فلسطینیوں کی جنگ کون لڑے گا ؟؟؟

فلسطینیوں کی جنگ کون لڑے گا ؟؟؟
فلسطینیوں کی جنگ کون لڑے گا ؟؟؟

  

مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔۔۔ خانہ کعبہ اور اور مسجد نبویﷺ کے بعدمسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔۔۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے ۔۔۔ اس مسجد میں 5 ہزارافراد جبکہ  مسجد کے صحن میں ہزاروں لوگ  نماز ادا کر سکتے ہیں۔۔ ۔

قرآن مجید کی سورۃ الاسراء میں اللہ تعالی نے ان الفاظ کے ساتھ اس مسجد کا ذکر کیا ہے ۔۔۔

’’پاک ہے وہ زات جو اپنے بندوں کو رات ہی رات میں مسجد اقصیٰ لے گئی، جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لیے ہم اپنی قدرت کے بعض نمونے دیکھائے، یقینا اللہ ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے ‘‘۔۔۔

مسلمانوں کا دل قبلہ اول سے پہلے دن سے ہی جڑا ہوا ہے ۔۔۔۔ فلسطین کے لوگوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں پرنماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز ادا کرنا اور عبادات کرنا ہر مسلمان کا بنیادی حق ہے ۔۔۔گذشتہ دنوں جمعہ کی نماز کے دوران ان پر شیلنگ کی گئی ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور معصوم لوگوں کی جانیں لی گئی ۔۔۔ تصویروں میں یہ واضح نظر آیا کہ نماز کے دوران فلسطینیوں پر ظلم کیا گیا ۔ ظالم کو یہ بھی شرم نہ آئی کہ مسلمان صرف نماز کی ادائیگی کر رہے تھے۔۔۔ مسئلہ فلسطین ابھی بھی امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔۔۔ 

اس بار ہی نہیں بلکہ کئی سالوں سے فلسطینی قابض اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ظلم کا شکار ہوتے آ رہے ہیں۔۔ ۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان مسئلہ فلسطین پر ایک مضبوط بیانیہ رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ اگر ہم بیت المقدس سے محروم ہوئے تو مدینہ منورہ  کی  حفاظت نہیں کر پائیں  گے۔اگر مدینہ ہاتھ سے نکل گیا تو مکہ کو بھی نہیں بچاپائیں گے، اگر ہم نے مکہ کو کھودیا تو کعبہ سے بھی محروم ہو جائیں گے ۔ ۔۔مت بھولو، بیت المقدس کا مطلب استبول، اسلام آباد جکارتہ ہے ۔۔۔۔ مدینہ منورہ کا مطلب قائرہ ، دمشق اور بغداد ہے ۔ترک صدر نے ہرحوالے مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے ۔۔۔ ایک مضبوط بیانہ ہی قوموں کو ترقی کی طرف لےجاتا ہے ۔۔۔

جمعہ سے ہی غزہ میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔ ۔ تین دن میں ان حملوں کے دوران 35 افراد جان کی بازی ہار گئے اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جو کہ قابل افسوس ہے ۔ بیت المقدس کی حفاظت کرنا مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ پھر اس پر جان ومال بھی چلی جائے تو پرواہ  کس کی کرنی ہے ؟؟۔ 

مسلہ فلسطین کو تمام امت مسلمہ کو ایک ہونا چاہیے۔۔۔۔ پاکستان کی جانب سے بھی ایک مضبوط بیانیہ جاری ہونا چاہیے جس فلسطینی بھائیوں کو تسلی ملے۔۔۔ آج وزیراعظم عمران خان کا ترک صدر رجب طیب ایروان سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں وزیر اعظم کی جانب سے اور ترک صدر کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر بہیمانہ حملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔۔ ۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے اسرائیلی حملے روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں کام جاری رکھنے کا عزم کیا گیا ہے ۔۔۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے جو کہ ظاہر کرتی ہے ایک مضبوط بیانہ اور ملکر کام کرنا سے ہی مسلہ فلسطین کا حل ممکن ہے ۔۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -