پاکستان میں کینیڈین شہری اربوں ڈالر لوٹ کر سرکاری عہدے سے باعزت مستعفی

پاکستان میں کینیڈین شہری اربوں ڈالر لوٹ کر سرکاری عہدے سے باعزت مستعفی

  

اسلام آباد (آن لائن) انٹرسٹیٹ گیس سروسز (آئی ایس جی ایس) میں اربوں روپے کی کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کے الزام میں ادارے کے سربراہ مبین صولت نے ایم ڈی کے عہدے سے استعفیٰ دیدیاہے، آئی ایس جی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے مبین صولت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ازخود عہدے سے استعفیٰ دے دیں وگرنہ انہیں برطرف کردیا جائے گا جس کے بعد مبین صولت اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں جبکہ وفاقی سیکرٹر ی پٹرولیم اسدحی الدین نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایس جی ایس کے سربراہ مبین صولت مستعفی ہوگئے ہیں۔آئی ایس جی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی سربراہی سیکرٹری پٹرولیم کرتے ہیں جس نے مبین صولت کیخلاف مبینہ الزامات کی اعلیٰ پیمانے پر چارج شیٹ تیار کررکھی تھی اور اس چارج شیٹ میں ان کیخلاف تمام الزامات ثابت ہوچکے ہیں۔ ان الزامات میں پاک،ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں اربوں کی کرپشن، تائپی گیس پائپ لائن میں اربوں روپے کی کرپشن، نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے میں اربوں کی کرپشن و دیگر الزامات تھے جو ثابت ہوچکے ہیں۔یاد رہے کہ ایل این جی اربوں روپے کے سکینڈل میں مبین صولت سابق وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایس جی ایس جو وزارت پٹرولیم کا ایک ذیلی ادارہ ہے میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور مبین صولت کو ان الزامات کا جواب دینے کیلئے شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے تھے۔یہ اربوں روپے کے سکینڈلز مختلف میڈیا کی زینت بھی بن چکے ہیں یہ کمپنی آئی ایس جی ایس20 سال پہلے بنائی گئی تھی تاکہ بیرون ممالک سے گیس پائپ لائن منصوبے مکمل کرسکے لیکن بیس سال گزرنے کے باوجود اس کمپنی نے ایک منصوبہ بھی مکمل نہیں کیا جبکہ گیس منصوبوں کے نام پر اربوں روپے کی لوٹ مار کرلی گئی۔ گیس منصوبوں کے نام پر لوٹ مار کرنے والے مافیا کا سرغنہ مبین صولت تھا جبکہ منصوبوں کے نام پر غیر ملکی دورے کرنے والوں میں وزارت پٹرولیم کے دیگر اعلیٰ حکام بھی ملوث تھے جن کیخلاف بھی اب اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔ مبین صولت نے آئی ایس جی ایس کا سربراہ بنتے ہی لوٹ مار کا بازار گرم کردیا تھا اور اربوں روپے گیس منصوبوں کے نام پر قومی خزانے سے حاصل کئے۔ دبئی تائپی گیس پائپ لائن کے نام پر قائم کئے گئے سیکرٹریٹ میں پاکستان کی نمائندگی ایک غیر ملکی کو دے دی گئی جس سے قومی مفادات کو شدید نقصان پہنچا۔اس کے بعد آئی ایس جی ایس کے اندر من پسند لوگوں کو بھاری تنخواہوں پر بھرتی کیاگیا جبکہ قابل اور ایماندار لوگوں کو کمپنی سے نکال دیاگیا۔۔ مبین صولت نے نیب کو دیئے گئے اپنے حلفیہ بیان میں اقرار کیا ہے کہ وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھا اسے گیس منصوبوں کے تکنیکی امور کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ نواز شریف اور پیپلز پارٹی دور حکومت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس عہدے پر براجمان رہا اور اربوں روپے لوٹے ہیں۔ مبین صولت کی یہ روٹین تھی وہ ہر آنے والے حکمران کی خوشامد کرتا تھا جبکہ جانے والے حکمرانوں کی کرپشن اوربددیانتی کی داستانیں اپنے نئے آقاؤں کو بتاتا تھا۔ اس طرح اس نے بیس سال حکمرانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس اہم ادارے کی سربراہی حاصل کئے رکھی تاہم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی اس کرپٹ آدمی کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کیخلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دیاگیا۔ مبین صولت نے اپنی ابتدائی زندگی ایک فوڈ میکڈونلڈ پربطور کیشئر کی حیثیت سے شروع کی تھی جو بعد میں مختلف کمپنیوں میں چارٹرڈ کلرک کے طور پر کام کرتا رہا لیکن وہ اپنی خاص عنایات کی بدولت اس اہم ادارے کا سربراہ بننے میں کامیاب ہوگیا اور بیس سال تک اس نے لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھا۔مبین صولت کے اس منفی کردار کی بدولت پاکستان اور روس کے مابین نارتھ ساؤتھ منصوبہ متنازعہ بن گیا اور دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں خلفشار پیدا ہوگیا کیونکہ مبین صولت ان منصوبوں میں بھی اربوں روپے لوٹنا چاہتا تھا۔ مبین صولت نے کینیڈین شہریت بھی لے رکھی ہے اورزیادہ عرصہ بھی وہیں گزارا ہے۔اور اپنی لوٹ مار کا تمام پیسہ بھی کینیڈا شفٹ کرچکا ہے جبکہ نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر تاحال نیب، ایف آئی اے یا کسی بھی ذمہ دار ادارے نے اسے گرفتار نہیں کیا۔

باعزت مستعفی

مزید :

صفحہ آخر -