ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی مارکیٹوں کو سیل کر دیا جائے: عتیق میر

    ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی مارکیٹوں کو سیل کر دیا جائے: عتیق میر

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر اور سماجی دوری اختیار کرنے کے حوالے سے طے شدہ اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) پر عمل نہ کرنے والی مارکیٹس کو سیل کردیا جائے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تاجر اتحاد نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل نہیں ہوسکا اور یہ امید بھی نہیں تھی کہ ایسا ہوسکے گا۔اس پر جب ان سے سوال کیا گیا کہ امید کیوں نہیں تھی تو عتیق میر کا کہنا تھا کہ امید اس لیے نہیں تھی کہ 2 ماہ کی بندش کے بعد لاک ڈاؤن نرم کیا گیا اور لوگوں کو کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تو یہ ایسی صورتحال تھی جیسے شادی کے موقع پر کھانا کھلنے کی آواز آتی ہے اور ہبر دبڑ ہوتی ہے۔چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد کا کہنا تھا کہ پہلے دن میں لوگ بڑے اشتیاق سے نکلے، ایک غیریقینی کیفیت اور جوش تھا اور پونا شہر امڈ آیا۔انہوں نے کہا کہ میری انتظامیہ سے بھی بات ہوئی چونکہ پہلا دن تھا اور ایک قید خانے کا دروازہ کھلا تو سارے باہر آگئے تاہم جنہوں نے سماجی دوری کا خیال کرنا تھا انہوں نے اس کی پاسداری کی۔دوران گفتگو ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر سماجی دوری اور کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر کے تقاضے تاجر پورے نہیں کرتے تو جہاں اس کی خلاف ورزی ہورہی ہے اسے سیل کردیں جبکہ جس مارکیٹ میں بے احتیاطی زیادہ ہے تو بے شک پوری مارکیٹ سیل کردیں۔چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے عوام کو اور خود کو بچانا ہے، بیشک کاروبار بھی ایک ضرورت ہے اور معاشی موت بھی بڑی اذیت ناک ہے تاہم اگر ہم موقع ملنے باوجود اس پر عمل نہ کریں تو پھر ہمیں حق نہیں کہ کوئی سہولت مانگیں۔عتیق میر کا کہنا تھا کہ ہمیں دکھ ہوگا اگر دوبارہ یہ سہولت واپس ہوگی، ہمیں آج انتظامیہ نے کہا کہ آپ اتنا بھی نہیں کرواسکے تاہم بہت سے مارکیٹوں میں اس کی پابندی بھی کی گئی اور ہم نے انتظامیہ کے افسران کو بھی دکھایا۔انہوں نے کہا کہ بہت سی مارکیٹیں جو عید کی سیل کے حوالے سے مشہور ہیں خاص طور پر صدر کے علاقے میں وہاں بہت زیادہ ہجوم دیکھا گیا اور وہاں ایک جلوس کی صورتحال تھی جو افسوسناک ہے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ پہلا دن تھا لیکن ایک سے 2 دن میں لوگ معمول پر آئیں گے۔انہوں نے درخواست کی کہ کاروبار کا دورانیہ تھوڑا بڑھا دینا چاہیے، افطار کے بعد بھی اگر لوگوں کو عید تک شاپنگ کی اجازت دی جائے تو ممکن ہے کہ انہیں سکون آجائے کہ عید تک وقت ہے۔انہوں نے کہا کہ عید میں تھوڑے دن تک موجود ہیں اور اگر ایسے میں آپ لوگوں کو 4 یا 5 بجے تک محدود کردیں گے تو ایسی ہی صورتحال ہوگی کیونکہ گرم موسم کی وجہ سے لوگ دوپہر میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔اس موقع پر سندھ کے وزیر سعید غنی نے بھی کاروباری مراکز میں رش سے متعلق بات کی اور کہا کہ یہی وجہ سے ہم تھوڑا کترا رہے تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ تاجر اس بات کو سمجھیں تاہم ان کے بھی اپنے مسائل تھے۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ بہت خطرناک بات ہے، تاجروں کو خیال کرنا چاہیے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا چاہیے جبکہ شہریوں کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہیے کیونکہ یہ بندوق کی نوک پر نہیں کروایا جاسکتا۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ کیسز میں جس طرح اضافہ ہورہا ہے تو حالات اچھے نہیں ہے اور اسی طرح کی خلاف ورزی ہوئی تو مجھے آگے حالات بہت خراب نظر آرہے ہیں۔کاروبار کے اوقات بڑھانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مراکز بند کرنا شروع کیے تھے تو کریانے کی دکانیں، میڈیکل اسٹورز وغیرہ کو 24 گھنٹے کھلا رکھا تھا لیکن اس سے یہ ہورہا تھا کہ لوگ کوئی نہ کوئی جواز بنا کر باہر نکل رہے تھے، ہم اگر وقت کی پابندی لگا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ 8 سے 9 گھنٹے کا لاک ڈان ہوجائے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم 24 گھنٹے کاروبار کی اجازت دے دیں تو پھر دن کی روشنی میں 2 فیصد لوگ بھی نہ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی اور احساس ذمہ داری پیدا کرنا ہوگا، ساتھ ہی سمجھنا ہوگا کہ یہ ان کی اپنی جان کے لیے ضروری ہے۔ایک سوال کے جواب میں سعید غنی کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ شاید معاملات ٹھیک ہوجائیں تاہم اگر ایسا نہیں ہوا تو ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں کہ خلاف ورزی کرنے والی دکانوں کو سیل کردیں۔شاپنگ مالز کو نہ کھولنے سے متعلق سوال کے جواب پر سعید غنی کا کہنا تھا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ان مالز اور پلازہ کو بند رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -