50 فیصد سے زیادہ مریضوں کو کورونا وائرس ایسے لوگوں سے لگا جن میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہورہی تھیں، تازہ تحقیق میں سائنسدانوں کا پریشان کن انکشاف

50 فیصد سے زیادہ مریضوں کو کورونا وائرس ایسے لوگوں سے لگا جن میں کوئی علامات ...
50 فیصد سے زیادہ مریضوں کو کورونا وائرس ایسے لوگوں سے لگا جن میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہورہی تھیں، تازہ تحقیق میں سائنسدانوں کا پریشان کن انکشاف

  

ڈبلن(مانیٹرنگ ڈیسک) کئی تحقیقات میں سائنسدان بتا چکے ہیں کہ آدھے سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں یا بہت تاخیر سے جا کر ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں اکثریت ایسی ہوتی ہے جنہیں پتا بھی نہیں چلتا اور وہ وائرس میں مبتلا ہو کر صحت مند بھی ہو جاتے ہیں۔ اب آئرلینڈ کے سائنسدانوں نے اس معاملے پرمختلف ممالک کے سائنسدانوں کی طرف سے کی جانے والی 17تحقیقات کے نتائج کا تجزیہ کرکے حیران کن بات کہی ہے۔ ان سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ آج تک دنیا میں کورونا وائرس سے جتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں ان میں سے آدھے سے زیادہ لوگوں کو ایسے افراد سے وائرس منتقل ہوا جن میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

یونیورسٹی کالج ڈبلن کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جس شخص کو وائرس منتقل ہوتا ہے اسے تو کبھی اس کی خبر نہیں ہوتی لیکن ان آدھے سے زیادہ کیسز میں جو لوگ وائرس دوسروں کو منتقل کر رہے تھے وہ بھی اس سے بے خبر تھے اور کوروناوائرس کے پھیلاﺅ میں سب سے زیادہ کردار انہی لوگوں کا تھا۔ ڈبلن کے سائنسدانوں نے جن تحقیقات کا تجزیہ کیا ہے ان کے نتائج میں ایسے لوگوں کی تعداد 33سے 80فیصد تک بتائی گئی ہے جنہیں ایسے لوگوں سے وائرس منتقل ہوا جن میں علامات نہیں تھیں۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ مریم کیسی کا کہنا تھا کہ ہر مریض کے جسم میں وائرس داخل ہونے کے بعد اس کا ایک ’انکیوبیشن پیریڈ‘ (افزائش کرنے اور اپنی تعداد بڑھانے کا عرصہ)ہوتا ہے۔ یہ عموماً 6سے 7دن ہوتا ہے۔ ان 6سے 7دنوں میں اس شخص کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے جسم میں وائرس داخل ہو چکا ہے اور وہ دوسرے لوگوں سے ملتا جلتا رہتا ہے اور انہیں بھی وائرس میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے جو بظاہر صحت مند ہوتے ہیں۔

مزید :

کورونا وائرس -