افغانستان میں پرتشددکارروائیوں میں اضافہ،صدر اشرف غنی میدان میں آگئے فوج کو بڑا حکم دے دیا

افغانستان میں پرتشددکارروائیوں میں اضافہ،صدر اشرف غنی میدان میں آگئے فوج ...
افغانستان میں پرتشددکارروائیوں میں اضافہ،صدر اشرف غنی میدان میں آگئے فوج کو بڑا حکم دے دیا

  

کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن) افغانستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں پر افغان صدر اشرف غنی نے  مسلح افواج کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیاہے۔

صدر اشرف غنی نے حکم دیا ہے کہ افغانستان کی مسلح افواج تشدد کے خاتمے اور دہشت گردی کی روک تھام کیلیے اب صرف دفاعی حملے نہ کرے بلکہ وہ خود دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں اور کسی کو کوئی رعایت نہ دی جائے۔

ایک ٹی وی چینل پر نشر بیان میں صدر اشرف غنی نے کہا کہ عوامی مقامات پر امن وامان کا قیام، حملوں کو روکنا، طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی طرف سے دھمکیوں کا جواب دینا مسلح افواج کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دفاعی پوزیشن سے نکل کر اقدامی کارروائی کا آغاز کریں اور دشمن کو سبق سکھائیں۔

العربیہ کے مطابق افغان صدر کی طرف سے طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف بھرپور کارروائی کے احکامات ایک ایسے وقت میں دیئے گئے ہیں جب دوسری جانب امریکا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کر رہا ہے۔

صدراشرف غنی کی جانب سے فوج کو دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات گزشتہ روز کابل کے ایک ہسپتال پر حملے اور ملک کے مشرقی علاقے میں ایک سینیر پولیس اہلکار کے جنازے پر ہوئے حملوں کے بعد جاری کی گئی ہے۔ ہسپتال پر حملوں میں خواتین اور شیر خوار بچے بھی جاں بحق ہوئے جبکہ دونوں واقعات میں کل 36افراد لقمہ اجل بن گئے۔

دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی لیکن اشرف غنی نے ان واقعات کا ذمہ دار داعش اور طالبان کو ٹہرایا ہے۔ 

خیال رہے صدر اشرف غنی نے ملک میں قیام امن کی کوششوں کے تحت افغا ن مسلح افواج کو جارحیت کے بجائے دفاعی اقدامات کی ہدایت کی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -