ہم قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں وفاقی حکومت سیاست کر تی ہے: بلاول بھٹو

  ہم قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں وفاقی حکومت سیاست کر تی ہے: بلاول بھٹو

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی سینیٹ میں دیا گیا بیان واپس لیں ورنہ استعفیٰ دیں، شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی یا وزیراعظم کا نہیں اپنا سیاسی لوہا منوانے کی بات کررہے ہیں،وفاقی وزیر ہمیں مجبورنہ کریں کہ ہم پھر کہیں کس نے آپ کووزیراعظم بننے کا خواب دکھایا ہے۔ مجھے پتہ ہے کون شاہ محمود قریشی کو تحریک انصاف میں لے کر گیا،وفاقی حکومت ہرموقع پرسیاست کرتی ہے،کام نہیں کرتی، ہم قومی یکجہتی کی بات کررہے ہیں مگرآپ سیاسی لوہامنوانے کی بات کررہے ہیں، شوگر کا تماشا ہی رہے گا، یہ اپنے مخالفین کو کھینچنا جانتے ہیں، ان کوکوئی دلچسپی نہیں انصاف ہو،ہم شوگر ڈرامے کو بے نقاب کریں گے، ٹڈی دل کے حملوں کے سبب پاکستان میں فوڈ سکیورٹی کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیاہے،،ٹڈی دل ملکی معیشت اورزراعت کیلئے بڑامسئلہ ہے،اس سلسلے میں وفاقی حکومت اپنی ذمے داری ادا کرے،وزیراعظم نے کسی غریب آدمی کو کچھ نہیں دیا،حکومتی پیکج سے صرف انیل مسرت جیسے لوگوں کو فائدہ ہوا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا نرسزکو ان کے عالمی دن کے موقع پر سلام پیش کرتے ہیں،موجودہ صورتحال میں ہیلتھ ورکرزفرنٹ لائن پرکام کررہے ہیں،ہیلتھ ورکرزکاتحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اگر ہم عالمی وبا کے دوران تعمیراتی شعبے اور ریئل اسٹیٹ کو ریلیف پہنچا سکتے ہیں تو وفاقی حکومت ذمے داری اٹھاتے ہوئے طبی عملے اور نظام صحت کو بھی ریلیف فراہم کرے۔ حکومت ہمارے فرنٹ لائن پر موجود طبی عملے کو تمام تر حفاظتی سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی تحفظ دینے کیلئے اقدامات کرے۔سندھ میں ابھی کنٹریکٹ پر بھرتیاں کر رہے ہیں لیکن سندھ حکومت کی کوشش ہو گی کہ وبا کے دوران کنٹریکٹ پر جن ملازمین کو بھرتی کیا جائے گا انہیں مستقل کیا جائے اور سب کو رسک الاؤنس دیا جائے گا۔اقوام متحدہ نے کہاہے 25سال بعد ٹڈی دل کے سب سے بڑے حملوں کی وجہ سے پاکستان کی فوڈ سکیورٹی کو زیادہ خطرہ ہے اور ہم نے اس سلسلے میں وفاق سے مدد بھی طلب کی تھی۔ ہم نے پچھلے سال بجٹ کے دوران بھی ٹڈی دل کے حملوں کے معاملے کو اٹھایا اور حکومت سے اقدامات کا مطالبہ کیا لیکن وفاقی حکومت اس سلسلے میں ناکام رہی اور جو کام ان کو کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں کر سکے۔ حکومت کو تیاری کیلئے ایک سال کا وقت ملا لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا جبکہ مارچ میں سندھ حکومت سے انہوں نے وعدہ کیا تھا وہ ٹڈی دل کے اسپرے کیلئے جہاز بھیجیں گے لیکن ایسا بھی نہ ہو سکا۔ 1993 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں اس طرح کا حملہ ہوا تھا، انہوں نے ایران اور متحدہ عرب امارات سے جہاز منگوائے اور اتدا میں ہی ٹڈی دل کے حملے کو ناکام بنا دیا۔بلاول بھٹو نے کہا وزیراعظم کوپارلیمنٹ اجلاس میں آناچاہیے تھا۔ وزیراعظم کوکل کہا تھا بیٹنگ لائن میں تبدیلی کریں۔ ایک وفاقی وزیرکاسینیٹ میں بیان ناقابل قبول ہے جس کی مذمت کرتا ہوں،جب مسائل کی بات کرتاہوں تومجھ پرسندھ کارڈ کھیلنے کا الزام لگتا ہے،جب کشمیری عوام کی بات کروں تو کیا کشمیر کارڈ کھیل رہا ہوں،ہم بلوچستان کی پسماندگی کی بات کرتے ہیں تو کیا بلوچستان کارڈ کھیلتے ہیں؟ خیبر پختونخوا اور فاٹا کی بات کرتا ہوں تو کیا مجھ پر خیبر پختونخوا یا فاٹا کارڈ کا الزام لگتا ہے؟ ایسے بیانات سے نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا آج تک وزیر اعظم نے کتنے کاروباری لوگوں سے ملاقاتیں کیں،مگر کسی کسان یا غریب کے نمائدے سے ملاقات نہیں کی،بتائیں عمران خان کتنے ٹریڈیونینزاورمزدوروں کے نمائندوں سے ملے؟۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا سابق صدرآصف علی زرداری کی صحت پہلے سے بہتر ہے۔ وزیرخارجہ اپنا سندھ کارڈ سے متعلق بیان واپس لیں، یا استعفا دیں، اس قسم کی بیان بازی ناقابل برداشت اور وفاق کیلئے نقصان دہ ہے۔ میں آپ کی طرف ہاتھ بڑھانے کی بات کررہاہوں، لیکن آپ منہ پر تمانچہ لگا رہے ہیں؟ کیا مطلب ہے آپ اپنا سندھ میں سیاسی لوہا منوایا منوائیں گے؟ یہ وقت سیاسی لوہا منوانے کا ہے؟ہم اس وقت پنجاب میں سیاسی لوہا منوانے یا الیکشن جیتنے کا نہیں سوچ رہے۔ہم صرف پاکستان کے عوام کی زندگی کے بارے سوچ رہے ہیں۔یہ وقت سیاست کا نہیں، ہمارے ہیلتھ ورکرز شہید ہورہے ہیں،ہم نے ذمہ داری اور غیرسیاسی طریقے سے مفاہمت سے اپنی عوام کی جان بچانی ہے۔میں نے شروع دن سے ہی مفاہمت کی بات کی ہے۔

بلاول

مزید :

صفحہ اول -