محدود معاشی سرگرمیوں کی اجازت سے تاجر خوشی سے سرشارہیں: شیخ امتیاز حسین

    محدود معاشی سرگرمیوں کی اجازت سے تاجر خوشی سے سرشارہیں: شیخ امتیاز حسین

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) محدود معاشی سرگرمیوں کی اجازت سے تاجر برادری میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے یہ بات امریکہ پاکستان بزنس ڈیولپمنٹ فورم کے سینئر نائب صدر شیخ امتیاز حسین نے کراچی کی مختلف مارکیٹوں کے دورے کے موقع پر کہی اس موقع پر ان کے ہمراہ چیئرمین ذیشان الطاف لوہیا،سیکریٹری جنرل سید ناصر وجاہت،امان پیر،جنید الرحمان،احمد نفیس،سعید راجپوت،نعمان احمدانی،زاہد انصاری اور سمیر شمسی بھی تھے جنہوں نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے تاجروں اور خریداروں میں ماسک،گلوز اور سینیٹائزر تقسیم کئے شیخ امتیاز حسین نے کہاکہ تاجر وں اور عوام کو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا چاہئے تا کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے کیونکہ ہمیں حکومت کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کو شکست دینی ہے انہوں نے کہاکہ 50دن کے وقفے وقفے سے لاک ڈاؤن کے بعد سندھ میں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت ملنے سے کراچی کی مختلف مارکیٹوں اور بازاروں کی رونق لوٹ آئی ہے شیخ امتیاز حسین نے کہاکہ تاجروں،دکانداروں اور خریداروں کو مکمل حفاظتی اقدامات کے تحت ماسک، گلوز او ر سینیٹائزر کا استعمال کرنا چاہئے جبکہ مارکیٹوں اور بازاروں کے داخلی راستوں پر سینیٹائزر گیٹ کے استعمال سے بھی تاجروں اور خریداروں کو کورونا وائرس سے بچایا جا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ حکومت چھوٹے دکانداروں کومفت ماسک،گلوز اور سینیٹائزر مفت فراہم کرے لاک ڈاؤن کا مقصد بھی عوام کو کورونا وائرس سے تحفظ دینا تھا شیخ امتیاز حسین نے کہاکہ اگر عوام اور تاجر برادری نے ایس او پیز پر سختی سے عمل نہیں کیا توخد شہ ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا جو انسانی زندگیوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے انہوں نے کہاکہ جب تک ملک سے کورونا وائرس ختم نہیں ہو جاتا ہمیں انتہائی محتاط رہنا ہوگا اس موقع پرمارکیٹوں اور بازاروں کے تاجروں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں گے تا کہ صوبہ سندھ میں کورونا وائرس نہ پھیلے اور لاک ڈاؤن جلد ختم ہو جائے شیخ امتیازحسین نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے فیکٹریوں،کارخانو ں اور تعمیراتی صنعت سے متعلق اداروں کے کھلنے سے معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور بے روزگاری میں بھی کمی واقع ہوگی انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اور کاروباری افراد کے علاوہ محنت کش طبقہ بھی بے روز گار ہو گیا تھا جبکہ اکثر تاجرکاروبار نہ ہونے کی وجہ سے دیوالیہ ہو گئے تھے ا ورغریبوں کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے ہو گئے تھے شیخ امتیاز حسین نے کہاکہ تاجر رہنماؤں کی محنت رنگ لے آئی ہے کیونکہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ اور صوبائی وزیر سعید غنی کے علاوہ کمشنر کراچی افتخار شلوانی سے بھی متعدد میٹنگزکیں اور انہیں تاجر براد ری کے مسائل سے آگاہ کیاانہوں نے کہاکہ 50دن تک لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاجر برادری کو کھربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور خصوصاََ عید کے سیزن میں فروخت کی جانے والی اشیاء کی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے تاجروں کے پاس فروخت کے لئے اشیاء تیار نہیں ہیں کیونکہ رمضان المبارک میں عوام عید کی خریداری کے لئے کپڑے،جوتے،میک اپ کا سامان اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء خریدتے ہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس سال عید کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ تجارتی سرگرمیاں اور لا ک ڈاؤن کا خاتمہ کورونا وائرس کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -