مرہٹوں کا عروج۔۔۔۔۔۔۔۔( 1708ءسے 1748ءتک)

مرہٹوں کا عروج۔۔۔۔۔۔۔۔( 1708ءسے 1748ءتک)
 مرہٹوں کا عروج۔۔۔۔۔۔۔۔( 1708ءسے 1748ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 پیچھے بیان ہو چکا ہے کہ سیوا جی مرہٹوں کو لیے تمام دکن میں پھرتا تھا اور ان کو لوٹ کھسوٹ کا سبق سکھا رہا تھا۔ مرہٹوں نے جو دیکھا کہ روپیہ جمع کرنے کا سب سے آسان یہ طریقہ ہے تو فصل کٹتے ہی اور برسات کے ختم ہوتے ہی بڑے بڑے مسلح گروہ بنا کر ہر سال نکلنے لگے اور وسط ہند کو پامال کر ڈالا۔

 کچھ عرصے کے بعد ان کی ہمت ایسی بڑھی کہ بندھیا چل کے شمال میں دہلی تک دھاوے مارنے لگے۔ جہاں جاتے تھے وہاں کے حاکم سے چوتھ مانگتے تھے۔ جب تک چوتھ نہ ملتی تھی۔ رعیت کو ستاتے اور قتل کرتے رہتے تھے اور جو کچھ ہاتھ آتا۔ لوٹ کر لے جاتے تھے۔

 اورنگزیب کی وفات کے بعد شاہو عرف ساہو مرہٹوں کا راجہ تھا۔ یہ اس سمبھا جی کا بیٹا تھا جسے اورنگزیب نے پکڑ کر مروا ڈالا تھا۔ اس نے اورنگزیب کے دربار میں تربیت پائی تھی اور بادشاہ اس کو ساہو یعنی دیانتدار کہا کرتا تھا۔ بمقابلہ سیوا جی کے جسے وہ چور بتلایا کرتا تھا۔ جب اورنگزیب مرا تو اس کو اجازت ہو گئی کہ اپنے ملک میں چلا جائے اور وہاں بادشاہ کا فرمانبردار ہو کر مرہٹوں کا راجہ بنے۔ چنانچہ یہ مرہٹوں کا راجہ ہوا اور ستارا میں اس نے اپنی راج دھانی قائم کی۔

 لیکن ساہو ضعیف العقل اور نالائق تھا۔ عیش و عشرت کا بندہ تھا۔ محنت سے جی چراتا تھا۔ اس نے کل کام اپنے برہمن وزیر پر چھوڑ دیا جو پیشوا کہلاتا تھا۔ پیشوا کا عہدہ موروثی ہو گیا اور جس طرح ایک خاندان راجہ کا تھا۔ اسی طرح دوسرا خاندان پیشوا کا بن گیا۔ پیشوا ظاہر میں تو راجہ کا ماتحت تھا اور اسی کے نام سے سب کارروائی کرتا تھا۔ لیکن دراصل آہستہ آہستہ مرہٹوں کاحاکم اور فرمانبردار ہو گیا تھا۔ مرہٹوں کی کل قوم اس کو اپنا سردار جانتی تھی۔ صلح و جنگ کرنا اسی کی مرضی پر منحصر تھا اور وہ کل مہاراشٹر کا حاکم سمجھا جاتا تھا۔

 پہلا پیشوا بالا جی بشو ناتھ تھا۔ اورنگزیب کے مرنے کے1 سال بعد یعنی 1714ءمیں ساہو نے اس کو پیشوا بنایا اور اسی حیثیت سے یہ شخص 1720ءتک وزیراعظم بنا رہا۔ اس نے محمد شاہ کو مجبور کر کے کل دکن میں چوتھ وصول کرنے کی اجازت لے لی۔

 دوسرا پیشوا باجی راﺅ تھا۔ یہ 1720ءسے 1740ءتک حکمران رہا۔ اس نے بڑے بڑے مرہٹہ سرداروں کو حکم دیا کہ جدھر تمھارا مزاج چاہے جاﺅ اور ملک ملک سے چوتھ وصول کرو۔ محمد شاہ نے دہلی کو محفوظ رکھنے کی غرض سے مرہٹوں کو اجازت دے دی کہ دہلی کے سوا جہاں جاﺅ، وہاں چوتھ لو۔ چونکہ محمد شاہ ابھی تک برائے نام سلطنت مغلیہ کا بادشاہ تھا۔ اس لیے مرہٹوں کو حق حاصل ہو گیا کہ ہند کے ہر صوبے سے چوتھ وصول کریں۔

 اس کے عہد میں مرہٹوں کی 5 بڑی ریاستیں قائم ہوئیں۔ مرہٹہ رئیسوں نے جہاں کسی صوبیدار یا نواب کو کمزور پایا۔ اس کو صوبے سے نکال دیا۔ خود وہاں کے حاکم بنے اور چوتھ لینے لگے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -