شہزادہ ہیری کی بیگم میگھن مارکل نے برطانوی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا دینے کی تیاری کرلی، اپنی کتاب میں کیا کچھ لکھ ڈالا؟ تہلکہ خیز خبر آگئی

شہزادہ ہیری کی بیگم میگھن مارکل نے برطانوی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا دینے کی ...
شہزادہ ہیری کی بیگم میگھن مارکل نے برطانوی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا دینے کی تیاری کرلی، اپنی کتاب میں کیا کچھ لکھ ڈالا؟ تہلکہ خیز خبر آگئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی شہزادے ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے شاہی خاندان چھوڑ کر پہلے کینیڈا اور اب امریکہ جا بسنے کے معاملے پر میڈیا میں بہت کچھ خبریں گردش میں رہیں۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا جاتا رہا کہ اس شاہی جوڑے کی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ شہزادی کیٹ کے ساتھ نہیں بن پائی، میگھن اور کیٹ میں لڑائیوں کی خبریں آئی اور بالآخر شہزادہ ہیری اور میگھن کے شاہی مراتب ترک کرنے کے اعلان نے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اب تک شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل اس معاملے پر خاموش تھے لیکن اب ان کی ایک کتاب منظرعام پر آنے جا رہی ہے جس میں وہ ممکنہ طور پر اپنے شاہی خاندان چھونے کی اصل وجہ سے پردہ اٹھائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی زندگی پر لکھی گئی اس کتاب کا نام ’فائنڈنگ فریڈم: ہیری، میگھن اینڈ دی میکنگ آف ماڈرن رائل فیملی‘ ہے جو رواں سال 11اگست کو عالمی سطح پر آن لائن ریلیز ہونے جا رہی ہے۔

میل آن لائن نے میگھن مارکل کے ایک دوست کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ میگھن مارکل اس کتاب کو اس سے بھی پہلے ریلیز کرنا چاہتی ہیں۔ میگھن کے دوست کا کہنا تھا کہ ”میگھن مارکل کا اس کتاب کے متعلق خیال ہے کہ یہ نیا ریکارڈ قائم کرے گی اور اس کتاب سے دنیا کو پتا چلے گا کہ کس طرح ہمارے پاس شاہی خاندان چھوڑنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا۔ لوگ اس کتاب کے متعلق جتنا سوچ رہے ہیں، اس میں اس سے کہیں زیادہ انکشافات کیے گئے ہیںا ور کہیں زیادہ حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ “ میگھن کے دوست کا کہنا تھا کہ میگھن مارکل اس کتاب کے ذریعے اپنے ’ڈیمانڈنگ ڈیوا‘ (Demanding diva)اورایک مغرورلڑکی ہونے کے تاثر کو بھی زائل کریں گی اور دنیا ان کی شخصیت کے ان پہلوﺅں سے روشناس ہو گی جو پہلے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ دوست کے مطابق میگھن مارکل کا خیال ہے کہ ”اس کتاب سے لوگوں کو پتا چلے گا کہ میں اور ہیری کتنے کٹھن حالات سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں اور اس سفر میں ہمیں کیا کچھ برداشت کرنا پڑا ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -