ایگزیکٹو انجینئر ہائی وے مکینکل ڈویژن میں کروڑوں کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایگزیکٹو انجینئر ہائی وے مکینکل ڈویژن میں کروڑوں کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

  

لاہور(ارشدمحمود گھمن،سپیشل رپورٹر)چیف انجینئر ایم اینڈآرہائی وے ندیم الدین کی ناک تلے ایس ای اور ایگزیکٹو انجینئر ہائی وے مکینیکل ڈویژن لاہورکاقومی خزانہ میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف،ایگزیکٹو انجینئر نور اقبال نے ایس ای راؤ خورشید اسلم کی مبینہ ملی بھگت سے 3سال قبل ورکشاپ کی شفٹنگ کے نام پرفارم IIلگاکر 3کروڑ سے زائدقومی خزانہ سے نکلواکر بندربانٹ کرلئے،مذکورہ افسر کی کرپشن کی بابت چیف سیکرٹری پنجاب نے متعلقہ محکمہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔تفصیلات کے مطابق22نومبر2016ء میں ہائی وے مکینیکل ڈویژن 110گلبرک روڈ لاہور شیرپاؤ ورکشاپ کے ایگزیکٹو انجینئرراؤ خورشید اسلم،سب انجینئر زرانا مشتاق،محمد اعظم،عمران اقبال وغیرہ نے اس وقت کے چیف انجینئر سرفراز بٹ کی مبینہ ملی بھگت سے 1947سے 2016ء تک 2ارب روپے کی مالیت کاسکریپ اپنی من پسند الکرم ٹریڈرز خوشی محمد لاہورکو 73لاکھ81ہزار میں نیلام کردیااور بقایا کروڑوں روپے آپس میں بندر بانٹ کرلئے اورمذکورہ ورکشاپ کی شفٹنگ کیس کے نام پر 3کروڑ 50لاکھ روپے کی اپنے من پسند کنٹریکٹر کواضافی بوگس ادائیگیاں کرنے کے لئے ٹینڈر الاٹ کردیئے،بعدازاں مذکورہ چیف انجینئر کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے تعینات ہونے والے چیف انجینئر خالد جاوید نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے ایگزیکٹو انجینئر راؤ خورشید اور اس کے ماتحت عملہ کی مبینہ ملی بھگت سے کی جانے والی 3کروڑ 50لاکھ روپے کی بوگس ادائیگیاں روک لیں،جس پرمذکورہ افسروں نے کنٹریکٹرز کے ساتھ مل کر کورٹ کا سہارا لیا تو کورٹ نے بھی چیف انجینئر کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی استدعامسترد کردی۔سابق چیف انجینئر خالد جاوید کی درخواست پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے ایس ای ہائی وے سرکل خاورزمان،ایس ای اظفر محمود اور ایگزیکٹو انجینئر عطاء محمد کواس واقعہ کی انکوائری کے احکامات جاری کئے جس پرسیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور چیف انجینئر کی طرف سے تشکیل دی جانے والی 3رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں 60لاکھ روپے کی ادائیگی کو جائز قراردیا جبکہ مذکورہ کنٹریکٹرز کی جانب سے 3کروڑ 50لاکھ روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔بعدازاں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئرراؤ خورشید اسلم رواں سال ہی گریڈ19میں ترقی پاکرسی اینڈ ڈبلیو کے اعلیٰ افسران کی مبینہ ملی بھگت سے دوبارہ بطور ایس ای موجودہ ڈویژن میں ہی اپنی تعیناتی کروا کر اپنے کارخاص سب انجینئر محمد اعظم کو ایس ڈی او کا اضافی چارج دلواکر اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئر نور اقبال سے ساز باز کرکے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 3کروڑ50لاکھ روپے کی ادائیگی کروانے کے لئے فارم IIکے ذریعے قومی خزانہ سے 2کروڑ روپے نکلوالئے جبکہ باقی رقم کے لئے بھی کوشاں ہیں۔یادرہے کہ سابق سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے سب انجینئر رانا محمد مشتاق کو 29نومبر2017ء اور محمد اعظم سب انجینئر کو بھی مذکورہ کیس میں ہی کرپشن کے الزامات پر معطل کیا تھاجو بعدازاں سفارش کی بنا پر یہ دونوں بھی مٹھی گرم کرنے کے بعد اپنی سیٹوں پر بحال ہوگئے اور دوبارہ ان ہی سیٹوں پرتعیناتی بھی حاصل کرلی۔چیف انجینئر ایم اینڈ آر ہائی وے ندیم الدین نے کہاہے کہ اگر کسی نے کوئی غیر قانونی ادائیگی کی ہے تو وہ اس کا ذمہ دار ہے،اس معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈاکہ

مزید :

صفحہ آخر -