محمد حسین محنتی سے آل سندھ پرائیویٹ اسکول اونرز ایکشن کمیٹی کے وفد کی ملاقات

محمد حسین محنتی سے آل سندھ پرائیویٹ اسکول اونرز ایکشن کمیٹی کے وفد کی ملاقات

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیروسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے15جولائی تک پرائیویٹ اسکول بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو تعلیم دشمنی پرمبنی قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ِ سندھ اپنے وعدے کے مْطابق یکم جون سے ایس او پیز کے تحت تمام اسکولز کھولنے کا اعلان اورچھوٹے اسکول مالکان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل اسٹاف کو احساس پروگرام میں شامل کیاجائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں ملاقات کرنے والے آل سندھ پرائیویٹ اسکول اونرز ایکشن کمیٹی کے 20رکنی وفد سے بات چیت کے دوران کیا۔جنہوں نے کوروناوائرس اورلاک ڈاؤن سے نجی اسکولوں کو درپیش صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ناعاقبت اندیش فیصلوں سے اسکول مالکان،طلباء اوروالدین سخت پریشان ہیں۔نئی نسل کی تعلیم وترتربیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے،دکانداروں کی طرح ایس اوپیز کے تحت اسکول کھولے جائیں،اسکول مالکان کو لولی پاپ دیء جارہے ہیں۔بغیرامتحان پروموٹ کرنا طلباء اورتعلیم کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوامی مسائل پرآوازاٹھائی ہے اس لییاس مسئلے پربھی جماعت اسلامی کی قیادت حکومت کی تعلیم دشمنی اوراسکول مالکان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پروزیرتعلیم سعید غنی سمیت حکام بالا کو اس اہم و سنجیدہ مسئلے پرتوجہ مبذول کروائے۔وفد میں ایکشن کمیٹی کے سینئرنائب صدر انتصارغوری، جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹرخالدمحمود، کراچی پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹرارشدعلی خان، تنظیمِ اساتذہ کراچی ڈویژن کے صدر شفیق الرحمٰن عثمانی، یونائٹڈ پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری نبی احمدرضوی، دارِارقم اسکولز کے خالدرضا، سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لیاقت اللّہ، نافع ضلع شرقی کے عبدالرحیم شہزاد کے علاوہ متعدد پرائیوٹ اسکولز کے مالکان اور ایڈمنسٹریٹرز،جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیرحافظ نصراللہ عزیز اورسیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا بھی موجود تھے۔ محمدحسین محنتی نے مزید کہا کہ 27 فروری سے تمام اسکول بند ہیں، اب اگر حکومت اسکول مزید دو ماہ کے لیے بند کرے گی تو بچوں کی تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت اسکول مالکان خاص طورپرچھوٹے اسکول اونرزبہت مشکل میں ہیں، انہیں بلڈنگ رینٹ، یوٹیلیٹی بِلز اور اسٹاف کو تنخواہیں بھی دینی ہیں، لہٰذا اسکول کھولنے کے لیے سندھ حکومت جلدازجلد لائحہ عمل کا اعلان کرے۔حکومت ہوش کے ناخن لے، نئی نسل کو تعلیم وتربیت سے دور رکھ کر کیا پیغام دیا جارہاہے۔حکومت کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کوتعلیم سے آراستہ اورانہیں مثبت رول ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے،انہوں نے کہاکہ بغیرامتحان کے بچوں کو اگلی کلس میں پروموٹ کرناناقابل فہم بات ہے اس فیصلے پربھی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔صوبائی امیرنے وفد کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی اسکول مالکان کو درپیش مسائل پرنہ صرف آوازاٹھائے گی بلکہ وزیرتعلیم سمیت حکام بالا کو توجہ دلائے گی۔ #

مزید :

صفحہ اول -