افغانستان، ہسپتال اور جنازے پر حملوں میں 38افراد جاں بحق، 70زخمی، اشرف غنی حکومت ملک گیرآپریشن شروع کرنے کا حکم

افغانستان، ہسپتال اور جنازے پر حملوں میں 38افراد جاں بحق، 70زخمی، اشرف غنی ...

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں دو مختلف واقعات میں میٹرنٹی ہوم اور جنازے میں حملوں سے 38 افراد جاں بحق ہو گئے،دوسری طرف حملوں کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے فوج کو ملک گیر آپریشن شروع کر نے کا دیدیا۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مسلح افراد نے مغربی کابل کے علاقے دشتِ برچی میں میٹرنٹی ہسپتال پر حملہ کیا، حملہ آوروں نے ہسپتال میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ افغان خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں ہسپتال پر حملے میں 14 افراد جاں بحق ہوئے، حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو نومولود سمیت مائیں اور نرسز بھی شامل ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں کے آپریشن کے بعد 100 افراد کو بازیاب کروا لیا ہے، افغان سیکورٹی فورسز نے تین غیرملکیوں کو بھی بازیاب کروا لیا۔اس حملے سے افغان طالبان نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔دریں اثناء افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں پولیس اہلکار کے جنازے پر خود کش حملے کے دوران 24 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ننگر ہار میں ہونے والے دھماکے کے دوران ننگر ہار صوبائی کونسل کے ممبر عبد اللہ ملکزئی بھی چل بسے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خود کش دھماکا افغان صوبہ ننگر ہار کے ضلع خیوہ میں ہوا، واقع کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔افغان خبر رساں ادارے کے مطابق زخمی ہونے والوں کی تعداد 70 ہے جبکہ زیادہ تر زخمیوں کی حالت نازک ہے اور تشویشناک حالت میں انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں زچہ و بچہ مرکز پر حملے کے بعد اعلان کیا ہے کہ فوج کو ملک گیر آپریشن کرے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دفاعی انداز اپنانے سے دشمن کو غلط پیغام گیا ہے۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف جارح اندازاپنانا ہوگا۔

افغانستان

مزید :

صفحہ اول -