹی نے کئی صوبائی محکموں اور احکام کا جائزہ لے کر صوبائی حکومتوں کو تجاویز اور سفارشات پیش کیں اس سے یہ تاثر لیا گیا کہ مسلم لیگ(ق) چودھری برادران کے خلاف خصوصاً مونس الٰہی والے معاملے کی وجہ سے دباؤ کا حربہ اختیار کیا جا رہا ہے اور چودھری برادران نے مسلم لیگ(ن) سے روابط بھی بحال کئے ہیں،جو تحریک انصاف کی قیادت کو منظور نہیں اور ان کے مطابق یہ مسئلہ ایک صفحہ کا بھی ہے اور عمران خان کسی دباؤ میں نہیں آنا چاہتے۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ فاصلے بڑھ رہے ہیں، تاہم ریکارڈ شاہد ہے کہ پھر سے ایک دوجے کے شکوے دور ہو سکتے ہیں اور یہ ممکن ہے اِس لئے حزبِ اختلاف کی توقعات پوری نہیں ہوں گی۔ یوں بھی مسلم لیگ(ن) کے اراکین کا ایک گروپ سپیکر محترم ہی کے توسط سے حکمران جماعت کے رابطے میں تھا اور اب بھی ہے اسے بھی کسی اہم موقع پر حرکت میں لایا جا سکتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -