نشتر ہسپتال میں صرف 502نرسز، کاغذوں میں سب اوکے کی رپورٹس

  نشتر ہسپتال میں صرف 502نرسز، کاغذوں میں سب اوکے کی رپورٹس

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)ینگ نرسز کی جانب سے کورونا وارڈز میں ڈیوٹیاں سر انجام دیتی نرسز کو خراج تحسین پیش کیا گیا،تفصیل کے مطابق دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی گزشتہ روز نرسز کا عالمی دن منایا گیا تاہم کورونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر کوئی تقریب منعقد نہ ہو سکی تاہم اس مشکل گھڑی میں کورونا وارڈز میں ڈیوٹیاں سر انجام دیتی اور کورونا میں مبتلا ہونے والی نشتر(بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

ہسپتال کی 07 نرسوں اور انکے اہل خانہ کو ینگ نرسز کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا،اس موقع پر ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی عہدیداران صائمہ یامین،نورین اور شمیم سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ یہ دن نرسز کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے بلخصوص اس لیے بھی کہWHOکی اور صدر پاکستان کی طرف سے یہ سال نرسز کا سال قرار دیا گیا ہے۔ نرسنگ کمیونٹی کے لیے یہ دن بہت ساری امیدیں لے کے آتا ہے۔ لیکن نرسز کے مسائل جوں کے توں ہیں، نشتر ہسپتال جوکہ 1700 بیڈز کا ہسپتال ہے اور 2300سے 2400 مریض نشتر میں ایک وقت میں ایڈمٹ ہوتے ہیں اور انکے لئے نرسز کی تعداد صرف اور صرف 502 ہے، WHO, PNCکی مریض اور نرس تناسب کو گورنمنٹ نے چینج کیا اپنے وسائل کے مطابق،اس تناسب کے مطابق بھی اس وقت نشتر میں 423 نرسز کی کمی ہے،جبکہ نرسز کی پروموشن نہ ہونا سوالیہ نشان ہے1997 میں بھرتی ہوئی نرسز ابھی تک پروموٹ نہیں ہو سکی اور ریٹائرمنٹ آنے والی ہے لیکن اپنے قیمتی سال اس پروفیشن کو دینے کے باوجود ان کے لیے کوئی پروموشن کی پالیسی نہیں بنائی جا سکی۔حکومت سے مطالبہ ہے کہ نرسز کے لئے ری فریشر کورسز کا انعقاد بھی کیا جائے جبکہ COVID_19 کےpandemic کے دوران نرسز کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،پازیٹیو ہونے کے باوجود تمام نرسز مریضوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -