پنجاب سندھ، پھر سخت لاک ڈاؤ ن کی وارننگ، کورونا ایڈ وائزری گروپ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی عوا م نے نرمی کا ناجائز فائد ہ اٹھایا، مراد علی شاہ، تاجر برادری نے مایوس کیا: وزیر صنعت پنجاب

  پنجاب سندھ، پھر سخت لاک ڈاؤ ن کی وارننگ، کورونا ایڈ وائزری گروپ نے خطرے کی ...

  

لاہور، کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا عوام نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کردیا جس سے کورونا وائرس کی وباء مزید پھیلنے کے خطرات بڑھنے لگے۔ صورتحال کے پیش نظر صوبہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے لاک ڈاؤن پھر سے سخت کرنے کی وارننگ دیدی۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حساس صورتحال کے پیش نظر جاری بیان میں کہا کہ منگل کے روز کورونا سے صوبے میں ریکارڈ اٹھارہ ہلاکتیں ہوئیں، حالات بہتر نہ ہوئے تو دوبارہ پابندیاں لگا دیں گے۔ کورونا وبا میں مبتلا متعدد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، جن میں سے 27 وینٹی لیٹرز پر ہیں، اس کے علاوہ کراچی میں 412 نئے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔لاک ڈاؤن کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایس او پیز پر کسی نے عمل نہیں کیا۔دوسری جانب پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد عوامی ردعمل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے انہیں تاجروں نے مشکل میں ڈال دیا ہے، انہوں نے بہت زیادتی کی، دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں۔ چند روپوں کی خاطر سب کی زندگیاں داؤ پر لگا دی گئی ہیں، میں تاجروں کی وکالت کرکے تھک گیا، مگر ان لوگوں نے حد کر دی۔ ذمہ دار لوگوں کا یہ رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں نے تاجروں کا وکیل بن کر تمام دکانیں کھلوا دیں لیکن اب ان کی سب یونینز غائب ہو گئی ہیں۔ اچھرہ اور شاہ عالم مارکیٹ کے مناظر دیکھیں، حد ہو گئی ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ بازاروں میں بچوں کو مت آنے دیں جبکہ دکانوں اور مارکیٹس میں محافظوں کو کھڑا کیا جائے۔ تمام دکاندار سینی ٹائزر کا بندوبست کریں۔ دکاندار اور سٹاف کے ماسک نہ لگانے پر ان کا چالان ہوگا۔میاں اسلم اقبال کا تا جر وں سے گفتگو میں کہنا تھا میں لاک ڈاؤن دوبارہ لگتا دیکھ رہاہوں، آپ مارکیٹس کی ٹائمنگ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔ پہلے تاجر برادری موجودہ ٹائمنگ میں ایس اوپیز پر عملدرآمد کرکے دکھائے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی دکاندار کا فٹ پاتھ پر کوئی حق نہیں۔ پھٹے اور تجاوزات فوری ختم کریں۔ اگر آپ کچھ شرائط پر کاربند ہونگے تو کاروبار چلے گا۔ اگر کسی دکان سے کورونا برآمد ہو گیا تو وہ دکان بند ہو گی۔ادھر کورونا ایڈوائزری گروپ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرائے کیونکہ مارکیٹوں اور دکانوں پر ایس اوپیز کو نظر انداز کرنے سے صورتحال خراب ہو چکی ہے، عیدالفطر تک کیسز بڑھیں گے۔کورونا ایڈوائزری گروپ نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا احتیاط اور سختی ہی کورونا سے بچنے کا واحد طریقہ ہے۔ لاک ڈاؤن کھلنے سے کیسز بڑھ چکے ہیں۔ کورونا علامات کیساتھ گھر رہنے اور ٹیسٹ نہ کرانے سے اموات بڑھیں جبکہ بازار کھلنے سے کورونا کی منتقلی کا عمل بڑھ گیا ہے۔ادھر وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جاوید اکرم نے خبردار کیا ہے کہ عید تک کیسز میں ریکارڈ اضافہ ہو سکتا ہے۔ عید کے بعد حکومت کو دوبارہ سخت لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ مارکیٹوں اور دکانوں کو دن میں دو بار کلورینیٹ کیا جائے۔ فاصلے نہ رکھے گئے توشدید مشکل میں آ سکتے ہیں۔ بازار وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ وائرس کا کیریئر بننے سے گھروں میں بزر گ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ جولائی تک کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ محفوظ رہنے کیلئے پہلے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

پنجاب سندھ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وینٹی لیٹرز کے بہترین استعمال اور آسانی سے میسر آنے کیلئے مربوط حکمت عملی تیار کی جائے، ملکی معاشی صورتحال، عوام کے مسائل اور دیگر ملکوں کی صورتحال کو مد نظر رکھ کر لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی گئی، لاک ڈاؤن کورونا کیخلاف وقتی عمل ہے،کورونا سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، کورونا کے ٹیسٹ کے حوالے سے بعض حلقوں میں خدشات کو دور، عوام کو ترغیب دی جائے وہ بذات خود علامات کی صورت میں ٹیسٹ کرائیں، گھر پر قرنطینہ اختیار کرنے کے حوالے سے لوگوں کو معلومات فراہم کی جائیں۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کوویڈ-19کی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، مشیران ڈاکٹر عبدا لحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔وزیرِ اعظم کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال،مصدقہ کیسز، متاثرہ افراد کو طبی سہولیات کی فراہمی کے حوا لے سے صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا،ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹاف کو حفاظتی سامان کی فراہمی اور ان کیلئے دیگر سہولیات پر بھی بات چیت کی گئی۔بعدازاں وزیر اعظم عمران کی زیر صدارت ٹائیگر فورس سے متعلق اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعلی خیبر پختونخواہ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔وزیراعظم کو صوبائی سطح پر ٹائیگر فورس کی ہفتہ وار رپورٹ پیش کی گئی۔وزیراعظم نے ٹائیگر فورس سے متعلق وزرائے اعلی اور چیف سیکرٹریز کو گائیڈ لائینز دیتے ہوئے ملک بھر میں ٹائیگر فورس کو مکمل فعال کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہناتھاکہ ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک ٹائیگر فورس متحرک کریں۔ٹائیگر فورس سے احساس لیبر رجسٹریشن پراگرام میں بھی مدد لیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹائیگر فورس کے بہادر نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں۔مشکل وقت میں قوم کیلئے وقت نکالنے والے نوجوان ہیروز ہیں۔انتظامی سطح پر بہترین کوارڈینیشن کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم

کراچی،لاہور، پشاور، کوئٹہ (نیوز ایجنسیاں) دنیا بھر کے 185 سے زیادہ ملکوں کو متاثر کرنیوالے مہلک کورونا وائرس کا پاکستان میں پھیلاؤ بھی ہر گزرتے دن کیساتھ تیز ہورہا ہے، جس کے باعث اب تک ملک میں اس وبا سے 34 ہزار 325لوگ متاثر جبکہ 737 جان کی بازی ہارچکے ہیں۔سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز 2281 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی۔ سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 593 کیسز اور 18 اموات سامنے آگئیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 ہزار 64 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 593 کے نتائج مثبت آئے۔ صوبے میں مجموعی طور پر متاثرین کی تعداد 12 ہزار 610 تک پہنچ گئی۔ مزید 80 لوگ صحتیاب ہوئے جس سے یہ تعداد 2 ہزار 229 ہوگئی۔تاہم ان کا کہنا تھا گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 اموات ہوئی ہیں جو اب تک صوبے میں ایک روز میں سب سے زیادہ اموات ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 218 ہوگئی ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 1390کیسز اور 14 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے میں ان نئے کیسز کے بعد متاثرین کی تعداد 11 ہزار 869 ہوگئی۔ صوبے میں 24 گھنٹوں میں مزید 14 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جس سے مجموعی اموات 211 تک پہنچ گئیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید 37 نئے کیسز کا اضافہ ہوا۔سرکاری سطح پر قائم ویب سائٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں مزید 37 لوگ وائرس سے متاثر ہوئے، جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 679 سے بڑھ کر 716 ہوگئی۔اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں کورونا وائرس نے مزید 15 افراد کو متاثر کیا۔جس کے بعد وہاں اب تک کورونا وبا سے متاثر ہونیوالے افراد کی تعداد 442 سے بڑھ کر 457 ہوگئی۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے کورونا کے مزید 146 کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 5021 ہوگئی۔صوبے میں کورونا سے مزید 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی جس کے بعد یہاں اموات کی تعداد 267 ہوگئی ہے۔جاں بحق ہونیوالے نئے مریضوں میں سے 5 کی پشاور، 3 کی مردان جبکہ صوابی اور مالاکنڈ میں ایک، ایک کی موت واقع ہوئی۔ادھر آزاد کشمیر میں اگرچہ اس وائرس سے اب تک سب سے کم متاثر ہوا ہے اور وہاں اب تک ایک موت کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا اور مصدقہ کیسز کی تعداد 86 پر ہی موجود رہی۔محکمہ صحت بلوچستان نے کورونا وائرس کے 97 نئے کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 2158 ہوگئی۔ صوبے میں فعال کیسز کی تعداد 1875 جبکہ 256 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ملک میں نئے کیسز اور اموات کے باوجود صحتیاب افراد کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔صحتیاب افراد کی تعداد میں اس تیزی سے اضافہ ان لوگوں کیلئے امید کا باعث ہے جو اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مزید 343 افراد اس وائرس سے صحتیاب ہوئے۔جس کے بعد ملک میں اب تک صحتیاب افراد کی تعداد 8212 سے بڑھ کر 8555 تک پہنچ گئی۔کورونا کے حوالے سے ملک کی مجموعی صورتحال کے مطابق اب تک 32674 افراد متاثر ہیں جس میں سے 724 کا انتقال ہوگیا جبکہ 8555 صحتیاب ہوگئے تو اس طرح ملک میں ابھی 23 ہزار 395 فعال کیسز موجود ہیں۔صوبہ سندھ کے کیسز کی تعداد اس وقت سب سے زیادہ 12 ہزار 17 ہے جس کے بعد پنجاب کے کیسز ہیں اور وہاں 11 ہزار 869 لوگ متاثر ہیں۔خیبرپختونخوا میں متاثرین کی تعداد 5 ہزار 21 ہے تو وہیں بلوچستان میں 2 ہزار 158 لوگ وبا کا شکار ہوئے ہیں۔اسلام آباد میں 716 لوگوں کو وائرس متاثر کرچکا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں 457 اور آزاد کشمیر میں 86 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔اموات کی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ خیبرپختونخوا میں 267،سندھ میں 218،پنجاب میں 211،بلوچستان میں 27،اسلام آباد میں 06،گلگت بلتستان میں 04 اورآزاد کشمیر میں 1 موت واقع ہو چکی ہے۔

پاکستان کورونا

واشنگٹن،لندن،برسلز

(نیوزایجنسیاں)دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 43 لاکھ 24 ہزار 942 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 2 لاکھ 91ہزار 332 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 24 لاکھ 41 ہزار 114 مریض اب بھی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 46 ہزار 936 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 15 لاکھ 27 ہزار 496 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ایران نے رمضان المبارک کی طاق راتوں کیلئے ملک بھرکی تمام مساجد کھولنے کا اعلان کردیا۔ایران میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد مارچ میں تمام مساجد و مذہبی مقامات کو بند کردیا گیا تھا جبکہ ایرانی حکومت نے وبا کو کنٹرول کرنے کے بعد مخصوص علاقوں میں مساجد کھولنے کا اعلان کیا تھا۔اب ایرانی وزیر صحت سعید نمکی نے رمضان المبارک کی طاق راتوں کیلئے ملک بھرکی تمام مساجد کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اگلے ہفتے سے طاق راتوں میں مساجد رات 12 بجے سے 2 بجے تک کھولی جائیں گی۔ایرانی وزیر صحت نے خبردار کیا کہ یہ سمجھنا کہ کورونا وائرس ختم ہوگیا ہے، سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطی ہوگی، کسی بھی بے احتیاطی کی صورت میں برا وقت پلٹ کر واپس آسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکہ میں کورونا وائرس سے اب تک 81 ہزار 795 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونیوالوں کی مجموعی تعداد 13 لاکھ 85 ہزار 834 ہو چکی ہے۔10 لاکھ 41 ہزار 814 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 16 ہزار 484 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 2 لاکھ 62 ہزار 225 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دنیا کے کچھ ممالک میں اتنے مریض نہیں جتنی امریکہ میں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ نیویارک ریاست میں سب سے زیادہ لوگ کورونا وائرس کا شکار ہو کر زندگی گنوا بیٹھے۔اگر امریکہ میں حالات اسی طرح رہے تو اسی ماہ امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1 لاکھ سے اوپر ہو جائے گی۔ سپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 68 ہزار 143 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اس وباء سے اموات 26 ہزار 744 ہو چکی ہیں۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 32 ہزار 65 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 23 ہزار 60 ہو گئی۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموا ت 2 ہزار 9 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار 344 ہو چکی ہے۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 30 ہزار 739 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 2 لاکھ 19 ہزار 814 رپورٹ ہوئے ہیں۔فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 26 ہزار 643 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 77 ہزار 423 ہو گئے۔جرمنی میں کورونا سے کْل اموات کی تعداد 7 ہزار 661 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 72 ہزار 576 ہو گئے۔برازیل میں کورونا وائرس 11 ہزار 653 زندگیاں نگل چکا ہے جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 69 ہزار 594 تک جا پہنچی ہے۔ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 3 ہزار 841 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 39 ہزار 771 ہو گئے۔ایران میں کورونا وائرس سے مرنیوالوں کی کل تعداد 6 ہزار 685 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 9 ہزار 286 ہو گئے۔چین جہاں دنیا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا وہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 82 ہزار 919 اور اس سے اموات 4 ہزار 633 ہوگئی ہیں۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 255 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 41 ہزار 14 تک جا پہنچی ہے۔ادھرنیوزی لینڈ کی حکومت نے ملک میں نافذ لاک ڈاون میں نرمی کا اعلان کردیا، 14 مئی سے ریسٹورنٹس، کیفے، سینما گھر اور شاپنگ سینٹر کھول دیئے جائیں گے۔پابندیوں میں نرمی کے بعد شہریوں کو اندرون ملک سفر کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔ جبکہ سکول 18 مئی سے کھول دیئے جائیں گے۔نیوزی لینڈ میں کسی بھی جگہ پر 10سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔یورپ کے بیشتر حصوں میں لاک ڈاون میں نرمی کردی گئی۔ فرانس، سوئٹزر لینڈ اور نیدر لینڈز میں پرائمری سکول کھول دیئے گئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بیلجیئم میں سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے زیادہ تر کاروبار منگل کو کھول دیئے گئے۔فرانس میں کپڑے کی دکانیں، کتابوں کی دکانیں، ہیئر سیلون والوں نے کام شروع کردیا جبکہ ریسٹورنٹ اور سینما گھر بند رہیں گے۔سوئٹزرلینڈ میں بھی ریسٹورنٹ، کتابوں کی دکانیں اور عجائب گھروں کو کچھ پابندیوں کیساتھ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔سپین کے کچھ علاقوں میں 10افراد تک جمع ہونے کی اجازت دیدی گئی جبکہ انگلینڈ میں اس ہفتے لاک ڈاون کے کچھ اقدامات میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔

دنیا کورونا

مزید :

صفحہ اول -