پشاور ہائیکورٹ کے عملے میں کورونا کی تصدیق کے بعد حکام نے کیا کیا؟

پشاور ہائیکورٹ کے عملے میں کورونا کی تصدیق کے بعد حکام نے کیا کیا؟
پشاور ہائیکورٹ کے عملے میں کورونا کی تصدیق کے بعد حکام نے کیا کیا؟

  

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن)پشاور ہائیکورٹ کے عملے کے چند اراکین میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہونے کے بعد عدالتی حکام بالا نے عدالت عالیہ کو اکتیس مئی تک بند کردیاہےاور عملے کے تمام اراکین پر لازم کیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے اہلخانہ میں کورونا وائرس نہ ہونے کا حلف نامہ جمع کرائیں۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے رجسٹرار خواجہ وجیہ الدین کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر ملازمین حلف نامہ جمع کرانے میں ناکام ہوئے یا کسی کاحلف نامہ جھوٹا ثابت ہوا تو ان کے خلاف اہلیت اور تادیبی (ای اینڈ ڈی) قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ عدالتی بندش کے بارے میں فیصلہ مجاز اتھارٹی (چیف جسٹس) نے عوامی مفاد میں اور پرنسپل نشست کے ججوں، افسران اور عملے کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے لیا۔

 ڈان نیوز کے مطابق اگرچہ اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ عملے کے کتنے اراکین اس وائرس سے متاثر ہیں تاہم سرکاری ذرائع نے یہ تعداد 11 بتائی اور کہا کہ تصدیق شدہ کیسز زیادہ تر رٹ ، مجرمانہ اپیل اور پہلی اپیل پر نظرثانی کا کام کرتے تھے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ، دو سنگل رکنی اس عرصے کے دوران بینچ فعال ہوں گے جبکہ انسٹیٹیوشن برانچ صرف ضمانت کے معاملات سنبھالے گا اس سے متعلق امور کی کاپیاں جاری کرے گی۔دو پرنسپل اسٹاف آفیسر ایک کے بعد ایک کام کریں گے۔دیگر اضلاع سے وابستہ افسران اور خواتین کو ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -کورونا وائرس -