وہ کمپنیاں جنہوں نے کورونا کے بعد بھی گھروں سے کام کی اجازت دے دی

وہ کمپنیاں جنہوں نے کورونا کے بعد بھی گھروں سے کام کی اجازت دے دی
وہ کمپنیاں جنہوں نے کورونا کے بعد بھی گھروں سے کام کی اجازت دے دی

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا بھرمیں پھیلے کورونا وائرس کی وجہ سے کروڑوں لوگوں نے اپنی ملازمتیں گنوائی ہیں توکروڑوں ایسے بھی ہیں جو گھر سے کام کررہے ہیں۔ 

گھروں سے کام کا تجربہ کچھ کمپنیوں کیلیے اس قدر اچھا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے ملازمین کو کورونا ختم ہونے کے بعد بھی گھر سے کام کی اجازت دے دی ہے۔ اس میں سب سے بڑی ہدایات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔  گارڈین کے مطابق ٹویٹر کی جانب سے کچھ ملازمین کو اپنی باقی ساری ملازمت گھرو ں سے کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ 

 ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسی نے ایک ای میل کے ذریعے اعلان کیا کہ ملازمین کو ہمیشہ کے لیے گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

ٹوئٹر کے ترجمان نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’ٹوئٹر ان چند پہلی کمپنیوں میں سے ایک ہے جنہوں نے کورونا وائرس کے باعث ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ ملازمین کو دفاتر واپس کب آنا ہوگا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’گزشتہ چند مہینوں میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے ملازمین گھروں سے کام کر سکتے ہیں، تو اگر کمپنی کے ملازمین نے چاہا کہ وہ آگے بھی گھروں سے ہی کام کریں تو انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی جائے گی‘۔

خیال رہے ٹویٹر ملازمین دو مارچ سے گھروں سے کام کررہے ہیں اور دنیابھرمیں ان کے کاروباری سفر اور تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں۔

دوسری جانب دیگر آن لائن کمپنیوں جن میں فیس بک، گوگل ایمازون اور دیگر شامل ہیں نے بھی اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کی اجازت دے رکھی ہے۔

فیس بک اور گوگل نے اپنے ملازمین کو گھر سے کام کیلیے مزید سات ماہ دے دیے ہیں جبکہ ایمازون نے اکتوبر تک کا وقت دیا ہواہے۔

مزید :

بزنس -سائنس اور ٹیکنالوجی -کورونا وائرس -