کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کرنے والی ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی روبینہ خورشید کے سفر کا آغاز کس طرح ہوا ؟ پہلی مرتبہ کھل کر بتا دیا 

کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کرنے والی ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی روبینہ خورشید کے ...
کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کرنے والی ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی روبینہ خورشید کے سفر کا آغاز کس طرح ہوا ؟ پہلی مرتبہ کھل کر بتا دیا 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )رکن قومی اسمبلی محترمہ روبینہ خورشید عالم صاحبہ نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا لیکن اس دوران انہیں فیملی اور دیگر ذرائع سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، روبینہ خورشید نے بتایا کہ ان کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور وہ جب رکن قومی اسمبلی بنی تو اس وقت مسلمان نہیں تھیں ، انہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا تھا ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں شرکت کرتے ہوئے حامد میر کو خصوصی انٹرویودیا جس دوران انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کے سفر کا تذکرہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ میں 2005 میں سیاست میں آئی تھی ، پارٹی کی طرف سے مجھے یوتھ ونگ کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا اور میں نے ٹیم کے ہمراہ اس پر کام کیا ، میرے کام کو لیڈرشپ نے سراہا اور جب 2013 کے الیکشن کا وقت آیا تو میں نے اپلائی کیا ، میرا انٹرویو ہوا ، میرا تعلق کسی سیاسی گھرانے سے نہیں ہے ، مریم بی بی نے میرے کام کو سراہا اور 2013 میں خواتین کی مخصوص نشست پر میں رکن قومی اسمبلی بنی ۔

انہوں نے کہا کہ میں اقلیت کی نشست پر قومی اسمبلی میں نہیں آئی بلکہ میں خواتین کی مخصوص نشست پر آئی ہوں ، گزشتہ سال رمضان المبارک میں لاک ڈاﺅن تھا اور میں اس سے کچھ عرصہ قبل ہی یہ سلسلہ شروع کر چکی تھی ، مجھے کچھ مسائل تھے تو میں نے دورد پاک پڑھنا شروع کر دیا تھا ، میری کراچی میں ایک دوست ہے جس کا نام ڈاکٹر سیدہ منیزہ شاہ ہے ، وہ میری بہت اچھی دوست ہیں ، انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ برا نہ منائیں تو دود پاک پڑھا کریں ،انہوں نے مجھے سکھایا جس کے بعد میں پڑھتی گئی، لاہور میں ایک پروگرام تھا تو اس میں رکن اسمبلی ثانیہ ارشد بھی شریک تھیں ،وہ ہاتھ میں گنتی کی مشین پہنے کچھ پڑھ رہی تھیں ، میں نے ان سے گنتی کرنے والی مشین لی تو وہ کہنے لگیں کہ آپ کیا پڑھیں گی ، میں نے کہا کہ جو آپ پڑھ رہی ہیں وہی پڑھ لوں گی ۔

ثانیہ ارشد کے والد کا انتقال ہوا تھا اور وہ کہنے لگیں کہ میں اپنے والد کیلئے درود پاک پڑھناہے ، میں نے جب پڑھنا شروع کیا تو اڑھائی گھنٹے کی تقریب میں ، میں نے ایک ہزار مرتبہ پڑھ لیا تھا ،جب ان کو بتایا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگیں کہ اگر درود پاک ڈیڑھ لاکھ مرتبہ پڑھا جائے تو اس کی بڑی سعادت ہوتی ہے ، میں نے کہا کہ میں پڑھ دوں گی ،وہاں سے سلسلہ چلتا گیا ، میں پڑھتی رہی اور مجھے سکون ملتا رہا ، بیچ میں فیملی کی طرف سے مشکلات بھی رہیں ، میں نے اپریل اور مئی کے درمیان یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اسلام قبول کرناہے ۔

روبینہ خورشید نے بتایا کہ پانچ مئی اورجمعہ کا دن تھا جس میں فیصلہ کر چکی تھی کہ میں نے اسلام قبول کرناہے ،میںنے اس حوالے سے میجرجنرل رضا سے بات کی تو وہ مجھے کہنے لگے کہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے ،پھر انہوں نے ساری چیزوں کاانتظام کیا ، چونکہ کلمہ میں پڑھ چکی تھی لیکن مجھے فتوے کے کاغذکی ضرورت تھی، اس لیے رضا بھائی نے باقی چیزوں کو دیکھا ،چھ مئی ہفتے کے روز مفتی منیب الرحمان نے واٹس ایپ کال پر یہ سارا عمل کیا ، اس سارے معاملے میں دو گواہ خواتین بھی تھیں ،میری دوست اور ان کی بیٹی جبکہ عطا تارڑ صاحب بھی تھے ۔

مزید :

قومی -