چیف جسٹس سپریم کورٹ از خود نوٹس لیکر الگ صوبے کامسئلہ حل کرائیں، سرائیکی رہنما

  چیف جسٹس سپریم کورٹ از خود نوٹس لیکر الگ صوبے کامسئلہ حل کرائیں، سرائیکی ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماؤں کرنل عبدالجبار خان عباسی، خواجہ غلام فرید کوریجہ، اکبر خان ملکانی، پروفیسر شوکت مغل، عاشق بزدار، مہر مظہر کات، ظہور دھریجہ، ملک خضر حیات ڈیال نے کہا ہے کہ نشتر ہسپتال ملتان میں کورونا اموات میں اضافہ ہو رہا ہے، بیماری پھیل رہی ہے، بیرون ملک خصوصاً چین سے آنے والی طبی امداد براہ راست ملتان بھیجی(بقیہ نمبر33صفحہ7پر)

جائے کہ حکومت نے وسیب کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے ملک کا سب سے قرنطینہ سنٹر ملتان میں بنا دیا۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ وسائل اور مسائل کی برابر تقسیم ہونی چاہئے، وسیب کو بیگار کیمپ نہ بنایا جائے، بلکہ اسے بھی برابر حصہ دیا جائے۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ قلیل آبادی کے شہر گلگت اور مظفر آباد بگ سٹی بن چکے ہیں جبکہ ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، رحیم یار خان کو بگ سٹی نہیں بنایا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ملتان آ کر مشترکہ طور پر ملتان کو بگ سٹی قرار دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اب ملتان شہر کے ملازمین کو وہ تمام سہولتیں اور مراعات حاصل ہونگی جو کہ دوسرے بگ سٹی کو حاصل ہیں، مگر حکمرانوں کا ہر وعدہ جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوتا آ رہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے بھی سو دن میں صوبہ بنانے کا وعدہ کیا جو پورا نہ ہوا، پھر وہ سب سول سیکرٹریٹ کا لولی پاپ دے آئے، رواں مالی سال کے بجٹ میں تین ارب روپے رکھے گئے اور مالی سال ختم ہونے کے قریب ہے، ابھی تک ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وسیب کے لوگوں کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، وسیب کے لوگ خیرات نہیں اپنا حق مانگتے ہیں اور ان کا مطالبہ الگ ملک کا نہیں بلکہ صوبے کا ہے، جس کے لیے سینیٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ بل پاس ہو چکا ہے۔ ہمارا چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ ہے کہ وہ از خود نوٹس لے کر سرائیکی صوبے کا مسئلہ حل کرائیں کہ آئین ساز ادارے ایوان بالا میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ صوبے کا بل پاس کر کے صوبے کو آئینی تحفظ دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ صوبے کا وعدہ کرنے والوں سے جواب طلب کرے کہ انہوں نے آئینی عمل کو آگے کیوں نہیں بڑھایا اور وہ کیوں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔ سرائیکی رہنماو?ں نے کہا کہ ہماری شناخت اور جغرافیے کے مطابق صوبہ نہ بنایا گیا تو عید کے بعد احتجاجی تحریک شروع کر دیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -