طویل لاک ڈاؤن کے بعد تجارتی مراکزپر بے ہنگم رش

طویل لاک ڈاؤن کے بعد تجارتی مراکزپر بے ہنگم رش

  

طورخم بارڈر پر کورونا سے جنگ کرنے والے میجر اصغر کو خراج عقیدت

دیامیر بھاشا ڈیم، بی آر ٹی سمیت دیگرترقیاتی منصوبوں پر سرگرمیاں

پشاور دھماکے کے بعد امن و امان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے

خیبر پختونخوا میں عالمگیر وبا دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے، آئے روز اموات اور متاثرین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، دو روز قبل کورونا سے پاک فوج میں بھی پہلی شہادت ہوگئی،پاک فوج کے میجر محمد اصغر کورونا کے خلاف فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوگئے، وہ طور خم بارڈر پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ میجر محمد اصغرطور خم بارڈر پرافغانستان جانے والوں کی اسکریننگ کی ذمہ داریاں ادا کررہے تھے جس کے باعث انہیں کورونا ہوااور کورونا کے خلاف فرائض سر انجام دیتے ہوئے وہ جام شہادت نوش کر گئے۔ مختلف ہسپتالوں کے ڈاکٹرز، پیرا میڈکس سمیت کئی دیگر شعبوں سے منسلک افراد بھی اس موذی وبا کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، اب جب کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر خیبرپختونخوا حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے چھوٹی بڑی مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے کا اعلان کیا ہے تو ہزاروں کی تعداد میں شہری بازاروں میں نکل آئے ہیں، اکثر مقامات پر احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی بھی جاری ہے، اس حوالے سے ماہرین طب کا کہنا ہے کہ رش کی یہی صورت حال رہی تو کورونا کے پھیلاؤ میں مزید برق رفتاری سے اضافے کا امکان ہے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے میجر محمد اصغر کی شہادت کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی کورونا کی روک تھام کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں ملک و قوم کا تحفظ کیا ہے۔ پوری قوم اس وباء سے برسرِ پیکار پاک فوج، طبی عملے اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز کو سلوٹ پیش کرتی ہے۔ اجمل وزیر نے صوبے میں کورونا نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات میں بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 359 قرنطینہ مراکز قائم ہیں جن میں 22483 افراد کو قرنطینہ کرنے کی گنجائش ہے۔ یہ مراکز صوبے کے مختلف اضلاع میں بنائے گئے ہیں۔ قرنطینہ مراکز میں رکھے گئے افراد کی نگہداشت کے لیے عملے کے 443 ارکان اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، پشاور ائیرپورٹ پر اب تک 8 فلائٹس کے ذریعے 1932 افراد وطن واپس آ چکے ہیں جنہیں مختلف قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا۔ بیرون ممالک سے آنے والے ان پاکستانی شہریوں میں سے 1140 افراد کو اسکریننگ اور کورونا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد گھروں کو بھیجا گیا ہے جبکہ 792 افراد اب بھی قرنطینہ مراکز میں قیام پذیر ہیں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد حکومتی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کا کاروبار کو سیل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے صوبے کے عوام خصوصاً پشاور کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا میں تعمیر ہونے والے دیا میر بھاشا ڈیم پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ توانائی ضروریات کی تکمیل اورپانی کے تحفظ کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے‘ ڈیموں کی تعمیر سے زرعی ضروریات کے لئے پانی کی دستیابی کے ساتھ ساتھ سستی بجلی کے حصول میں مدد ملے گی تعمیراتی کام میں مقامی سامان اور افرادی قوت کو ترجیح دی جائے، اس سے لوگوں کو روزگار کے بڑے پیمانے پر مواقع ملیں گے اور تعمیراتی شعبہ اور دیگر متعلقہ صنعتیں ترقی کریں گی‘ تعمیراتی کام کے معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ وزیر اعظم کی ان ہدایات کے اگلے ہی روز بھاشا ڈیم پر خاصی رونق دکھائی دی، پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے افسر و اہلکار سرگرم ہو گئے اور سائٹ پر خاصی گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ خصوصی اجلاس کو بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کے حصے کے طور پر علاقے کی سماجی ترقی کی مد میں 78 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ یہ ڈیم سیلاب کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور ہر سال سیلاب سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان سے بچائے گا۔وزیراعظم نے مہمند ڈیم کے کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ داسو جیسے اہم منصوبے پر کام جلد شروع کیا جائے۔

بھاشا ڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایات کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا میں زیر تکمیل منصوبوں کے حوالے سے بھی تگ و دو شروع کر دی گئی ہے، بی آر ٹی منصوبے کے سربراہ سید ظفر علی شاہ نے بھی گزشتہ دو تین روز کے دوران کئی اجلاس کر ڈالے اور متعلقہ افسروں کو ہدایت کی کہ شہریوں کو سستی اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے میٹرو منصوبے کو دن رات ایک کر کے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ دیگر ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت تیزی دکھا رہی ہے اور گزشتہ روز وزیر اعلی محمود خان کی زیر صدارت ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے، قبائلی عوام کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جائیں گے اور قبائلی عوام انضمام کے ثمرات سے جلد مستفید ہونگے، متعلقہ حکام کی ان منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، مزید براں ضم شدہ اضلاع کے سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کو جلد پر کیا جائے گا، علاقے کے لئے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ونز جلد تیار کئے جا رہے ہیں اور علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے زمین کی خریداری کے مسائل حل کرنے کے لئے تمام ڈپٹی کمشنرز کا اجلاس بھی بلایا جائے گا، رواں مالی سال کے دوران ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے جاری کردہ فنڈز کا 88 فیصد خرچ کیا جا چکا ہے، مالی سال کے خاتمے تک جاری کردہ فنڈز کے سو فیصد استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ جب سے ہمسایہ ملک افغانستان کے مختلف علاقوں میں امن دشمن سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں تو سرحد کے اس پار کے پی کے میں بھی دہشت گردی کے اکا دکا واقعات رو نما ہونا شروع ہو گئے ہیں، ابھی دو روز قبل صوبائی دارالحکومت میں ہونے والے واقعہ نے شہر کا امن تباہ کیا، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پولیس افسر اور اہلکار آج کل زیادہ توجہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی طرف دے رہے ہیں اور لا اینڈ آرڈر پر ان کا زیادہ دھیان نہیں اس وجہ سے پشاور جیسے بڑے شہر میں اس طرح کا واقعہ وقوع پذیر ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ تجارتی مرکز ہشت نگری اشرف روڈ پر سٹرک کنارے نصب کے گئے بم کے دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے نامعلوم دہشتگردوں نے تخریب کاری کی غرض سے بارودی مواد شاپنگ بیگ میں چھپاکر اشرف روڈ پر سڑک کنارے رکھا تھاجو دن کے 10بجے زور دار دھماکہ سے پھٹ گیا بم دھماکے کی زد میں آکرڈیوٹی پر موجود دو ٹریفک پولیس اہلکارنعیم اور قیصر،ایک دکاندار اور راہ گیر بھی زخمی ہوگئے لگتا ہے کہ اس دھماکے کا ٹارگٹ ٹریفک پولیس اہلکار ہی تھے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں بارودی مواد 500گرام کا تھا اور اس سے دیسی ساخت کا بم بنایا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -