سپریم کورٹ نے ڈاکٹرعبدالقدیر کو عدالت آنے کی اجازت دیدی

سپریم کورٹ نے ڈاکٹرعبدالقدیر کو عدالت آنے کی اجازت دیدی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سفری پابندیوں سے متعلق کیس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عدالت آنے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کی ان کیمرا سماعت کی استدعا مسترد کر دی۔سفری پابندیوں کے خلاف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست پر جسٹس(بقیہ نمبر36صفحہ6پر)

مشیرعالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے وکیل نے دلائل دیئے کہ ان کے موکل کو آج عدالت نہیں آنے دیا گیا، عدالت آنا ان کا بنیادی حق ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرصاحب کے عدالت آنے سے مسائل ہوں گے۔ بہتر ہے عدالت ان کیمرہ سماعت رکھ لے۔جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ سماعت ان کیمرہ کی جائے۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی قوم کیلئے خدمات کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کی رضا مندی سے 2009 میں فیصلہ دیا،جسے 10 سال تک کہیں چیلنج نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے اب لاہور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کر دی، اگر سپریم کورٹ معاملے میں براہ راست مداخلت کرے توکیا یہ مناسب ہو گا، عدالت کو مطمئن کیا جائے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان اسلام آباد ہائیکورٹ دوبارہ کیوں نہیں گئے۔ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے وکیل نے کہا کہ بنیادی حقوق کے معاملے میں سپریم کورٹ براہ راست مداخلت کر سکتی ہے۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت سے غیر مناسب حکم کیلئے اصرار نہ کریں۔ درخواست پر اپنے موکل سے مشاورت کر کے موقف بتا دیں۔ عدالت نے سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی۔

ڈاکٹر عبدلقدیر خان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -