منٹو نے روایتی اردو افسانے کو نئی جہت دی،ادیب،شاعر

منٹو نے روایتی اردو افسانے کو نئی جہت دی،ادیب،شاعر

  

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان کے مقبول ترین افسانہ نگار سعادت حسن منٹوکے 108 ویں یوم پیدائش کے موقع پر گوگل نے اپنا دوڈل تبدیل کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔اس حوالے سے ادیبوں اور شاعروں کا کہنا ہے کہ سعادت حسن منٹو نے روایتی اردو افسانے کو نئی جہت دی، اردو ادب میں وہ آج بھی اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کے مقابل کوئی نہیں۔گوگل کی جانب سے ان کو خراج تحسین پیش کیا جانا ان کی علمی اور ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔شاعر دلدار حیدر کا کہنا ہے کہ سعادت حسن منٹو آج کے دور میں بھی پسند کئے جانے والے افسانہ نگار ہیں ان کے مخالفین میں ان کا سچ برداشت کرنے کی جرات نہیں تھی۔ادیب اور دانشور رضوان ترابی کا کہنا ہے ہے کہ سعادت حسن منٹو کی شخصیت ان کی سچ گوئی کی وجہ سے متنازعہ رہی وہ 20ویں صدی کے ایک نامور افسانہ نگار تھے گوگل نے ان کو خراج عقیدت پیش کرکے ان کی فنّی اور ادبی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ۔

  

شاعر رضا عباس کا کہنا ہے کہ بڑی بڑی نامور ادبی شخصیات کا تعلق ہمارے ملک سے ان میں سے ایک سعادت حسن منٹو بھی ہیں ان کی صلاحیتوں کا اعتراف اپنے پرائے سب ہی کرتے ہیں۔ معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 کو بھارت کے ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی، 1921 میں ایم او مڈل سکول میں چوتھی جماعت میں داخلہ لیا۔پاکستان بننے کے بعد منٹو نے ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور بو سمیت کئی بہترین افسانے تخلیق کئے جو اردو ادب کے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔منٹو نے دو سے پچاس سے زیادہ افسانے اور کہانیاں لکھیں جس میں سے حکومتِ وقت نے ان کے 5 افسانوں کو فحش قرار دے کر انہیں کٹہرے میں کھڑا کیا۔اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا انتقال 42 برس کی عمر میں 18 جنوری 1955 کو ہوا لیکن وہ آج بھی اپنی تحریروں کے ذریعے دنیائے ادب کے قلب میں بستے ہیں۔منٹو نے اپنی قبر کا کتبہ بھی خود لکھا کہ یہ سعادت حسن منٹو کی قبر ہے جو اب بھی سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوحِ جہاں پر حرفِ مکرر نہیں۔

1

مزید :

کلچر -