مردوں کے لئے مساجد میں ہی اعتکاف کرنا شرط ہے،دار الافتاء‘ کا فتویٰ

مردوں کے لئے مساجد میں ہی اعتکاف کرنا شرط ہے،دار الافتاء‘ کا فتویٰ

  

لاہور (پ ر) ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور کے ”دار الافتاء“ کی طرف سے رمضان المبارک میں سنت اعتکاف کے حوالہ سے جاری کیے گئے فتوی کے مطابق رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت ”مؤکدہ علی الکفایۃ“ ہے اور آپﷺ نے ہمیشہ اس کی پابندی فرمائی اور کبھی بھی اس کو بالکلیہ ترک نہیں فرمایا سنت مؤکدہ علی الکفایۃ کا مطلب یہ ہے کہ اگر چند مسلمانوں نے بھی اپنے محلے کی مسجد میں اعتکاف کرلیا تو تمام اہل محلہ کے ذمہ سے اعتکاف ساقط ہوجائے گا اگر پورے محلے میں سے کسی ایک نے بھی محلے کی مسجد میں اعتکاف نہ کیا تو تمام اہل محلہ گناہگار ہونگے اسی طرح مردوں کیلئے مساجد میں ہی اعتکاف کرنا شرط ہے مساجد کے علاوہ گھروں میں اعتکاف کرنے کی شرعا اجازت نہیں ہے اگر مرد گھر میں اعتکاف کرے گا تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا۔

البتہ خواتین کیلئے اپنے گھر میں جگہ مقرر کرکے اعتکاف کرنے کا حکم ہے لہذا موجودہ کرونا وائرس کی وبائی صورتحال میں مناسب حفاظتی اور حکومتی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے ہر مسجد میں محلے کے چند افراد مساجد میں مناسب فاصلہ کے ساتھ اعتکاف کا اہتمام کریں تاکہ اعتکاف مسنون کا مکمل طور پر ترک کرنا لازم نہ آئے اور بقیہ افراد اپنے اپنے گھروں میں رمضان المبارک کا جتنا وقت ہوسکے عبادات اور دعاؤں میں مصروف رہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -