عالمی ادارہ صحت نے پیش گوئی کی، پاکستان مئی سے جون تک زیادہ متاثر ہوگا، ہم نے لاک ڈاؤن کھول دیا

عالمی ادارہ صحت نے پیش گوئی کی، پاکستان مئی سے جون تک زیادہ متاثر ہوگا، ہم نے ...

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

ملتان سے شوکت اشفاق

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی یا سمارٹ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ کسی ہوم ورک کے بغیر کیا گیا،ایک طرف تو چاروں صوبے اس اہم ترین مسئلے پر وفاق کے ساتھ ایک پیج پر نظر نہیں آرہے کیونکہ ادھر وفاقی حکومت کوئی فیصلہ کرکے اعلان کرتی ہے اُدھر صوبے اس کے برعکس بیان داغ دیتے ہیں،جس کا فائدہ کچھ کاروباری لوگ اٹھا رہے ہیں اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں،اب ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت سے کرونا وائرس قابو میں آرہا ہے اور نہ لاک ڈاؤن پر عمل ممکن رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ جس دن نرمی کی گئی اسی دن مریضوں اور متاثرین کی اموات میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیاجو روز بروز بڑھ رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت اور ایک امریکی ریسرچ یونیورسٹی کی رپورٹ بھی یہی تھی کہ پاکستان میں یہ وائرس مئی میں اپنے عروج پر ہوگا جو جون تک رہے گا یہی وجہ رہی ہوگی کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیک کی متعدد تنظیموں نے حکومت سے اپیل کردی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے بلکہ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے بتائے پروٹوکول پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے،لیکن بدقسمتی سے ان دونوں پر کم ازکم یہاں تو عمل نہیں ہوا اور اس وقت 700سے زیادہ ہیلتھ پروفیشنلزکرونا سے متاثر ہوچکے ہیں اب یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی سرایت کررہا ہے،اگر یہی حالات رہے تو پھر پاکستان کے بارے میں وہ پیش گوئی سچ ثابت نہ ہوجائے کہ یہاں 14فیصد سے زائد لوگ متاثر ہوسکتے ہیں ادھر ایک اور پریشانی کی بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر آگیا ہے اور اگر حالات یہی رہے تو ہمیں مزید اوپر جانے سے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ اس وقت متاثرین کی اموات کی شرح بھی21فیصد تک ہے جو ایک خطرناک شرح ہے،اس سے زیادہ خطرناک وی آئی پی کلچر ہے۔اپنے آپ کو ناقابل گرفت سمجھنے والا یہ طبقہ صرف سیاستدانوں پر مشتمل نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ سمیت مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انتظامیہ شامل ہے جو آج بھی عوام کو تو لاک ڈاؤن کرنا چاہتی ہے لیکن خود روزانہ کی بنیاد پر بند ریستورانوں کو کھلوا کر سحری اور افطار ڈنر ترتیب دئیے جارہے ہیں،ملتان اس میں سرفہرست ہے جہاں یہ عالم ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر میر دوست محمد مزاری دبئی سے خصوصی پرواز کے ذریعے ملتان پہنچے تو کسی کو خاطر میں لائے بغیر اپنی فیملی سمیت بغیر ٹیسٹ کے لاہور چلے گئے مگر اطلاع ملی ہے کہ ان کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے،لہذا اب وہ قرنطینہ ہوگئے ہیں۔

ادھر سرکاری اہلکاروں نے اپنی نااہلی کو چھپانے اور گندم کی خرید کا ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے کاشتکاروں کے گھروں میں چھاپے مارنے شروع کردئیے ہیں جہاں ان کاشتکاروں نے اپنی سال بھر کی ضرورت اور رشتہ داروں،عزیزوں اور ملازمین کو دینے کیلئے گندم رکھی ہوئی تھی چونکہ پنجاب کے کسی ضلع میں گندم خریداری کا ہدف پورا نہیں ہوا،اس لئے اب انتظامیہ ایسا کام کررہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ ہوسکا۔ایک طرف حکومتی ارکان اسمبلی اور وزراء کی آشیر باد سے ذخیرہ اندوزوں نے گندم کی بے تحاشا خریداری کی اس وقت سرکاری اہلکار سوتے رہے اب بجائے ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنے کے الٹا کاشتکاروں کو تنگ کیا جارہا ہے اور ڈرا دھمکا کر ٹارگٹ پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کا تمام تر منفی اثر تحریک انصاف کی حکومت پر پڑے گا،خصوصا وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جو پہلے ہی انتظامی حوالے سے کافی کمزور ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے صوبے میں کیا ہورہا ہے۔انہیں یہ کیسے معلوم ہوسکے گا کہ جہاں گزشتہ پونے دوسالوں میں ایک ایک اضلاع میں پانچ پانچ دفعہ ڈپٹی کمشنرز اور پولیس ہیڈ تبدیل ہوچکے ہوں نیچے والے عملے کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے کہ انٹی کرپشن اور نیب میں مقدمات ہونے کے باوجود انتہائی اہم عہدوں پر تعینات ہیں۔انتظامی معاملات پر عدم توجہی کی وجہ سے ٹڈی دل بھی افزائش پاچکا ہے،پہلے بھی نشاندہی کی تھی کہ جب یہ انڈے دے رہا تھا تو اس وقت اسے ختم کرنے کی ضرورت تھی مگر اس وقت کسی کو اس حوالے سے ہوش تک نہ تھا مگر اب افزائش پاکر کئی سو گنا بڑھ اور بھکر،چکوال،لیہ،راجن پور اور سانگھڑ سمیت مختلف علاقوں میں رواں دواں ہے جہاں اس وقت سبزہ نظر آرہا ہے جس میں مختلف فروٹوں کی اقسام کے ساتھ چارے اور سب سے بڑھ کر کپاس کی بوائی ہوچکی ہے اوراس کے پودے اُگ رہے ہیں جو اس کی نظر ہوسکتے ہیں،بیانا ت کی حد تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں متحرک ہیں لیکن عملی طور پر ابھی تک کوئی کام سامنے نہیں آرہا ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کیلئے زہر آلود دوائی مقامی زرعی ادویات بیچنے والوں سے لیں گے مگر شاید حکومت کو یہ معلوم نہیں کہ ان کمپنیوں کے پاس ایسی زرعی ادویات موجود نہیں ہیں اگر یقین نہ آئے تو ایف بی آر کے کسٹم ونگ کا ڈیٹا اٹھا کر دیکھ لیں سمجھ آجائے گی اور اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو آئندہ انہی صفحات پر تفصیل مل سکتی ہے کہ کس طرح اس ملک کی زراعت کے ساتھ خونی کھیل کھیلا جارہا ہے اور اب جبکہ ملک کو زراعت کی سخت ضرورت ہے ایسے میں بھی یہ زرعی ادویات کا مافیا زرعی یونیورسٹیوں،کپاس پر ریسرچ کے اداروں اور کسانوں کی ڈمی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس مرتبہ بھی کھربوں روپے لوٹنے کا پروگرام بنا چکا ہے لیکن واضع رہے کہ انہوں نے ایک لیٹر زرعی دوائی بھی امپورٹ نہیں کی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -