سینیٹ، کورونا سے متعلق حکومتی پالیسی مسترد، وزیراعظم ”مسنگ پرسن“ قرار، اپوزیشن کی عالمی وباء سے نمٹنے کیلئے تعاون کی پیشکش

سینیٹ، کورونا سے متعلق حکومتی پالیسی مسترد، وزیراعظم ”مسنگ پرسن“ قرار، ...

  

اسلام آباد(آئی این پی مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ میں اپوزیشن نے حکومت کی کورونا وائرس سے متعلق پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے وبا ء کے خاتمے کیلئے یکساں پالیسی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا،حکومت اپو زیشن کے تعاون کی پیشکش قبول کرے اور وائرس سے نمٹنے کیلئے قومی ایکشن پلان بنائے۔ وزیر اعظم کو مسنگ پرسن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کہاں ہیں اور ملک کون چلا رہا ہے؟وزیراعظم نے عوام کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کیا،ارطغرل کا ڈرامہ دکھانے سے پاکستان مدینے کی ریاست نہیں بنے گا۔ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر مشتاق،سینیٹر جاوید عباسی نے کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اپوزیشن ارکان نے کہا کہ وزیراعظم کا اشرافیہ والا بیان قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے، حکومت کا موجودہ صورتحال میں شروع دن سے رویہ منفی رہا،حکومت نے طبی ماہرین کے برعکس لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کیا،لاک ڈاؤن میں بغیر ایس او پی کے سب کچھ کھل گیا، حکومت بھوک اورموت کی تکرار کر رہی ہے،حکومت عید کے بعد 4 ہفتہ کیلئے موثر لاک ڈاؤن کرے، حکومت کو 24 روپے لٹرپٹرول مل رہا ہے، ایک لیٹر پر حکومت 80 روپے وصول کر رہی ہے،تارکین وطن کو تنہاء چھوڑ دیا گیا ہے، حکومت نے معیشت کا کرونا وائرس سے پہلے بیڑا غرق کر دیا تھا۔ شرح سود زیرو کیا جائے، غریب لوگوں کے گیس اور بجلی کے بل معاف کئے جائیں اور 17 ہزار ماہانہ لوگوں کو دیا جائے،حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان لائے۔چین پاکستان کو وائرس سے نمٹنے کیلئے مسلسل امداد دے رہا ہے،پاکستان کی طرف سے شکریہ کے الفاظ نہ ہونا بہت بڑی کمی ہو گی،عالمی طاقت نے چین کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کی مہم چلائی ہے، اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ایوان بالامیں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو دفن کرنا ہماری پالیسی نہیں، حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں، اپوزیشن پریشان کیوں ہوتی ہے، سندھ ایسے آرڈیننس لا رہا ہے جس کا اسے اختیار نہیں، سندھ جائیں گے اور پنجاب کی طرح اپنا لوہا منوائیں گے، اپوزیشن تجاویز دے ہم قبول کریں گے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کورونا پر حکومتی پالیسی واضح ہے، پالیسی میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے جو پالیسیاں نافذ کی گئی ہیں اس میں تمام جماعتوں کا ان پٹ شامل ہے، لاک ڈاؤن کوورنا سے بچاؤ کی حکمت عملی کا محض ایک جزو ہے، وزیر اعظم کورونا پر 11 اجلاسوں کی صدارت کرچکے ہیں، اپوزیشن کے ساتھ 6 نشستوں کے بعد اجلاس بلانے کے طریقہ کار پر اتفاق ہوا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی ٹھیکیدار مت بنے، یہ پورا پاکستان ہمارا ہے، پیپلز پارٹی وفاق کی بات کرتی تھی، اب صوبائیت کی بو آ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیرا عظم کی اشرافیہ کے لاک ڈاؤن کرنے کا غلط مطلب لیا گیا جو اشرافیہ لاک ڈاؤن کی بات کرتی ان کے پاس وسائل ہیں، پسا ہوا طبقہ بھوک سے مر جائے گا ان کے پاس وسائل نہیں، اٹھارہویں ترمیم ہماری ہے ہم اس کو مانتے ہیں، اٹھارہویں ترمیم کو10 سال ہوگئے، ہم ان10 برسوں سے سیکھیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے گریبان میں جھانکے وہ جو آرڈیننس لائے ہیں ان کا اختیار ہی نہیں، کورونا سے خلیجی ممالک سے 20 سے 23 فیصد ترسیلات زر کم ہوسکتی ہیں، بھارتی حکومت نے کورونا کی آڑ میں لوگوں کے گھر میں گھسنا شروع کر دیا، وہاں پر معصوم لوگوں کو مار کر لاشیں بھی نہیں دی جاتی، اس صورتحال پر او آئی سی کہاں ہے، جب اپوزیشن سیاست کرے گی تو ان کو سیاسی جواب دیں گے۔

سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -