بجٹ میں اعلان کردہ 15فیصد اضافہ کے فنڈز تاحال نہیں ملے: میئر کراچی

بجٹ میں اعلان کردہ 15فیصد اضافہ کے فنڈز تاحال نہیں ملے: میئر کراچی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے ایم سی کے ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ بجٹ کے موقع پر حکومت سندھ کی جانب سے اعلان کردہ 15 فیصد اضافہ کے لئے اب تک فنڈز فراہم نہیں کئے گئے ہیں جس کے باعث ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ ریٹائر ہونے والے 5ہزار 591 ملازمین اپنی پینشن اور بقایا جات کی ادائیگی کے لئے 2015 سے منتظر ہیں، کے ایم سی کے ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کی مد میں ماہانہ 16 کروڑ 50 لاکھ روپے کی کمی کا سامنا ہے یہ بات انہوں نے منگل کے روز محکمہ فنانس کے افسران کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم،فنانشل ایڈوائزر ریاض کھتری،ڈائریکٹر ویلفیئر محمود بیگ، مشیر قانون عذرا مقیم اور دیگر متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے، میئرکراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے اسپتالوں میں جو ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور کورونا وائرس جیسی وباء کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ بھی اپنی تنخواہوں میں اضافے سے اب تک محروم ہیں، حکومت سندھ سے متعدد بار درخواستیں کی گئی ہیں لیکن اس حوالے سے کسی قسم کے فنڈز تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کو بھی اس حوالے سے ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں میں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ 3.50 بلین روپے کے ایم سی کو اسپیشل گرانٹ کے طور پر دیں تاکہ کے ایم سی کے ذمہ واجب الاداملازمین کے بقایا جات یکمشت ادا کئے جاسکیں، انہوں نے کہا کہ خواتین، ضعیف العمر اور بیمار ملازمین روزانہ اپنے واجبات کی وصولی کے لئے کے ایم سی کے دفتر پہنچتے ہیں لیکن فنڈ نہ ہونے کے سبب انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمام عمر کراچی اور شہریوں کی خدمات کا انہیں یہ صلہ نہیں دیا جانا چاہئے، میئرکراچی نے کہا کہ ہر ماہ تنخواہوں کی مد میں کمی کو کے ایم سی کے ریونیو سے پورا کیا جاتا تھا لیکن گزشتہ دو ماہ سے لاک ڈاؤن کے باعث کے ایم سی کے ریونیو میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا جس کے باعث کے ایم سی کے تمام محکموں کی تنخواہیں ادا کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے افسران و ملازمین اپنے فرائض محنت اور تندہی سے انجام دے رہے ہیں خاص طور پر میڈیکل اسٹاف، فائر بریگیڈ، سٹی وارڈنز، ریسکیو یونٹ اور دیگر ضروری محکمے کورونا وائرس کی وباء کے دوران بھی اپنی ڈیوٹی پر موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ان کی تنخواہوں میں کئے گئے اضافے کو جلد سے جلد انہیں ادا کریں، میئر کراچی نے کہا کہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات میں یہ مسئلہ ان کے سامنے رکھا گیا تھا انہوں نے اس حوالے سے فوری طور پر سمری بھیجنے کے لئے وزیربلدیات کو احکامات جاری کئے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ وہ ملازمین جو کے ایم سی، ڈی ایم سیز، ایس سی یو جی سے ریٹائر ہوئے ہیں ان کی پینشن اور بقایا جات کی مد میں 3ارب 35 کروڑ روپے ادا کرنے ہیں اور یہ وہ ملازمین ہیں جو 2015 سے فروری 2020 کی مدت میں ریٹائر ہوئے، انہوں نے محکمہ فنانس کو ہدایت کی کہ کے ایم سی کے ریونیو میں اضافے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور میونسپل یوٹیلیٹی سروسز کے بلز شہریوں کو بھیجے جائیں تاکہ ان کی ادائیگی سے کے ایم سی کے ریونیو میں اضافہ ہو، اجلا س میں کے ایم سی کے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر غور و خوص کیا گیا اور محکمے کی طرف سے آنے والی تجاویز کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جو اسکیمیں رکھی گئی تھیں وہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث مکمل نہیں کی جاسکی ہیں، اگلے سال کے لئے ان اسکیموں کے لئے بھی رقم مختص کرنی ہوگی جبکہ منتخب نمائندوں،یوسی چیئرمینوں اور محکمہ جاتی سربراہان نے نئی اسکیموں کے لئے بھی تجاویز دی ہیں جن میں مختلف علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر، سیوریج اور پانی کی لائنوں، کے ایم سی کے لینڈ، مالیات، میونسپل یوٹیلیٹی سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور دیگر محکموں کی مکمل کمپیوٹرائزیشن، تفریحات کی سہولیات اور نئے پارکوں کی تعمیر شامل ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -